رسائی کے لنکس

ایران نے عراق میں تشدد پر مائل گروپوں کی مدد میں اضافہ کردیا ہے: واشنگٹن ٹائمز


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اخبارنےایک اداریہ تحریر کیا ہے جِس میں امریکہ کے نئے وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کے حالیہ بیان پر حاشیہ آرائی کی گئی ہے، جِس میں اُنھوں نے بغیر لگی لِپٹی کے بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے عراق میں تشدد پر مائل شیعہ عسکریت پسند گروپوں کی مدد میں اضافہ ہورہا ہے اور امریکہ اِس صورتِ حال پر خاموش تماشائی کی طرح بیٹھے رہنے کی بجائے ایران کو اُس کی اشتعال انگیزی کا جواب دے گا

اخبار’واشنگٹن ٹائمز‘ نے’وائٹ ہاؤس ایڈمٹس وار وِتھ ایران‘ کےعنوان سے ایک اداریہ تحریر کیا ہے جِس میں امریکہ کے نئے وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کے حالیہ بیان پر حاشیہ آرائی کی گئی ہے، جِس میں اُنھوں نے بغیر لگی لِپٹی کے بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے عراق میں تشدد پر مائل شیعہ عسکریت پسند گروپوں کی مدد میں اضافہ ہورہا ہے اور امریکہ اِس صورتِ حال پر خاموش تماشائی کی طرح بیٹھے رہنے کی بجائے ایران کو اُس کی اشتعال انگیزی کا جواب دے گا۔

اخبار لکھتا ہے کہ اِس سے قبل، چیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈرمل مائیک ملن بھی افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں کو ایران کی جانب سے حاصل مدد کا ذکر کرچکے ہیں۔

اخبار کے مطابق ایسا شاز ہی ہوا ہےکہ امریکہ کے اعلیٰ عہدے داروں نے ایران کی اس طرح کے کردار کے بارے میں کھلے بندھوں لب کشائی کی ہو۔

’واشنگٹن ٹائمز‘ لکھتا ہے کہ ویتنام کی جنگ کے بعد ایران ہی وہ ملک ہے جس نے امریکی فوجیوں کی سب سے زیادہ تعداد میں ہلاکت میں براہِ راست یا بالواسطہ کردار ادا کیا ہے۔

اخبار کے مطابق ایسے وقت میں جب امریکی فوجیں اُس خطے کے اندر موجود ہیں امریکہ کے لیے دفاعی اعتبار سے یہ بہتر حکمتِ عملی ہوگی کہ وہ ایران کو ایک جاندار پیغام دے کہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے خلاف عسکریت پسندوں کی حمایت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

’دہشت گردی اور قانون‘ کے عنوان سے اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ ایک اداریے میں ایک صومالی باشندے احمد عبد القادر کے مقدمے کا حوالہ دیتا ہے جِس پر القاعدہ کی مدد کا الزام ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ احمد عبد القادر کی بین الاقوامی پانیوں سے گرفتاری امریکہ کے ایک بحری جہاز پر ماورائے قانون حراست اور تفتیش کے بعد حکام کے اس نتیجے پر پہنچنا کہ وہ امریکہ کی وفاقی عدالتوں میں پرازیکیوشن کا حقدار ہے، یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ آج بھی ملزم کے ٹرائل کا بہترین چینل امریکہ کی سول عدالتیں ہیں ناکہ ملٹری کورٹس۔

اِس تناظر میں اخبار لکھتا ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کا احترام جو صدیوں سے امریکہ کی شناخت ہے اُس کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے اور سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں اِن قوانین میں جو تبدیلیاں لائی گئی تھیں اُن کے خاتمے کی ضرورت ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ صدر اوباما جو بذاتِ خود اِس طرزِ تفتیش کے مخالف ہیں اُن کے دورہٴ حکومت میں بجائے اِس کے کہ اصلاح ِ احوال ہوتا مزید سختیوں کا اطلاق نمایاں ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ آئین کی اصل ہیئت کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔

اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے ادارتی صفحے پر شائع ایک مضمون کا عنوان ہے ’ڈفالٹ وُڈ ڈِم امریکن پاور‘ ۔ مضمون نگار کے مطابق اگر امریکی کانگریس دو اگست تک قرضٕوں کی حد میں اضافے پر اتفاق نہیں کرتی تو اِسے امریکی حکومت قرضوں کے حوالے سے نادہندہ بن جائے گی جس کے نا صرف سیاسی اور معاشی مضمرات ہیں بلکہ اِس سے امریکہ کی دفاعی ہیئت بھی متاثر ہوگی۔

مضمون نگار کے مطابق چین، روس اور دیگر ایسے عناصر جو امریکہ کے لیے خاص سوچ رکھتے ہیں فی الوقت امریکہ کے ڈفالٹ کے مضمرات پر بات نہیں کر رہے۔ مگر وہ کوشاں ہوں گے کہ اس ڈفالٹ کے امریکہ کے لیے نتائج کو سنگین سے سنگین تر بنایا جائے۔

’اے سیلوٹ ٹو اوباما فور شفٹ آن ملٹری سوسائڈز‘ کے عنوان سےایک مضمون میں اخبار ’ہیوسٹن کرانیکل ‘ نے ایک نجی تنظیم کی جانب سے صدر براک اوباما کے لیے اظہارِِٕ تشکر پر تفصیلی مضمون کو اپنے ادارتی صفحے پر جگہ دی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ صدر نے دورانِ ملازمت خودکشی کرنے والے فوجیوں کے اہلِ خانہ کو صدر کی طرف سے تعزیت نامہ نہ بھیجنے کی پالیسی کو تبدیل کردیا ہے ۔

تنظیم کے مطابق پالیسی میں یہ تبدیلی امریکی فوج کے اندر خودکشیوں کی شرح کم کرنے اور اسٹریس سے دوچار فوجیوں کو علاج کی جانب راغب کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگی۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG