رسائی کے لنکس

ہلری کلنٹن کہہ چکی ہیں کہ تعزیرات عائد ہُوئیں، تو پاکستان کا خاص طور پر نُقصان ہوگا، کیونکہ اُس کی معیشت پہلے ہی مُشکلات میں گِھری ہوئی ہے

’لاس انجلس ٹائمز‘ کی رپورٹ ہے کہ ایران کی گیس پائپ لائن کے منصوبے کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں مزید تناؤ آ گیا ہے۔اس کے سبب، امریکہ کی طرف سے تعزیرات لگائی جا سکتی ہیں اور اس میں ایک مُشکل لیکن کلیدی اتّحادی کےساتھ تعلّقات ٹوٹ جانے خطرہ موجود ہے ۔

پاکستان کو توانائی کے نئے ذرائع کی بُری طرح ضرورت ہے اور اُس نے برملا کہہ دیا ہے کہ وُہ ایران سے گیس درآمد کرنے کے منصوبے پر امریکہ کی طرف سے اس انتباہ کے باوجُودعمل در آمد کرے گاکہ اگر اُس نے ایسا کیا تو اُس کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ اور جیسا کہ وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کانگریس کو بتا چُکی ہیں ، اگر پائپ لائین کی تعمیر صرف ایران نے یا دونوں ملکوں نے مل کر شروع کی تو اس سے ایران کے خلاف تعزیرات سے متعلّق امریکی قانون کی خلاف ورزی ہوگی ۔

ہلری کلنٹن نے کہا تھا کہ تعزیرات عائد ہُوئیں ، تو پاکستان کا خاص طور پر نُقصان ہوگا ، کیونکہ اُس کی معیشت پہلے ہی مُشکلات میں گھِری ہوئی ہے ۔ لیکن اس سے پاکستان ٹس سے مس نہیں ہوا ہے، کیونکہ جیسا کہ وزیر خارجہ حنا ربّانی کھر نے کہا ہے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ گیس کہاں سے آ رہی ہے۔

امریکہ نے پاکستان اور ہندوستان کو متبادل ذرائع، مثلاً ترکمانستان سے افغانستان کے راستےگیس درآمد کرنے کا مشورہ دیا ہے لیکن افغانستان دس سال سے جنگ کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور پاکستانی ماہرین کو شُبہ ہے کہ اس راستے سے کوئی پائپ لائن کبھی تعمیر ہو سکے گی۔

اخبار کہتا ہے کہ پائپ لائن کے اس منصوبے کو روکنا واشنگٹن کی اُس سکیم کا حصّہ ہےجس کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ ڈال کراُسے ایٹم بم بنانے سے روکنا ہے۔ لیکن اسی قسم کی پابندیاں پاکستان کی معیشت کے لئے تباہ کُن ثابت ہو سکتی ہیں جو پہلے ہی سالہاسال کی عسکریت پسندی اور بین الاقوامی قرضوں کی وجہ سے کمزور ہو چُکا ہے۔ اس قسم کے اقدام سے پاکستان کے ساتھ واشنگٹن کے تعلّقا ت کو ناقابل تلافی نُقصان پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان مشکل اتحادی ثابت ہوا ہے لیکن افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا آیا ہے ۔

یوں بھی پاکستانی تجزیہ کار واشنگٹن کی تنبیہوں کو قبل از وقت سمجھتے ہیں،کیونکہ گیس پائپ لائن کی تعمیر ابھی دُور کی بات ہے۔ ایران نے سرحد تک ا پنے حصّے کی پائپ لائن مکٕمّل کر لی ہے، لیکن پاکستان نے ابھی اپنے حصّے پر کام شروع بھی نہیں کیا اور اس کی تعمیر کے لئے ا یک ارب بیس کروڑ ڈالر کی رقم حاصل کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے جس میں اُسے دُشواریاں پیش آرہی ہیں ۔

امریکہ کے ایک سابق وزیر محنت اور اقتصادی ماہر رابرٹ رائش ’فلوریڈا ٹائمز یونین‘ اخبار میں ایک مضموں میں کہتے ہیں کہ ملک کی شرح نمو بڑھ رہی ہے ۔۔پچھلے سال کی آخری سہ ماہی میں یہ شرح تین فی صد تھی،فرور ی میں روزگار کے دو لاکھ 27 ہزار نئے مواقع پیدا کئے گئے۔

امریکہ اس وقت 2007 ءکے مقابلے میں جب کسادبازاری شروع ہوئی تھی زیادہ مصنوعات اور سروِسز پیدا کرتا ہےاور وہ بھی ساٹھ لاکھ کم کارندوں کی مدد سے۔ کمپنیوں نے اپنے اخراجات کم کر کے منافعے بڑھا لئے ہیں۔ اس کے لئے وہ ایک تو اسامیوں کی تعداد کم کر رہے ہیں ۔ یا یہ اسامیاں سمندر پار بھیج رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ انسانوں کی جگہ کمپیوٹروں ، سافٹ وئیر، اور انٹرنیٹ سے بھی کام لیا جا رہا ہے ۔رابرٹ رائش کہتے ہیں کہ بادی النظر سے تو بڑا کارنامہ لگتا ہے ، کہ پیداواریت میں اضافہ ہو رہا ہے اور فالتو وقت بچ رہتاہے۔

لیکن اس پیداواریت کا جو حصّہ اُجرتوُں اور تنخواہوں کی شکل میں ہر شخص کے حصّے آتا ہے وُہ 1945 ءکے مقابلے میں کم ہے۔ پانچ سال قبل برسرِروزگار امریکیوں کی شرح63 اعشاریہ 3 تھی ، جو اب کم ہو کر58 اعشاریہ 3 رہ گئی ہے۔ امریکی معیشت کو مہمیز دینے والی چیز صار فین کی خریداری نہیں ہے، بلکہ صنعت کاروں کی نئی ٹیکنالوجی کی خریداری اور اپنے سامان ِِ فروخت میں اضافہ کر نا ہے لیکن کاروباری لوگوں کی یہ سرمایہ کاری اور خریداری زیادہ دیر نہیں چل سکتی ۔ جب تک صارفین خرچ کرنا نہ شروع کریں۔ یہی امریکی معاشرے کی بنیادی مشکل ہے۔اور جب تک اس کو دُور نہ کیا جائے روز گار کی بحالی مسلہ بنی رہے گی ۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کا کہنا ہے کہ ایشیائی حکومتیں اپنے صنعت کاروں پر زور ڈال رہی ہیں کہ وُہ محنت کشوں میں بد امنی کو روکنے کے لئے اُن کی اُجرتوں میں اضا فہ کریں۔ چنانچہ ملایشیا کی حکومت نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ کم سے کم اُجرت میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے پہلے ٹھائی لینڈ سے لے کر انڈونیشیا کی حکومتیں ایسا ہی قدم اُٹھا چُکی ہیں ۔ پچھلے دو سال کے دوران چین نے سالہا سال سے امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کے پس منظر میں اُجرتیں بڑھانے کے لئے قدم اُٹھائے تھے۔ اخبار کہتا ہے کہ ایشائی حکومتوں کے اجرتیں بڑھانے کے پیچھے ایک تو یہ جذبہ کار فرما تھا کہ اس سے صارفین زیادہ خرچ کریں گے ۔ جس سے شرح نمو میں اضافہ ہوگا۔ ایک وجہ اس خلفشار سے بھی بچنا تھا جس کے سبب مشرق وسطیٰ میں کئی ملکوں کی حکومتوں کا تختہ اُلٹا گیا۔

اخبار کہتا ہے کہ سیاسی لیڈر کہتے ہیں کہ اُن کے لئے یہ قدم اُٹھانے کےسوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ ووٹروں کو دوسرے ملکوں سے اُجرتیں بڑھ جانے کے بارے میں بہتر معلومات مل رہی ہیں اور جو وُہ انٹڑ نیٹ کی وساطت سے حاصل کرتے ہیں۔ انڈونیشیا اور ٹھائی لینڈ جیسے ملکوں میں کم آمدنیوں والے لوگوں نے جو احتجاجی مظاہرے کئے ۔ اُن کی وجہ سے بھی ان حکومتوں پر اُجرتیں بڑھانے کے لئے دباؤ پڑا۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG