رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: نیٹو رسد کی بحالی اور سری لنکا کا بحران

  • عمیر ریاض

امریکہ اور پاکستان کے حکام کے درمیان گزشتہ چھ ماہ سے معطل نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں: اخباری رپورٹ

اخبار'کرسچن سائنس مانیٹر' نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نیٹو رسد کی بحالی کے عوض پاکستان کو لگ بھگ 10 لاکھ ڈالر یومیہ ادا کرے گا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے حکام کے درمیان گزشتہ چھ ماہ سے معطل نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں پاکستان کی دو سرحدی چوکیوں پر امریکی طیاروں نے بمباری کی تھی جس سے 24 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد اسلام آباد حکومت نے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے اپنے زمینی راستے سے جانے والی رسد روک دی تھی جو تاحال معطل ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد پاکستانی حکومت نے بالآخر نیٹو سپلائی بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے جس کے عوض اتحادی ممالک رسد لے جانے والے ہر ٹرک کے عوض پاکستان کو 1500 سے 1800 ڈالر تک ادا کریں گے۔

اخبار نے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کو نیٹو سپلائی کے عوض یومیہ 10 لاکھ ڈالر تک ادائیگی کی جائے گی جس کے باعث اتحادی ممالک، خصوصاً امریکہ کو سالانہ 36 کروڑ ڈالر کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

اس وقت نیٹو ممالک افغانستان میں تعینات اپنی افواج کے لیے خوراک اور دیگر سازو سامان بحرِ سیاہ کے راستے جارجیا پہنچاتے ہیں جہاں سے اس رسد کو سائبیریا اور پھر وسطی ایشیا کے راستے افغانستان بھیجا جارہا ہے۔ یہ زمینی مسافت لگ بھگ چھ ہزار کلومیٹر طویل ہے۔ اس کے مقابلے پر پاکستان کے راستے سامان لے جانے والے ٹرک محض 500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے افغانستان پہنچ جاتے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ امریکی حکام نے اس بھاری معاوضے کی ادائیگی کے عوض پاکستانی حکام سے نیٹو کنیٹنرز کی بحفاظت نقل و حرکت یقینی بنانے اور ان کے کسٹم اور جانچ پڑتال کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق معطلی سے قبل اتحادی افواج کو افغانستان بھیجی جانے والی کل رسد کا 30 فی صد پاکستان کے راستے جاتا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی راستے کی بحالی اس لیے بھی ضروری ہے کہ افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کی ڈیڈلائن نزدیک آرہی ہے۔ افغانستان سے اپنے ساز و سامان اور بھاری ہتھیاروں کو پاکستانی بندرگاہوں تک پہنچانا اور وہاں سے ان کی متعلقہ ممالک تک منتقلی غیر ملکی افواج کے لیے ایک سستا اور آسان راستہ ہوگا۔

اخبار لکھتا ہے کہ امریکی اور پاکستانی حکام اس معاہدے کی جزیات طے کرنے میں مصروف ہیں اور امکان ہے کہ آئندہ ہفتے یہ عمل مکمل ہوجائے گا۔ معاہدے کے بعد روزانہ لگ بھگ 600 ٹرک نیٹو رسد پاکستان سے افغانستان لے جائیں گے۔

اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان امریکہ سے سلالہ چیک پوسٹ حملے پہ معافی مانگنے کے مطالبے سے بھی دستبردار ہوگیا ہے جب کہ فریقین میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کیے جانے والے امریکی ڈرون حملوں کے خاتمے پہ بھی اتفاقِ رائے نہیں ہوسکا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی پارلیمان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی امریکہ کی جانب سے سلالہ چیک پوسٹ حملے پہ معافی مانگنے اور ڈرون حملے بند کرنے سے مشروط کی تھی۔

سری لنکا کی سیاسی صورتِ حال پر اخبار 'کرسچن سائنس مانیٹر' لکھتا ہے کہ بین الاقوامی برادری میں باعزت مقام حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سری لنکن حکومت ملک میں جمہوریت کو فروغ دے۔

تامل ٹائیگرز کے خلاف فتح کے تین سال مکمل ہونے پر اخبار لکھتا ہے کہ 26 سال طویل بغاوت کے خاتمے کے بعد سری لنکن معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور ملک سیاسی استحکام کی جانب گامزن ہے۔

لیکن اخبار کے بقول داخلی محاذ پر ان کامیابیوں کے باجود انسانی حقوق کے احترام اور اقلیتی تامل آبادی کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے جیسے معاملات پر صدر راجا پاکسے کی حکومت کا ریکارڈ خراب ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ تامل باغیوں کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کے دوران میں سری لنکن فوجوں نے ہزاروں تامل شہریوں کو قتل کیا تھا۔انہی الزامات کے ردِ عمل میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھی سری لنکن حکومت سے ان ہلاکتوں کی تحقیقات کرانے مطالبہ کرچکی ہے۔

لیکن اقوامِ متحدہ کے اس جائز مطالبے کا سری لنکا کی سنہالی اکثریتی آبادی، میڈیا اور حکومت نے سخت برا منایا ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ اگر سری لنکا معاشی طور پر مضبوط ہونا چاہتا ہے تو اسے عالمی برادری کے خدشات کا ازالہ کرکے عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے ہوں گے۔

اخبارکے بقول قومی سطح پر افہام و تفہیم کے فروغ، انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کے احترام اور اقلیتی تامل آبادی کو قومی دھارے میں شامل کرکے ہی سری لنکا ایک نئے دور کا آغاز کرسکتا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG