رسائی کے لنکس

بحرالکاہل کا خطّہ نہ صرف امریکی معیشت بلکہ قومی سلامتی کےلئے نہایت اہم ہے

  • صلاح احمد

بحرالکاہل کا خطّہ نہ صرف امریکی معیشت بلکہ قومی سلامتی کےلئے نہایت اہم ہے

بحرالکاہل کا خطّہ نہ صرف امریکی معیشت بلکہ قومی سلامتی کےلئے نہایت اہم ہے

امریکی اخبارات سے: ’واشنگٹن پوسٹ‘ کا کہنا ہے کہ بہت سے ایشیائی ممالک امریکہ کے ساتھ زیادہ اقتصادی ، سیاسی ، اور فوجی تعلّقات استوار کرنے کے خواہش مند ہیں، جس کی وجہ چین کی طرف سے خطرے کے بارے میں اُن کی آگہی ہے

صدر اوبامہ کے ایشیا کے 8 روزہ دورے پر ’واشنگٹن پوسٹ‘ ایک ادرائے میں کہتا ہے کہ ان کی انتظامیہ اسے اپنی خارجہ پالیسی کا ایک محور تصوّرکرتی ہے جس کے طفیل امریکہ عراق اور افغانستان کی گراں جنگوں کے گرداب سے نکل کر مشرق بعید کی پھلتی پُھولتی معیشتوں کے ساتھ تعلّقات استوار کرنے کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ اور جیسا کہ مسٹر اوباما نے کہا ہے، امریکہ بحرالکاہل کی ایک طاقت ہے اور ہمیشہ رہا ہے۔ یہ خطّہ نہ صرف ہماری معیشت بلکہ ہماری قومی سلامتی کے لئے نہایت اہم رہا ہے ۔

صدر سے اتّفاق کرتے ہوئے، اخبار نے کہا ہے کہ بہت سے ایشیائی ممالک امریکہ کے ساتھ زیادہ اقتصادی، سیاسی، اور فوجی تعلّقات استوار کرنے کے خواہش مند ہیں، جس کی وجہ چین کی طرف سے خطرے کے بارے میں اُن کی آگہی ہے۔ آٹھ ملکوں نے اوبامہ انتظامیہ کے بحرالکاہل کے آزادانہ تجارتی شراکت داری کے منصوبے سے وابستگی استوار کی ہے۔ جب کہ آسٹریلیا نے امریکہ کی مستقل موجودگی کی حمایت کا اعلان کیا ہے ایسا نہیں ہے کہ افق پر جنگ کےبادل ہیں۔ البتہ، چین کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت پر نظر رکھنا ضروری ہے ۔ اس وقت ایشیا میں مکرُوہ برّی لڑائیوں کا امکان موجودنہیں ہے اور دہشت گردی کا خطرہ معمولی ہے۔

اس سے پہلے سابق امریکی صدور بل کلنٹن اور جارج بُش نے بھی اپنے وقت میں ایشیا پر اپنی توجُّہ مرکوز کی تھی ۔ لیکن مسٹر اوبامہ کو اس مقصد کے لئے زیادہ مواقع دستیاب ہیں۔ اس کی جز ُوی وجہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت ہے ، جس کے پیش نظر وہ ملک بھی جو امریکہ سے پہلےدُور رہنا پسند کرتے تھے،مثلاً ویت نام، اب امریکہ کے ساتھ زیادہ قریبی رشتے قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ، اخبار کہتاہے کہ ایشیا پر توجّہ مرکوز کرنے کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ ایران ، افغانستا ن ، اور عراق کو نظر انداز کیا جائے۔ دنیائے عرب میں جمہوُری تحریک نے دنیا کے اس سب سے زیادہ فساد زدہ علاقے کو یکسر بدل دینے کا جو امکان پیدا کر دیا ہے اس نے مسٹر اوبامہ کے لئے خارجہ پالیسی کے شُعبے میں ایک اہم موقع پیدا کیا ہے اور پچھلے ایک عشرے کے واقعات سے مُنہ موڑنا ایک غلطی ہوگی۔

مصر میں آنے والےانتخابات پر ’نیو یارک ٹائمز‘ کی یہ رائے ہے کہ جہاں پچھلےماہ تیونس میں عام انتخابات خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام پائے وہیں مصر میں آثار اچھے نہیں لگ رہے۔ اخبار کا خیال میں ایسا لگ رہا ہے کہ فوج جو ابھی ملک کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے، حقیقی معنوں میں جمہوری تبدیلی لانے کے بجائے اپنا اقتدار بچانے کی فکر میں ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکہ مصر کوایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کی سالانہ فوجی امداد فراہم کرتا ہےاور یہ اس کے ہاتھ میں ایک حربہ ہے۔ اوبامہ انتظامیہ چاہتی ہے کہ مصری جنرل اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتے کے احترام کے ساتھ ساتھ آزدانہ انتخابات کو یقینی بنائیں اور اقتدار سے علیٰحدہ ہونے کی تاریخ دیں۔

اخبار کہتا ہے کہ انتخابات 28 نومبر کو ہونے ہیں، لیکن مصر ی جنرلوں نے انتخابی عمل کو تین ماہ تک پھیلا کراس میں پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ انتخابات کے بعد مصری ایک نیا آئین مرتّب کرنے کے لئے ایک کونسل چنیں گے، ریفرنڈم کریں گے اوربالآخر ایک نیا صدر منتخب کریں گے۔ اس طرح، اخبار کا اندازہ ہے، کہ فوج مزید ایک سال یا اس سے زیاد مدت کے لئےاقتدار سے چمٹی رہے گی۔

اخبار نے اس کوشش کی طرف بھی توجّہ دلائی ہے جو فوج نے نئے آئین میں یہ بات شامل کرنے کے لئےبالا صرار کی تھی کہ فوج کے بجٹ پر پارلیمنٹ کا احتساب نہ ہو۔ عوامی احتجاج کے بعد اگرچہ اس میں ترمیم کا وعدہ تو کیا گیا تھا۔ لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ایسا کیا گیا ہے یا نہیں، جب کہ مبارک دور کا جابرانہ ہنگامی قانون ابھی تک نافذ ہے ۔

اخبار کہتا ہے مصری عوام نے حسنی مبارک کا تختہ الٹنے میں اعلیٰ جُرات کا مظاہرہ کیا ۔ اب انہیں پر منحصر ہے کہ وہ عالمی حمائت سےجمہوریت کےعمل کو یقینی بنائیں۔

اخبار کہتاہے ٴ کہ پچھلے تین عشروں کے دوران امریکہ مصر کو 60 ارب ڈالر کی امداد دے چکا ہےجو زیادہ تر فوج کے لئے تھی۔ لیکن اس میں اب ردّوبدل ہونا چاہئے، تاکہ یہ اس ابھرتی ہوئی جمہوریت کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کر سکے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG