رسائی کے لنکس

صدر اوباما کو جو اقتصاد ی بُحران ترکے میں ملا تھا، اسے اِس بُحران سے نکالنے، قومی سلامتی کا نظام چلانے اور اہم اصلاحات نافذ کرنے میں صدر کا کردار ٹھوس رہا ہے: کالم نگار

’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون‘ میں معروف کالم نگارٹامس فریڈمان سال رواں کے صدارتی انتخابات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُنہیں اب بھی امید ہے کہ نیو یارک کے موجودہ میئرمایئکل بلوم برگ صدارتی مقابلے میں شرکت کرنے پر دوبارہ غور کریں گے، چاہے وہ محض صدارتی مباحثوں میں ہی شرکت کریں اورملک کے دو پارٹیوں والے نظام کو وہ جھٹکہ دیں جس کی اسے ضرورت ہے۔

فریڈمان کو اعتراف ہےکہ صدراوباما کو اہم کارنامےسرانجام دینے کا شرف حاصل ہے۔اُنہیں جو اقتصاد ی بُحران ترکے میں ملا تھااُس کواِس میں سے نکالنے،قومی سلامتی کا نظام چلانے اور اہم اصلاحات نافذ کرنےمیں ان کا کردار ٹھوس رہا ہے۔ لیکن امریکہ کو استحکام کی ایک چٹان بنانے کے لئے چند بڑے اور مشکل فیصلے کرنے ہونگے جس کے لئے اگلے چار سال کے لئےنہائت ہی اعلیٰ پائے کی صدارتی قیادت کی ضرورت ہوگی․

فریڈمان کہتے ہیں کہ انتخاب میں با مقصد سرمایہ کاری اور مشترکہ قربانیوں کےبارے میں مشکل فیصلےکرنے ہونگے، تاکہ معیشت کوصحیح راہ پر گامزن کیا جائے، روزگار پیدا کیا جائےبنیادی ڈھانچےاور تعلیم میں بہتری لائی جائے اورمالیات، ٹیکسوں اورعوام کو حاصل مراعات کے شعبوں میں طویل وقتی اصلاحات کی جائیں۔ اور چونکہ، فریڈمان کے خیال میں دونوں پارٹیوںمیں سے کوئی بھی، امریکی احیا کا کوئی ایسا ولولہ انگیز نظریہ پیش نہیں کررہیں جس سےامریکی عوام میں اتنی قربانی دینے کا جذبہ پیدا ہو۔

اِس لئے، اُن کا خیال ہےکہ صدارتی مقابلے میں ایک قد آور تیسرا امیدوار بھی شامل ہو نا چاہئیے جو کھری کھری سُناتا ہو، معاشرتی اعتبار سے اعتدال پسند ہواور مالی معاملات میں قدامت پسند ہو اور دونوں بڑی پارٹیوں کے امیدواروں کو چیلنج کرتے ہوئے ایمان داری سے جتا دے کہ اِس سے قبل کہ ملک اندر سے ہی بھک سے اُڑ جائےامریکہ کی عالمی قیادت کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے کیا کُچھ کرنا ضروری ہے۔ اس کے لئے فریڈمان کے نزدیک مناسب امیدوار نیو یارک کے موجودہ مئیر مایئکل بلوم برگ ہیں جِن کے لئے ضروری نہیں کہ و انتخاب جیتیں ، یا انتخابی دوڑکے آخری مرحلے تک موجود رہیں۔

البتہ، محض مباحثوں میں شرکت کرنے اوررائے شماری میں صرف 15 یا 20 کے تناسُب سےووٹروں کی حمائت حاصل کرنے سے وُہ اس انتخاب کی ہیئت بدل سکتے ہیں ، اہم قومی ایشیوز (مسایئل) کو اپنی امیدواری کی بنیادبناتے ہوئے اوران کے حل کے لئے صائب طریقوں کی وکالت کرتے ہوئے وہ باقی دو امیدواروں کو اپنے موقّف کا قائل کریں گے۔ اور، صدارتی مباحثوں میں حصّہ لے کر وُہ اس صدارتی مقابلے میں حقیقت پسندی کا وہ عنصر پیدا کریں جس کا کانگریس کو نوٹ لینا پڑے گا۔

کولمبیا میں امریکی ریاستوں کی جو تین روزہ سربراہ کانفرنس اختتام ہفتہ ہوئی تھی، اُس پر ’پٹس برگ پوسٹ گزیٹ ‘ ایک ادارئے میں کہتا ہےکہ اجلاس اہم تھا ، لیکن نتائج غیر یقینی۔

اخبار کہتا ہے کہ اس سربراہ اجلاس میں صدر براک او بامہ کی شرکت سے تین باتیں سامنے آئی ہیں۔ اوّل یہ کہ امریکہ کے لئے مغربی نصف کرّہٴ ارض کے لیڈروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے کی اہمیت۔ دوسرے مسٹر اوباما دوسرے امریکی سیاسی لیڈروں کی طرح یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ منشیات کےخلاف 41 سال سے جاری جنگ بُری طرح ناکام ہوئی ہے۔ نا ہی وہ اس کا کوئی متبادل راستہ اختیار کرنے کے لئے تیا ر ہیں۔ تیسری بات کی وضاحت ان الزامات سے ہوتی ہے کہ امریکہ کے خفیہ ایجنٹوں اور فوجی عملے نے وہاں کسبیوں کی خدمات حاصل کیں۔

اخبار کہتا ہے کہ اگر مسٹر اوباما کو اس سربراہ اجلاس میں کسی کی تکلیف کا احساس ہوا ہوگا تو ظاہر ہے میکسکو، وسطی امریکی ریاستوں، کولمبیا، برازیل، پرُو اور بولیویا کے لیڈر ہی ہونگے۔ان ممالک نے مشکلات، ہلاکتیں اورکرپشن سہی ہے، کیونکہ، ناجائز منشیات کے لئے امریکیوں کی بُھوک ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔

’سین دیئگو یونین ٹریبیون‘ نے صدر اوباما کے اس پُختہ وعدے کا خیر مقدم کیا ہے کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہو گئے تو وہ کانگریس سے امی گریشن کا ایک جامع قانون منظور کرنے کے لئے کہیں گے۔ لیکن، صدر کی اس شرط پر اعتراض اٹھایا ہے کہ اس کے لئے انہیں پہلے ری پبلکن مخالفت سے نمٹنا ہوگا۔

اخبار کہتا ہے کہ کانگریس پر 2007 ءسے لے کر 2010ءتک ڈیموکریٹوں کا قبضہ تھا جس دوران امی گریشن کی اصلاحات کی کوئی تجویز کانگریس کو نہیں بھیجی گئی ۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG