رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: افغان مسئلے کے حل کی کنجی پاکستان کے پاس

  • عمیر ریاض

'واشنگٹن پوسٹ' لکھتا ہے کہ افغانستان کے بارے میں پاکستان کی پالیسی ایک عرصے سے واضح اور یکساں چلی آرہی ہے لیکن اس کے برعکس خطے سے متعلق امریکی پالیسیاں غیر متوازن اور اونچ نیچ کا شکار ہیں

امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کا دارومدار امریکہ سے زیادہ پاکستان پر ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ اپنی مغربی سرحد پر ایک دوست حکومت کے قیام کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں اور انہوں نے اس کے لیے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی دائو پر لگادیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے پاکستان کی یہی پالیسی پاک امریکہ تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو مستحکم افغانستان کے حصول کی راہ میں بھی مزاحم ہورہی ہے۔

'واشنگٹن پوسٹ' لکھتا ہے کہ افغانستان کے بارے میں پاکستان کی پالیسی ایک عرصے سے واضح اور یکساں چلی آرہی ہے لیکن اس کے برعکس خطے سے متعلق امریکی پالیسیاں غیر متوازن اور اونچ نیچ کا شکار ہیں۔

اخبار کے مطابق امریکہ افغانستان میں تمام فریقین کی مفاہمت سے ایک سیاسی نظام کی تشکیل کا خواہاں ہے۔ لیکن امریکی حکام کے پاس اس سوال کا جواب موجود نہیں کہ اگر افغانستان کے بیشتر باشندوں نے ایسی حکومت کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا جیسی پاکستان چاہتا ہے، تو پھر کیا ہوگا۔

'واشنگٹن پوسٹ' لکھتا ہے کہ ماضی میں بھی پاکستان کی حامی طاقتیں افغانستان میں سرگرم رہی ہیں اور مشکل یہ ہے کہ دیگر قوتوں کے مقابلے میں یہ طاقتیں ہی زیادہ بہتر ہیں۔

اخبار کے مطابق پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے افغانستان کے بارے میں اپنے پتے انتہائی مہارت سے کھیل رہے ہیں جب کہ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، خطے میں امریکہ کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے۔

اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' نے اپنے اداریے میں مصر کی اعلیٰ ترین عدالت کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے جس کے تحت ملک کی نومنتخب پارلیمان کو غیر آئینی قرار دے دیا گیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے نے مصر کی تقدیر ایک بار پھر ملک کے موجودہ فوجی حکمرانوں کے ہاتھ میں دیدی ہے اور اقتدار کی سول حکومت کو جلد متنقلی دیوانے کا خواب لگنے لگی ہے۔

'وال اسٹریٹ جرنل' کے مطابق عدالت کے فیصلے کے بعد امکان ہے کہ 520 رکنی نومنتخب اسمبلی تحلیل کردی جائے گی جب کہ پارلیمان کی جانب سے نامزد کردہ وہ 100 رکنی خصوصی کمیٹی بھی غالباً تحلیل ہوجائے گی جسے ملک کے نئے آئین کی تیاری کا کام سونپا گیا تھا۔

اخبار لکھتا ہے کہ عدالتی فیصلے کی تشریح اور اس پر عمل درآمد کا کام مصر کی حکمران فوج کرے گی جو گزشتہ چھ دہائیوں سے ملک میں طاقت کا منبع رہی ہے۔

'وال اسٹریٹ جرنل' لکھتا ہے کہ صدر حسنی مبارک کے زوال اور عوام کی نظر میں معتوب ان کے چند قریب ترین ساتھیوں سے چھٹکارا پانے کے بعد مصر کی اسٹیبلشمنٹ خود کو سنبھال چکی ہے اور اقتدار پر اپنی گرفت قائم رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

اخبار کے مطابق گو کہ مصری عدالت کا فیصلہ حیرت انگیز حد تک مایوس کن ہے لیکن نہ تو اسے غیر متوقع قرار دیاجا سکتا اور نہ ہی یہ مصر کی نوزائیدہ جمہوریت کے لیے موت کی گھنٹی ہے۔

'وال اسٹریٹ جرنل' لکھتا ہے کہ یہ فیصلہ مصری اسٹیبلشمنٹ نے بہت ناپ تول کے کیا ہے اور اس کا مقصد ایک ایسی بے ضرر جمہوریت کے لیے راہ ہموار کرنا ہے جس پر تمام شراکت دار متفق ہوں۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ اس جمہوریت کی طرف پیش قدمی کے تمام فیصلے اور جوڑ توڑ اب بند دروازوں کے پیچھے ہوں گے جیسے ماضی کے آمرانہ دور میں ہوتے رہے ہیں۔

اخبار 'نیو یارک ٹائمز' نے جیلوں پر اٹھنے والے بھاری اخراجات پر امریکی ریاستوں کی تشویش کو اپنے ایک اداریے کا موضوع بنایا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ امریکہ کی ریاستی اور وفاقی جیلوں میں قید افراد کی تعداد گزشتہ 20 برسوں کے دوران دوگنی ہوگئی ہے۔ اس وقت امریکی جیلوں میں 15 لاکھ سے زائد قیدی موجود ہیں جن پر سالانہ 57 ارب ڈالر خرچ ہورہے ہیں۔

'نیو یارک ٹائمز' لکھتا ہے کہ شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ معمولی جرائم کے مرتکب افراد کو طویل عرصے تک جیلوں میں رکھنے سے اخراجات تو بڑھتے ہیں لیکن اس کا معاشرے کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ کئی امریکی ریاستوں میں فوجداری قوانین میں ترمیم کے مطالبات سامنے آرہے ہیں تاکہ معمولی جرائم کے مرتکب افراد کو قید میں رکھنے کے بجائے ان کی اصلاح کے لیے دیگر کم خرچ طریقے اختیار کیے جاسکیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG