رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: ایرانی جوہری بم مشرقِ وسطیٰ کے لیے ضروری؟

  • عمیر ریاض

'یو ایس ٹوڈے' لکھتا ہے کہ ایران کے جوہری بحران کے حل کاایک راستہ یہ ہے کہ ایران ایٹمی صلاحیت تو حاصل کرلے لیکن اس کے تجربے سے باز رہے۔

اخبار 'یو ایس اے ٹوڈے' میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ جوہری طاقت کا حامل ایران مشرقِ وسطیٰ کے استحکام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اخبار کے مضمون نگار کینِتھ والٹز "ایران کے جوہری بم سے پریشان نہ ہوں" کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں پر جو تنازع چلا آرہا ہے، اس کے خاتمے کے صرف تین راستے ہیں۔

پہلا یہ کہ سفارت کاری اور پابندیوں کے دباؤ کے تحت ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اپنی مبینہ کوششیں ترک کردے۔ لیکن اخبار کے مطابق تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اگر کوئی ملک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ کرلے تو پھر اسے روکنا ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے اگر تو ایران اس بات پر یکسو ہوچکا ہے کہ جوہری ہتھیار اس کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں تو اقتصادی پابندیاں اسے اس ارادے سے باز نہیں رکھ سکتیں۔

'یو ایس ٹوڈے' لکھتا ہے کہ ایران کے جوہری بحران کے حل کا دوسرا راستہ یہ ہے کہ ایران ایٹمی صلاحیت تو حاصل کرلے لیکن اس کے تجربے سے باز رہے۔اخبار کے مطابق ایسا کرکے ایرانی حکومت نہ صرف اندرونِ ملک سخت گیر حلقوں کو مطمئن کر سکتی ہے بلکہ جوہری تجربہ نہ کرکے معاشی پابندیوں اور عالمی برادری میں تنہائی سے بھی محفوظ رہے گی۔

'یو ایس اے ٹوڈے' لکھتا ہے کہ بحران کے خاتمے کا تیسرا ممکنہ راستہ یہ ہے کہ تہران اپنی موجودہ روش برقرار رکھے اور جوہری صلاحیت حاصل کرنے پر ایٹم بم کا تجربہ کرکے اس کا اعلان کردے۔ لیکن امریکہ اور اسرائیل پہلے ہی اس صورت کو ناقابلِ قبول قرار دے چکے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ کسی ملک کےجوہری طاقت بننے سے فوجی محاذ آرائی کے امکانات کم ہوتے ہیں اور عام طور پر اس مخصوص خطے اور پوری دنیا میں استحکام آتا ہے ۔

'یو ایس اے ٹوڈے' کا مضمون نگار لکھتا ہے کہ اسرائیل گزشتہ چار دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ کی واحد جوہری طاقت ہے جو خطے میں طویل عرصے سے عدم استحکام کی وجہ بنا ہوا ہے۔

اخبار کے مطابق دنیا کے کسی اور خطے میں یہ صورتِ حال نہیں کہ وہاں صرف ایک ہی ملک طویل عرصے سے جوہری طاقت چلا آرہا ہو اور اس کے مقابل کوئی دوسری جوہری قوت نہ ہو جو خطے میں طاقت کا توازن درست کرسکے۔

اخبار لکھتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے عدم استحکام کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششیں نہیں بلکہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن قائم کرنے کے لیے اب ایک مقابل جوہری قوت کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

'یو ایس اے ٹوڈے' لکھتا ہے کہ تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بعد عالمی سیاست میں کسی بھی ملک کا کردار مزید ذمہ دارانہ ہوجاتا ہے اور وہ غیر ضروری محاذ آرائیوں اور جارحانہ طرزِ عمل سے گریز کرتا ہے۔

اخبار کے مضمون نگار نے امید ظاہر کی ہے کہ جوہری طاقت بننے کے بعد ایران کے رویے میں بھی ویسی ہی تبدیلی آجائے گی جیسی ایٹم بم بنانے کے بعد چین، پاکستان اور بھارت کے کردار میں آئی ہے۔

'یو ایس اے ٹوڈے' نے اس خدشے کی بھی تردید کی ہے کہ ایران کے جوہری طاقت بننے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی ایک دوڑ شروع ہوجائے گی اور خطے کے دوسرے ممالک بھی جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اخبار لکھتا ہے کہ یہ خدشہ اس لیے بے بنیاد ہے کہ جب اسرائیل 1960ء میں جوہری طاقت بنا تھا تو وہ اپنے پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھا۔ جب اس کشیدہ صورتِ حال میں خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع نہیں ہوئی تو اب زمانہ امن میں ایران کے جوہری طاقت بننے کی صورت میں ایسا ہونے کا کیا جواز ہوگا؟

اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں دنیا میں بڑھتی ہوئی غذائی قلت اور اس کے مقابلے کے لیے فوڈ سیکیورٹی کی ضرورت کو موضوع بنایا گیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ دنیا کی موجودہ سات ارب آبادی میں ہر برس 70 کروڑ 70 لاکھ نفوس کا اضافہ ہورہا ہے اور 2050ء تک دنیا کی آبادی نو ارب ہوجائے گی۔

اخبار لکھتا ہے کہ ایک جانب تو دنیا کی آبادی اس تیزی سے بڑھ رہی ہے اور دوسری جانب روزانہ 85 کروڑ افراد کو بھوکے پیٹ رات کاٹنی پڑتی ہے ہے جب کہ مزید ایک ارب افراد کو پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا۔

'واشنگٹن پوسٹ' لکھتا ہے کہ خوراک کی قلت کا شکار ان افراد کو نہ صرف پوری زندگی غذائی کمی کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں بلکہ مقامی معیشتوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے خوراک کی پیداوار میں 2050ء تک 70 فی صد اضافہ کرنا ہوگا لیکن صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کئی خطوں کی پیداواری صلاحیت میں 20 فی صد تک کمی آنے کا امکان ہے جب کہ درجہ حرارت کا اتار چڑھاؤ بھی فصلوں کی پیداوار پر اثر انداز ہورہا ہے۔

'واشنگٹن پوسٹ' کے مطابق اس صورتِ حال کے مقابلے کے لیے دنیا بھر کی حکومتوں کو متحد ہوکر حکمتِ عملی ترتیب دینا ہوگی اور غذائی قلت دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ اخبار لکھتا ہے کہ بھوک سے سسکتی دنیا کی ایک تہائی آبادی اس ضمن میں عالمی برادری کے اقدامات کی منتظر ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG