رسائی کے لنکس

ضروری نہیں کہ ٹاؤن ہال میٹنگزپورے ملک کے موڈ کی عکاسی کریں: لاس ویگاس سن

  • مدثرہ منظر

مشیل باکمین

مشیل باکمین

’تعطیلات سے واپس آکر اراکینِ کانگریس وہیں سے اپنا کام شروع کریں گے جہاں سے چھوڑا تھا، اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ کانگریس میں اعتدال پسندوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، خاص طور پر ریپبلیکنز جو سمجھوتے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ مگر لوگ پارٹی بازی کا تماشہ اب اور نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ کانگریس میں پیش قدمی دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ معیشت پارٹی کی سیاست کی یرغمال بن کر نہ رہ جائے‘

اراکینِ کانگریس موسمِ گرما کی سالانہ تعطیلات منانے اپنی اپنی آبائی ریاستوں کو لوٹ گئے ہیں اور اُن میں سے بیشتر اپنے اپنے حلقے میں لوگوں کے اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں۔

اخبار’ لاس ویگاس سن‘ نے اِسی کو اپنے اداریے کا موضوع بنایا ہے۔

اخبار لکھتا ہے گذشتہ دنوں واشنگٹن میں جو سیاسی کشمکش جاری رہی، بہت سے لوگ اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ تاہم، اخبار کا کہنا ہے کہ ٹاؤن ہال میٹنگز ضروری نہیں کہ پورے ملک کے موڈ کی عکاسی کریں، کیونکہ عموماً ایسی میٹنگز پارٹی کے گن گانے کے لیے ہوتی ہیں۔

تاہم، اخبار لکھتا ہے کہ تعطیلات سے واپس آکر اراکینِ کانگریس وہیں سے اپنا کام شروع کریں گے جہاں سے چھوڑا تھا، اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ کانگریس میں اعتدال پسندوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، خاص طور پر ریپبلیکنز جو سمجھوتے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ مگر لوگ پارٹی بازی کا تماشہ اب اور نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ کانگریس میں پیش قدمی دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ معیشت پارٹی کی سیاست کی یرغمال بن کر نہ رہ جائے۔

دنیا میں دیگر بڑے واقعات کی طرح اسامہ بن لادن کی ہلاکت بھی تاریخ کا ایک بے حد اہم حصہ بن گئی ہے۔ چناچہ، ہالی وڈ کے لیے یہ موضوع کشش کا باعث بننا اچھنبے کی بات نہیں۔ چناچہ، آسکر ایوارڈ یافتہ فلمساز Kathryn Bigelowاور فلمی کہانی نویس Mark Boalنے اِس فلم بنانے کی ٹھانی اور وہائٹ ہاؤس سے معلومات حاصل کرنے کے لیے رجوع کیا۔

اخبار’ لاس اینجلس ٹائمز‘ نے ’نیو یارک ٹائمز‘ کی کالم نویس مورین داؤد کے ایک حالیہ کالم کو بنیاد بنا کر اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ اگر قدامت پسندوں کواِس بارے میں کوئی شبہ تھا کہ ہالی ووڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے پراپیگنڈے کا ذریعہ ہوسکتا ہے تو مورین داؤد نے اپنے کالم میں یہ کہہ کر یہ شک دور کر دیا ہے کہ وہائٹ ہاؤس نے صدارتی تصور اجاگر کرنے کا فریضہ ہالی ووڈ کو دے دیا ہے اور ایسے میں نیویارک کے ریپبلیکن رکنِ کانگریس پیئر کنگ کیوں خاموش رہتے۔ اُنھوں نے فوراً ایک خط سی آئی اے اور پینٹگان کو لکھ مارا کہ اِس بات کی چھان بین کی جائے کہ آیا اوباما انتظامیہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی خفیہ معلومات فلمسازوں کو تو مہیا نہیں کردیں۔

اخبار کے مطابق، اسامہ کی ہلاکت اوباما کے عرصہٴ صدارت کی اہم ترین کامیابی ہے لیکن اگر آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ڈائریکٹر بگلو یہ فلم بناتی ہیں تو اسے اوباما کے لیے ایک طویل اشتہار خیال کیا جائے گا جو بعض قدامت پسندوں کے نزدیک الیکشن کا پانسہ اوباما کے حق میں کرسکتا ہے۔

مگر اخبار لکھتا ہے کہ بگلو اور بول اس ساری بحث کے جواب میں یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک قومی موضوع ہے اور فلم تین صدارتی ادوار میں اسامہ بن لادن کو پکڑنے اور ہلاک کرنے کی کوششوں کا احاطہ کرے گا، اور جہاں تک سوال ہے فلم کے 12اکتوبر 2012ٰ کو نمائش کے لیے پیش کیے جانے کا تو اخبار کا خیال ہے کہ یہی وہ وقت ہے جب فلمساز اس فلم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پیسہ کما سکتے ہیں۔

اخبار ’واشنگٹن ٹربیون‘ کے ادارتی صفحے پر Steve Chapmanکا ایک مضمون چھپا ہے جس میں صدر اوباما کی مقبولیت میں حالیہ کمی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ چیپ مین لکھتے ہیں اوباما اقتدار میں آئے تو اس خواہش کے ساتھ کہ آزاد خیال اور قدامت پسند امریکیوں اور سرخ اور نیلی ریاستوں کے درمیان فرق کو مٹا کر رہیں گے۔

اخبار کے الفاظ میں یہ فرق بلاشبہ مٹ گیا اور اب دونوں طرف کے لوگ ایک ہی بات کہتے ہیں کہ صدر کے طور پر اوباما ناکام رہے اور بعض تو اُنھیں صدر جمی کارٹر کے مماثل قرار دیتے ہیں۔

لیکن، مصنف کا کہنا ہے کہ وجہ یہ نہیں کہ اوباما کی شخصیت یا تصورات کارٹر سے مماثلت رکھتے ہیں بلکہ آج اوباما کو بھی اسی اقتصادی بحران کا سامنا ہے جیسا کہ کارٹر کے دور میں تھا۔

مگر اخبار کے مطابق اوباما کی کامیابیوں کا شمار بھی ضروری ہے۔ اُنھوں نے اسامہ بن لادن پر حملے کا جراٴت مندانہ فیصلہ کیا، وہ عراق کی جنگ ختم کررہے ہیں، صحتِ عامہ کے نظام میں اصلاح ہو چکی ہے۔ اُنھوں نے امریکہ کی موٹر ساز کمپنیوں کو ڈوبنے سے بچایا، مالیاتی اداروں پر نئے ضابطے لاگو کیے، اُنھوں نے روس کے ساتھ ایٹمی اسلحہ میں تخفیف کا معاہدہ کیا، اسکولوں کو بڑے پیمانے پر جدید بنانے کا کام شروع کیا، جس کی تعریف تو قدامت پسندوں نے بھی کی، اور مشتبہ دہشت گردوں کو ایذائیں دینے کا سلسلہ بند کروایا۔

مگر مصنف کہتے ہیں چار سال کی غیر متحرک اور بحران کی شکار معیشت نے اوباما کی مقبولیت کو گہنا دیا۔ بے شک کوئی بھی صدر بیمار معیشت کی زرد روشنی میں اپنی ذاتی خصوصیات کو تابناک نہیں بنا سکتا۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG