رسائی کے لنکس

اسرائیل دِن بہ دِن تنہا ہوتا جارہا ہے: واشنگٹن پوسٹ


فلسطینی ریاست کے حق میں مارچ

فلسطینی ریاست کے حق میں مارچ

’اِس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے ترک اورعرب اسرائیل سے ناراض ہیں، لیکن اِس بات کوبھی ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ حکومتیں بھی اِن جذبات کو مزید ہوا دے رہی ہیں‘

’واشنگٹن پوسٹ‘ اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ اسرائیل فکر مند ہے کہ عرب دنیا میں اُٹھنے والی تحریکیں جو آمر حکمرانوں کے خلاف اُٹھتی تھیں اب کہیں یہودی ریاست پر حملے میں نہ تبدیل ہوجائیں۔ اور اسرائیل کی پریشانی بے جا نہیں ہے، کیونکہ گذشتہ ہفتے ایک ہجوم نے قاہرہ میں اسرائیلی سفارتخانے پر حملہ کردیا۔

اِس سے پہلے، ترکی نے اسرائیلی سفارت کار کو اپنے ملک سے نکال دیا تھا اور اس ماہ فلسطینی اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کریں گے کہ فلسطین کو ایک الگ ریاست کا درجہ دے دیا جائے۔

اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بہت سے ترک اور عرب اسرائیل سے ناراض ہیں، لیکن اِس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ حکومتیں بھی اِن جذبات کو مزید ہوا دے رہی ہیں۔

ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردغان نے، جو علاقے کے راہنما بننا چاہتے ہیں، بنیامن نتن یاہو کی حکومت کے خلاف ایک مہم جاری کر رکھی ہے۔

مسٹر اردغان اس بات پر غصے میں ہیں کہ اقوام متحدہ کی طرف سے کی گئی انکوائری میں غزہ کی ناکہ بندی کا جائز قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ترکی کے بحری جہاز کو غزہ جانے سے روکنا جائز تھا۔

اُدھر، مصرکی تحریک کے راہنماؤں اور اخوان المسلمین نے قاہرہ میں اسرائیلی سفارت خانے پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ فوجی حکمراں سفارت خانے کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اُنھوں نے شک ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے کہ عوام کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی سے توجہ ہٹانے کے لیے جان بوجھ کر ایسا ہونے دیا گیا ہو۔

اسرائیل دِن بہ دِن تنہا ہوتا جارہا ہے۔

مسٹر نتن یاہو کی حکومت اِس بحران سے بچ سکتی تھی اگر وہ ترکی کے نو کارکنوں کی ہلاکت پر معافی مانگ لیتی اور اگر غزہ میں دہشت گردوں کا پیچھا کرتے وقت اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مصر کے پانچ سکیورٹی اہل کار ہلاک نہ ہوتے۔

ادھر، مسٹر نتن یاہو فلسطینی ریاست کے لیے کسی معقول حدبندی کو تسلیم کرنے میں پس و پیش کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے محمود عباس کو اقوام متحدہ جانے کا موقع مل گیا۔

اخبار لکھتا ہے کہ یہ مغربی حکومتوں اور اسرائیل کے لیے لازمی ہے کہ وہ مسٹر عباس اور مسٹر اردغان کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات پر مزاحمت کرے۔

’فلا ڈیلفیا انکوائرر‘ اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ صدر اوباما کی طرف سے پیش کردہ ملازمتوں میں اضافے کا منصوبہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو دور کرے گا۔ اِس لیے اِسے پارٹی سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیئے۔

’امریکن جابز ایکٹ‘ بحث کے لیے پیر کو کانگریس میں بھیج دیا گیا۔ اس منصوبے سے حاصل ہونے والی رقم اسکولوں، سڑکوں اور ایئرپورٹس کی مرمت پر خرچ ہوگی۔ اِس ایکٹ کے ذریعے کوشش کی جارہی ہے کہ استادوں، پولیس اور تعمیراتی شعبے سے منسلک مزدوروں کو دوبارہ روزگار مل سکے جِن کی نوکریاں اقتصادی بحران کی وجہ سے ختم ہوگئی تھیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کانگریس بغیر کسی سیاسی طرف داری کے صدر اوباما کی بات پر کان دھرے گی یا نہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ ہم جلد دیکھیں گے کہ آیا کانگریس نے اُن ایک کروڑ 40لاکھ لوگوں کی امیدوں کی پرواہ کی یا نہیں جو اِس وقت بے روزگار ہیں۔

’واشنگٹن ٹائمز‘ نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ پچھلے 50سالوں سے سیاہ فام امریکیوں کو غربت کے چنگل سے نکالنے کی کوششیں کس قدر کامیاب ہوئی ہیں۔اِس کا جواب حال ہی میں اب اکٹھے کیے گئے اعداد و شمار سےملتا ہے۔ اِس کے مطابق ، 2009ء میں 26فی صد سیاہ فام امریکی غربت کی زندگی گزار رہے تھے، جب کہ ایسی زندگی گزارنے والے سفید فاموں کی تعداد 10فی صد تھی، اور بے روزگاری کی شرح بھی سیاہ فام افراد میں سفید فاموں سے زیادہ تھی۔

اخبار لکھتا ہے کہ آزاد خیال لوگوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں نسل پرستی بہت واضح طور پر نظر نہیں آتی لیکن یہ پھر بھی معاشرے میں موجود ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ سیاہ فام امریکیوں میں غربت کی وجہ نسل پرستی نہیں بلکہ اُن کے لیڈرشپ کا حکومت پر انحصار ہے اور حکومت نے سیاہ فاموں کو غربت سے نکالنے کے بجائےاُنھیں اُس کے اندر پھنسا کر رکھ دیا ہے۔

حکومت سماجی بہبود کے کاموں پر اربوں ڈالر خرچ کرتی ہے لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اِن پروگراموں کے امداد حاصل کرنے والوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ حالیہ معاشی بحران میں جب گھروں کی قیمتیں گریں اور بینکوں کی قسطیں ادا نہ کیے جانے کے باعث گھر چھن گئے تو نقصان اُٹھانے والوں میں سب سے زیادہ تعداد سیاہ فاموں کی تھی۔

اخبار لکھتا ہے کہ بحران مورٹگیج پروگرام کی وجہ سے ہوا جس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور اب صدر اوباما نے تعلیم کے لیے دھڑا دھڑ قرض دینا شروع کر دیے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ کوئی یہ معلوم نہیں کر رہا کہ قرض حاصل کرنے والے کتنے لوگ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بہت سے امریکی جِن میں سیاہ فام بھی شامل ہیں اتنے پڑھے لکھے نہیں ہیں کہ وہ کالج میں جانے کے قابل ہوں، جس کی وجہ سے وہ تعلیم مکمل کیے بغیر کالج چھوڑ دیتے ہیں۔

ایک حالیہ ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ اِس کا نقصان پھر اُنہی طالب علموں کو ہوتا ہے جو کہ اپنا قرضہ اتارنے کی کوشش میں پھر سے غربت کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG