رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: صدر اوباما کی مقبولیت میں کمی

  • صلاح الدین

امریکی اخبارات سے: صدر اوباما کی مقبولیت میں کمی

امریکی اخبارات سے: صدر اوباما کی مقبولیت میں کمی

نُیوٹ گنگرِچ کی عدم مقبولیت کی شرح اوباما کی طرح 48 فی صد ہے۔ لیکن، ان کے موافق ووٹوں کا تناسب 35 فی صد ہے، جو اوباما کے مقابلے میں 13 پوائنٹ کم ہے

’واشنگٹن پوسٹ‘ اور’اے بی سی نیوز‘ کےایک مشترکہ استصواب سےظاہرہوتا ہے کہ صدر براک اوباما کی عوامی مقبولیت اس وقت اپنےعہدِ صدارت کے وقت کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، لیکن وہ اب بھی ری پبلکن نُیوٹ گنگرِچ کے مقابلے میں زیادہ ہردلعزیز ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس استصواب میں 49 فی صد امریکیوں کی اوبامہ کے بارے میں رائے غیرموافق تھی اور48 فیصد کی موافقت میں تھی۔ یہ پہلا موقع ہےکہ مقبولیت جانچنے کے اس بنیادی طریق کار کے مطابق ان کےمنفی ووٹ مثبت ووٹ کےمقابلےمیں زیادہ ہیں۔ جس وقت انہوں نے اقتدار سنبھالا تھا ان کی مقبولیت کی شرح 79 فی صد تھی، جو اس وقت 31 پوائنٹ گر گئی ہے۔

نُیوٹ گنگرِچ کی عدم مقبولیت کی شرح اوبامہ کی طرح 48 فی صد ہے۔ لیکن، ان کے موافق ووٹوں کا تناسب 35 فی صد ہے، یعنی اوباما کے مقابلے میں 13 پواینٹ کم۔

اسی طرح رائیٹرز اِ پساس نے جو استصواب کرا یا ہے اس کے مطابق نیٹ گنگرچ کو اپنے ری پبلکن حریفوں کے مقابلے میں پارٹی کی صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں دس پواینٹس کی سبقت حاصل ہے۔ لیکن، صدر اوباما کے ساتھ مقابلے میں ان کی پوزیشن کمزور ہے۔

اس وقت جب آئیووا کے ری پبلکن نامزدگی مقابلے میں صرف تین ہفتے رہتے ہیں۔ اس استصواب کے مطابق گنگرچ اپنے باقی حریفوں کے مقابلے میں 28 سے لے کر 18 پواینٹس آگے ہیں، لیکن اسی استصواب نے ان سوالوں کو جنم دیا ہے کہ آیا گنگرِچ جو حالیہ ہفتوں کے دوران رائے عامّہ کے ریپبلکن جائزوں میں اپنے پارٹی میں چوٹی پر پہنچ چکے ہیں، اوباما کو شکست دے سکیں گے۔ چنانچہ، اس رائے شماری سے پتہ چل گیا کہ اگر انتخابات آج ہوتے ہیں، تو اوباما گنگرچ کو 38 کے مقابلے میں 51 فی صد کے فرق سےشکست دیں گے، جب کہ دوسرے نمبر کے ری پبلکن امیدوار مٹ رامنی سےمقابلہ ہوا تو انہیں اس سےکم تناسب یعنی 40 کے مقابلے میں 48 فیصد سے ہرا دیں گے۔

رپورٹ میں تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہےکہ ان نتائج سے اُن خطروں کی نشان دہی ہوتی ہے جن کا ری پبلکنون کو گنگرچ کو صدارتی امید وار نامزد کرنے کی صورت میں سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا ایسی اشتعال انگیز تقریریں کرنے کاشہرہ ہےجن سے خود مختار ووٹر ان کے مخالف ہو جائیں گے اس کی ایک مثال یہ دی جاتی ہے کہ انہوں نے فلسطینیوں کو ایک ایجاد کردہ قوم قرار دیاہے۔

اس ماہ تمام امریکی فوجی عراق سے نکل آئیں گے۔ اس پر ’نیو یارک پوسٹ‘ میں کالم نگارامیر طاہری رقمطراز ہیں کہ عراق کے آزاد ہونے کے بعد عرب سیاسیات میں عوام کی حاکمیت اعلیٰ کے تصوّر کو مقبو لیت حاصل ہوئی، جہاں روائتی نظریہ یہ ہوا کرتا تھا کہ سیاسی طاقت کا سر چشمہ شاہی محلّات، مدرسے، فوجی بیریکیں، سیکیورٹی افواج یا قبائلی جرگے ہیں۔ مضمون نگار کے بقول، عراق کی نئی جمہوریت بے عیب نہیں ہے۔ لیکن، عراقیوں کی بھاری اکثریت محسوس کرتی ہے کہ ان کی دنیا صدام حسین کے بغیر بہتر ہے۔ اور عراق کی آزادی کے مخالفین نے جن خوفناک باتوں کی پیش گوئی کی تھی ان میں سے ایک بھی صحیح ثابت نہیں ہوئی ۔ امریکی فوجی ایک طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق ملک سےجا رہے ہیں۔ وہ عراقی عوام سے بھاگ کر نہیں جا رہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ غالباً عراقیوں کی اکثریت کی خواہش تھی کہ امریکی فوج وہاں رہے۔عراق کے لوگ غربت اور فاقہ زدگی کی طرف نہیں دھکیلے گئے ہیں، بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بقول مشرق وسطیٰ میں عراق کی معاشی نمو کی رفتار سب سے تیز ہے۔ اس جھوٹ کا پول بھی کُھل گیا ہے کہ امریکہ وہاں عراق کا تیل ہتھیانے کے ارادے سے گیا تھا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے ، کہ امریکی تیل کمپنیوں کو عراق میں تیل کے ٹھیکے لینے میں تامّل ہے۔

اس کے مقا بلے میں عراق روس، چین، فرانس اور ہندوستاان سمیت 40 ملکوں کے ساتھ درجنوں ٹھیکے کر چکا ہے، یہ بات بھی غلط ثابت ہو چکی ہے کہ امریکہ عرق کو اپنا فوجی اڈّہ بنانا چاہتا ہے۔ 2003 ء سے کم از کم دس لاکھ امریکی شہریوں اور فوجیوں نے عراق میں خدمات سرانجام دی ہیں،جن کے لئے ان کے سر فخر سے بلند ہیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG