رسائی کے لنکس

امریکی قومی قرضےکی حدکا تعین، تعطل پر مِچ مکانل کی تجویز

  • صلاح احمد

13جولائی کوحکومت کےقرض لینے کے اختیار پرصدراوباما کی صدارت میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والا اجلاس

13جولائی کوحکومت کےقرض لینے کے اختیار پرصدراوباما کی صدارت میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والا اجلاس

اِس تجویز کے تحت صدر اوباما 2012ء کے اواخر تک جب اُن کی موجود میعادِ صدارت ختم ہوجائے گی قومی قرضے کی حد کو تین مرتبہ پچیس کھرب ڈالر کے تناسب سے بڑھا دیں گے

امریکی سینیٹ میں ری پبلیکن ارکان کےلیڈرمِچ مکانل نے قومی قرضےپرموجودہ تعطل کو دور کرنے کی جو تجویز رکھی ہےاُس کا بعض اخبارات نے مشروط خیر مقدم کیا ہے، گو’ نیویارک ٹائمز‘ نے اُسے پیچیدہ قرار دیا ہے۔

اِس تجویز کے تحت صدر اوباما 2012ء کے اواخر تک جب اُن کی موجود میعادِ صدارت ختم ہوجائے گی قومی قرضے کی حد کو تین اقساط میں پچیس کھرب ڈالر کے تناسب سے بڑھا دیں گے۔

کانگریس تینوں بار اِس اضافے پر ووٹ کے ذریعے ہراضافے کومسترد کرسکتی ہے، لیکن صدرنا منظوری کی قراردادوں کو ویٹو کرسکتے ہیں جِس کےبعد قرض کی حد بڑھ جائے گی۔

صدر قرض کی نئی حد کے برابر اخراجات میں امکانی کٹوتیوں کی نشاندہی کریں گے، لیکن اِس کے لیے اُنھیں دونوں ایوانوں میں جانا نہیں پڑے گا۔

’نیویارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ اِس تجویز کا مقصد واضح طور پر یہ ہے کہ قرض کی حد بڑھانے کی ذمہ داری ری پبلیکنز کی بجائے خود صدر پر آئے گی۔

کانگریس میں ہر ریپبلیکن فخر سے قرض کی حد بڑھانے کے خلاف ووٹ دے گا۔ لیکن یہ حد پھر بھی بڑھ جائے گی، کیونکہ ری پبلیکنز کے پاس اتنے ووٹ نہیں ہیں کہ صدر کے ویٹو کو نارکارہ بنا سکیں۔

لہٰذا، اخبار کی رائے یہ ہے کہ موجودہ حالات میں یہ اچھا سودا ہے جِس کی مدد سے قرضہ لوٹانے میں ناکامی کی خِفّت سے بچا جاسکتا ہے۔

اخبار مزید کہتا ہے کہ مسٹر مکانل قرضہ بڑھانے کا الزام مسٹر اوباما کے سرتھوپنا چاہتے ہیں۔اُنھیں امید ہے کہ اُن کی اِس چال سے ری پبلیکن پارٹی کو سینیٹ اور وائٹ ہاؤس دونوں پر قبضہ کرنے میں مدد ملے گی۔

اِسی موضوع پر’ واشنگٹن پوسٹ ‘ایک اداریے میں کہتا ہے کہ مسٹر مکانل کی اسکیم سے قرض کی سطح کے بحران سے بچا جاسکتا ہے اور یہ حل کتنا ہی گھناؤنا کیوں نہ ہو کم از کم یہ اقتصادی بربادی کا ایک متبادل تو فراہم کرتا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اگر اِس وقت کوئی سمجھوتہ نہیں طے پاتا، خواہ وہ کتنا محدود ہی کیوں نہ ہو، تو پھر کب طے پائے گا۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ بھی مسٹر مکانل کی اسکیم کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ اسکیم کتنی ہی نا پسندیدہ کیوں نہ ہو کم از کم اِس کی بدولت اُس اقتصادی بربادی سے بچنے کا ایک متبادل تو فراہم ہوتا ہے جو کانگریس کی طرف سےامریکہ کی مالی ساکھ پر دست اندازی کرنے کی صورت میں آسکتی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اگر اِس وقت ملک کےمالیاتی مسئلے کا کوئی محدود سا بھی حل نہیں نکل سکتا تو پھر کب نکلے گا؟

اخبار کا خیال ہے کہ مسٹر مکانل کی اسکیم سے بُزدلی اور غیرذمہ دارانہ پن کی سیاسی پردہ پوشی ہوتی ہے، لیکن اگر واشنگٹن سے یہی کچھ بن پڑتا ہے تو پھر یہ کم از کم کچھ نہ ہونے سے تو بہتر ہے۔

اخبار’ فلاڈلفیا انکوائرر‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ مچ مکانل یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ قرض کی حد پرجو تعطل موجود ہے وہ سیاست کی بھی اُسی حد تک پیداوار ہے جتنی کہ مالی پالیسی کی۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک موجودہ صدر وائٹ ہاؤس میں ہیں اُس وقت تک ایک حقیقی حل غالباً ناقابلِ حصول ہوگا۔

جب مسٹر مکانل کو مصالحت کی کوئی صورت نظر نہیں آئی تو پھر اُنھوں نے اپنی وہ تجویز پیش کی جِس کےتحت صدر ایک حکم کے ذریعے حکومت کے قرض لینے کےاختیارات کو بڑھا سکتے ہیں۔

کانگریس پھر بھی قرض کی حد بڑھانے پر ووٹنگ کر سکتی ہے لیکن اِس میں اُسے صدر کے ویٹو کا سامنا رہے گا۔ اخبار کہتا ہے کہ ری پبلیکن سمجھوتہ نہ کرنے پر اصرار کرنے سے خود اپنی پارٹی کو حالات کےلیےمورد ِالزام ٹھہرا رہے ہیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG