رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: روس، نیٹو تعلقات اور امریکی منڈیوں کی صورت حال

  • عمیر ریاض

اخبار لکھتا ہے کہ آئندہ ہفتے امریکی شہر شکاگو میں ہونے والے نیٹو کے سربراہی اجلاس کے طویل ایجنڈے میں دنیا جہان کے موضوعات سمیٹ دیے گئے ہیں لیکن جس مسئلے کا ذکر نہیں، وہ ہے نیٹو اور روس کے باہمی تعلقات۔

ایک ایسے وقت میں جب یورپ میں میزائل دفاعی نظام کی تنصیب پر روس اور نیٹو میں کشیدگی عروج پر ہے، امریکی اخبار 'کرسچن سائنس مانیٹر' نے تجوز دی ہے کہ روس کو نیٹو کی رکنیت دیدی جائے۔

اخبار لکھتا ہے کہ آئندہ ہفتے امریکی شہر شکاگو میں ہونے والے نیٹو کے سربراہی اجلاس کے طویل ایجنڈے میں دنیا جہان کے موضوعات سمیٹ دیے گئے ہیں لیکن جس مسئلے کا ذکر نہیں، وہ ہے نیٹو اور روس کے باہمی تعلقات۔

نیٹو کے اراکین سمیت 50 سے زائد ممالک کے سربراہان اس دو روزہ اجلاس کے دوران میں مالی بحران کے باعث دفاعی اخراجات میں کمی، لیبیا جنگ کے نتائج، افغانستان سے انخلا، ایشیا کے ساتھ نیٹو کے تعلقات اور سائبر سیکیورٹی سمیت درجنوں موضوعات پر گفتگو کریں گے۔ لیکن وہ معاملہ جس سے نیٹو کا مستقبل جڑا ہے یعنی اس کے روس کے ساتھ تعلقات، ایجنڈے سے غائب ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ نیٹو اور روس کے تعلقات میں اعتماد سازی کی کوششوں کے باوجود سرد مہری برقرار ہے جس کے خاتمے کے لیے نیٹو کو سرگرم کردار ادا کرنا ہوگا۔

اخبار کے بقول سوویت یونین کے زوال کے بعد روسی رہنمائوں نے ریاست کی تشکیلِ نو اور سرد جنگ کے خاتمےکی کامیاب کوششیں کی جس کے نتیجےمیں دنیا کے سامنے اب ایک بدلا ہوا روس موجود ہے۔

انہی تبدیلیوں کے نتیجے میں روس کئی عالمی تجارتی تنظیموں کا رکن بنا ہے جب کہ اس نے اپنے ساڑھے سات ہزار سے زائد غیر محفوظ جوہری ہتھیاروں کو ذمہ داری کے ساتھ ناکارہ بھی بنایا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ روس میں آنے والی ان تمام تر مثبت تبدیلیوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے نیٹو ممالک کو سوچنا چاہیے کہ جب وہ جنگِ عظیم دوم کے خاتمے پر مغربی جرمنی اور اٹلی جیسے دشمنوں کو اتحاد میں شامل کرسکتے ہیں تو آخر ایک بدلے ہوئے روس کو رکنیت دینے میں کیا قباحت ہے؟

امریکی معیشت دو برس قبل آنے والی عالمی کساد بازاری کے اثرات سے تاحال مکمل طور پر چھٹکارا نہیں پاسکی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی معشیت کی ترقی کی رفتار اب بھی سست ہے۔

ملکی معیشت کی اس صورتِ حال کو اخبار 'نیو یارک ٹائمز' نے اپنے ایک اداریے کا موضوع بنایا ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ معاشی اصلاحات کے سست رفتاری سے نفاذ، حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھائو اور پہ در پہ کئی گھپلوں کے سامنے آنے کے باعث سرمایہ کاروں کا اسٹاک مارکیٹوں سے اعتبار اٹھتا جارہا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ حالیہ عرصے میں حصص کے کاروبار میں مندی آئی ہے اور تاجر تیزی سے اپنا سرمایہ اسٹاک مارکیٹوں سے نکال رہے ہیں۔ اخبار کے بقول پالیسی سازوں کو اس صورتِ حال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کیوں کہ یہ صورتِ حال اگر برقرار رہی تو جلد یا بدیر امریکہ کو کنگال کرکے چھوڑے گی۔

افغانستان کے مستقبل سمیت کئی اہم عالمی معاملات پر غور کے لیے نیٹو ممالک کا سربراہ اجلاس آئندہ ہفتے امریکہ کے شہر شکاگو میں منعقد ہورہا ہے۔

اس اعلیٰ سطحی اجلاس کے تناظر میں 'شکاگو ٹربیون' کہتا ہے کہ شکاگو کے مقامی باشندے اجلاس کے غیر معمولی حفاظتی انتظامات اور اس موقع پر ہونے والے متوقع احتجاجی مظاہروں سے خوفزدہ ہیں۔

اخبار مقامی باشندوں کو لاحق تحفظات کے ازالے کے لیے لکھتا ہے کہ شہر اس سے قبل بھی کئی بین الاقوامی تقریبات کی بخوبی میزبانی کرچکا ہے۔ اخبارنے اجلاس کی تیاریوں میں مصروف شہری انتظامیہ اور سیکیورٹی اہلکاروں اور ان نجی کاروباری اداروں سے وابستہ ملازمین کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور عام افراد پر زور دیا ہے کہ وہ دو روزہ اجلاس کے موقع پر خوف جھٹک کر اپنے شہر کا ایک اچھا تاثر پیش کرنے کی کوششوں کا حصہ بنیں۔

XS
SM
MD
LG