رسائی کے لنکس

انٹرنیٹ کی طاقت سےکسی کو انکار نہیں

  • مدثرہ منظر

انٹرنیٹ

انٹرنیٹ

اِسی انٹرنیٹ کے ذریعے عرب دنیا میں جمہوریت کی عرب اسپرنگ نامی تحریکیں شروع ہوئیں اور اب اِنہی تحریکوں کے سرگرم کارکن اپنی معلومات کم از کم سکیورٹی فورسز سے پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں

موجودہ دور میں انٹرنیٹ کی طاقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، کیونکہ چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا واقعہ انٹرنیٹ پر پوسٹ ہوسکتا ہے اور لاکھ چاہنے پر بھی دنیا سے پوشیدہ نہیں رکھا جاسکتا۔

اِسی انٹرنیٹ کے ذریعے عرب دنیا میں جمہوریت کی Arab Springنامی تحریکیں شروع ہوئیں اور اب اِنہی تحریکوں کے سرگرم کارکن اپنی معلومات کم از کم سکیورٹی فورسز سے پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔

اخبار’لاس انجلیس ٹائمز‘ کے ادارتی صفحے پر ڈویل مک مانس نے اپنے مضمون میں انٹرنیٹ کی جرمن ماہرKatrin Verclasکے حوالے سے لکھا ہے کہ مصر میں جمہوری تحریک کے کارکنوں سے جب پوچھا گیا کہ اُنھیں سب سے زیادہ کس ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے، آیا لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی ویب تک بہتر رسائی، سینسرشپ سے بچنے کا سامان یا وِڈیو پوسٹ کرنے کا سافٹ ویئر؟ تو مک مانس کہتے ہیں کہ اس سب کا جواب اور اُن مظاہرین کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ اُنھیں ایسے سیل فون مل جائیں جو محفوظ ہوں۔ کیونکہ، اُن کے سیل فون پر اُن کی سب سے زیادہ معلومات ہوتی ہیں جو گرفتاری پر پولیس کے ہاتھ لگ جاتی ہیں اور گرفتاری کے بعد بعض لوگوں نے یہ معلومات محفوظ رکھنے کے لیے اپنے فون کی سِم نکال کر نگل لی، کیونکہ اِس کے سوا کوئی اور چارا ہی نہیں تھا۔

چناچہ، مک مانس کہتے ہیں کہ وارسلاس نے جو نیویارک میں mobileactive.orgنامی غیر منافعہ بخش تنظیم چلاتی ہیں، امریکی محکمہٴ خارجہ سے گرانٹ حاصل کرکے ایسے سیل فون بنا لیے جِن پر ایک بٹن دبانے سے تمام معلومات اُڑائی جاسکتی ہیں اور یہ بٹن دباتے ہی ساتھیوں کو پیغام بھی مل جاتا ہے کہ مجھے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مصنف کے مطابق یہ سیل فون اِس ماہ باقاعدہ متعارف کروا دیے جائیں گے۔ مگر آزمائشی طور پر یہ پہلے ہی تقسیم کیے جاچکے ہیں۔

شام میں مظاہرین اِنھیں استعمال کررہے ہیں۔ اور اب مصنف کی کانگریس سے استدعا ہے کہ وہ بھلے وفاقی اخراجات میں کتنی بھی کٹوتیاں کریں ، مگر اُسے انٹرنیٹ پر آزادی کے پروگرام کو معاف کردینا چاہیئے۔

اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے اداریے کا عنوان ہے ’قیادت کا بحران‘۔ اخبار لکھتا ہے ایسے وقت میں جب سنہ 2012ء کی انتخابی مہم سر پر ہے اور ایک مرتبہ پھر کساد بازاری کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے، امریکی صدر اوباما اپنے دورہٴ اقتدار کے سب سے بڑے بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن، اخبار کی رائے ہے کہ صدر کو صرف اپنے ووٹروں کی آواز سننی چاہیئے۔

اخبار لکھتا ہے کہ ’ٹائمز‘ اور’ سی بی ایس نیوز‘ نے جمعے کو رائے عامہ کا نیا جائزہ جاری کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹر صرف دو چیزیں چاہتے ہیں: ملازمتیں اور اقتصادی بہتری۔

اخبار لکھتا ہے اکثریت چاہتی ہے حکومت ملازمتیں پیدا کرنے کو اپنی اولین ترجیح بنائے اور دس میں سے آٹھ امریکیوں کی رائے ہے کہ پُل، سڑکیں اور اسکول سب تعمیر کرنا بے حد اہم ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ مہینوں سے صدر اوباما یہی نکات بازی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مگر جواب میں ریپبلیکنز صاف طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ اُن کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔ چناچہ، اخبار لکھتا ہے صدر بہت وقت ضائع کرچکے۔ اب اُنھیں وہی کرنا چاہیئے جو دس میں سے چھ ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ وہ کریں، یعنی ریبپلیکنز کو چیلنج کریں۔فکر کریں تو صرف امریکی عوام کے مفادات کی ۔

اور، اخبار کا اصرار ہے جیتیں یا ہاریں، اب صدر کو ملازمتوں کے اپنے پروگرام پر سمجھوتے کی ضرورت نہیں، بلکہ اصل طاقت عام امریکی ہیں اور صدر کو اپنی بات اُن تک پہنچاتے رہنا چاہیئے۔

’چلتے ہیں تو چاند کو چلیئے‘۔ یہ اخبار’ ہیوسٹن کرانیکل کے اداریے کا پیغام ہے جس نے امریکی خلائی ادارے ناسا کے نئےراکٹ کے بارے میں اپنے اداریے میں امید ظاہر کی ہے کہ ناسا کی نئی کوشش اِس ادارے کو نئی قوت ِ پرواز دے گی۔

اخبار لکھتا ہے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان ایک طویل رسہ کشی کے بعد آخرِ کار ناسا نے اپنے بہت بڑے راکٹ کے ذریعے امریکی خلابازوں کو خلا کی وسیع گہرائی میں پہنچانے کے اپنے پروگرام کی نقاب کشائی کردی ہے اور سنہ 2017 میں اُس کے پہلے بوسٹر راکٹ کی آزمائشی پرواز متوقع ہے۔

اخبار لکھتا ہے 18ارب ڈالر کی لاگت سے یہ دنیا کا طاقت ور ترین راکٹ ہوگا اور ساتھ ہی اِس خلائی ادارے کی ورک فورس کے لیے ایک امید کا ستارہ بھی۔ کیونکہ، ناسا کے 14000 ملازمین میں سے 3800کو گذشتہ سال خلائی شٹل پروگرام کےخاتمے کے ساتھ ہی اپنی ملازمت سےمحروم ہونا پڑا تھا۔ اب جب کہ چین اپنے خلائی اسٹیشن کی تعمیر اور چاند پر اترنے کے پروگرام پر زور و شور سے عمل کر رہا ہے، امریکہ کا یہ بوسٹر راکٹ پروگرام چاند پر جارہنے کی انسان کی خواہش کی جزوی تکمیل ضرور کر سکتا ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG