رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات کے مضامین اور اداریے: لاشوں کی بے حرمتی


امریکی اخبارات کے مضامین اور اداریے: لاشوں کی بے حرمتی

امریکی اخبارات کے مضامین اور اداریے: لاشوں کی بے حرمتی

سات سال بعد بھی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عراق کی ابو غُریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصویریں امریکہ کی عراق میں موجودگی پر ایک بدنما داغ ہیں۔ اور اب، ملکی ساکھ پر ایک نیا دھبہ اِس وڈیو کی صورت میں لگ گیا ہے، جس میں امریکی میرینز کو طالبان کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے: نیو یارک ٹائمز

امریکہ کے زیادہ تر اخبارات نے اُس وڈیو کے بارے میں اداریے شائع کیے ہیں ِجس میں کچھ امریکی فوجیوں کو طالبان کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

’خود ہی لگایا ہوا زخم‘ کے عنوان سے ’نیو یارک ٹائمز‘ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ سات سال بعد بھی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عراق کی ابو غُریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصویریں امریکہ کی عراق میں موجودگی پر ایک بدنما داغ ہیں۔ اور، اب، ملکی ساکھ پر ایک نیا دھبہ اِس وڈیو کی صورت میں لگ گیا ہے، جس میں امریکی میرینز کو طالبان کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اِس سے افغانستان میں امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہورہا ہے، جہاں پہلے ہی لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ امریکی اسلام کی قدر نہیں کرتے۔

اخبار لکھتا ہے کہ صدر اوباما نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں ابھی شروع ہی کی تھیں اور اِس سلسلے میں اُنھیں صدر کرزئی کی مدد چاہیئے تھی، لیکن اِس نئے بحران سے پہلے ہی بگڑے ہوئے تعلقات کو بہتر کرنے میں مزید مشکل پیش آجائے گی۔

اخبار لکھتا ہے کہ طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ اِس وڈیو سے امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اگریہ سچ ہے تو یہ ایک اچھی خبر ہے۔ تاہم، اِس سے مذاکرات پیچیدہ ضرور ہوجائیں گے۔

ٹموتھی کوڈھو سابق امریکی میرین افسر ہیں اور اُس بٹالین میں شامل تھے جو ہیلمند کا یہ علاقہ میرینز کی تیسری بٹالین کے حوالے کرکے آئی تھی، جس کے کچھ فوجیوں نے یہ حرکت کی۔’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ اُن چار میرینز نے اُس سارے کام کو تہ و بالا کردیا جو اُن کی یونٹ نے اِس سے پہلے سات ماہ میں کیا تھا۔

وہ لکھتے ہیں کہ جب وہ افغانستان میں تھے تو لڑائی کے بعد ہمیشہ دشمن کی لاشوں کو اکٹھا کرتے تھے اور اُن کی شناخت کا عمل شروع ہوجاتا تھا۔اِس کے بعد یہ لاشیں افغان فوجیوں کے حوالے کردی جاتی تھیں، تاکہ اُن کو صحیح طریقے سے دفنایا جا سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ اُن کو یہ کہنے میں کوئی شرم نہیں کہ اُن کی یونٹ میں وہ کبھی کبھی دشمن کی موت پر خوشی مناتے تھے۔ ’ایک دِن 2010ء میں جب ہمارا ایک ساتھی ہلاک ہوگیا تو ہم نے دو مزاحمت کاروں کو سڑک پر بم نصب کرتے دیکھا۔ ہم نے اُن پر میزائل سے حملہ کیا، جِس میں ایک مزاحمت کار ہلاک ہوگیا۔ ہمیں بہت خوشی ہوئی ،کیونکہ ہمیں لگا کہ ہم نے بدلہ لے لیا ہے۔ تاہم، وہ مزاحمت کار جو اِس حملے میں زخمی ہوا تھا اُس کو مقامی لوگ ہماری بیس پر لے آئے، جہاں ہم نے اُس کو طبی امداد دی اور علاج کیا۔‘

کالم نگار لکھتے ہیں کہ میدانِ جنگ میں دشمن کی موت پر خوشی منانا اُن کی لاشوں کو بے حرمت کرنے سے بالکل مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کے باوجود ایک دفعہ جب کوئی ہلاک ہوجاتا ہے تو پھر انسانیت کے تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں اور خاص طور پر افغانستان میں تو اکثر لاشوں کو حوالے کرتے ہوئے مرنے والوں کے خاندان والوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا پڑتا ہے۔

کالم نگار لکھتے ہیں کہ افغانستان میں تعیناتی کے دوران ہم نے کوشش کی کہ راستوں کو محفوظ بنائیں، مقامی معشیت کو بہتر کیا جائے اور دیہاتوں میں رہنے والے افغانوں سے دوستی کی جائے۔ اور ہمیں پتا تھا کہ اُن کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ہمیں چائے کےان گنت کپ پینے پڑیں گے اور اُن کے ساتھ اُن کے کچے گھروں میں زمین پر آلتی پالتی مار کر اُن کے ساتھ کئی دفعہ کھانا کھانا پڑے گا۔

میری بٹالین کے پانچ ارکان یہی کرتے ہوئے ہلاک ہوئے اور امریکہ واپس آکر اُن کے لیے منعقد کی گئی یادگاری تقریب کے دوران میں نے اُن کے خاندان والوں سے کہا تھا کہ اُن کے پیاروں کی قربانی رائیگان نہیں گئی۔ اُس وقت تو یہ سچ تھا لیکن کیا اب بھی میں یہ کہہ سکتا ہوں؟

اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ نے اپنے اداریے میں ایران کے ایک جوہری سائنس داں کی ہلاکت کو موضوع بنایا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ بیشک ایران کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری اسرائیل کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ لیکن، ہم ایران کو اس سے باز رکھنے کی کوششوں میں کتنا دور تک جائیں گے؟ ایران پر اقتصادی پابندیاں لگانا ایک بات ہے، لیکن ایران کے کمپیوٹروں میں وائرس ڈال دینا اور اُس کے سائنس دانوں کو قتل کرنا کہاں تک جائز ہے؟

اخبار لکھتا ہے کہ ایران کے ایک جوہری سائنس دان مصطفیٰ احمدی روشن اطلاعات کے مطابق ایک کار بم حملے میں ہلاک ہوئے۔ یہ بم ساتھ گزرتی ہوئی موٹر سائیکل سوار شخص نے ایک مقناطیس کے ذریعے گاڑی پر چسپاں کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG