رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے:اسرائیل فلسطین مذاکرات

  • صلاح احمد

امریکی اخبارات سے:اسرائیل فلسطین مذاکرات

امریکی اخبارات سے:اسرائیل فلسطین مذاکرات

حوصلہ شکن بات یہ ہے کہ دو عشروں سےحتمی فیصلے کی جُزئیات پر مذاکرات کے بے شمار دور بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں

اسرائیلی فلسطینی مذاکرات کےلامتناہی سلسلے پر بےزاری کا اظہار کرتے ہوئے، اردن کے شاہ عبداللہ ’ وال سٹریٹ جرنل ‘ میں ایک مضموں میں لکھتے ہیں کہ وسط مشرق میں اُس عوامی تحریک کو شروع ہوئے ایک سال ہوگیا ہے جس نے اس خطے کو بدلنے کے لئے ہر عرب مرد اور عورت کے عزمِ صمیم کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ لیکن، جو کلیدی مسئلہ حل طلب رہ گیا ہے، وہ ہے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان قیام امن۔

اس ماہ دونوں فریقوں کے درمیان 16 ماہ کے وقفے کے بعد مذاکرات کا ایک اور دور عمان میں ہوا۔ شاہ عبداللہ کہتے ہیں یہ صحیح ہے کہ ٹھوس مذاکرات میں مشکل ضرور ہے۔ لیکن، اگر اب کی بارہم پھر ناکام ہو گئےتو جو بات آج مشکل ہے وہ پھر بالکل ناممکن ہو سکتی ہے ۔

عربوں کے ایماٴ پرامن مذاکرات کا جوسلسلہ شروع کیا گیا تھا،اُسے اگلے تین ماہ میں دس سال ہو جائیں گے، اور اس دوران، اسرائیل نےیہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھی ہے، خاص طور پر یروشلم میں مقدّس مقامات کے معاملے میں جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں اورعرب مسلمانوں اور عیسائیوں کو شہر سےنکالنے کی جو کوششیں ہورہی ہیں، اس کی وجہ سے امن مذاکرات کئی عشروں تک التواٴ میں پڑ سکتے ہیں۔

شاہ عبداللہ کہتے ہیں کہ حوصلہ شکن بات یہ ہے کہ دوعشروں سےحتمی فیصلے کی جُزئیات پر مذاکرات کے بے شمار دور بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔

اُن کا خیال ہے کہ عمّان میں اِس ماہ کے مذاکرات کے بعد ٹھوس بات چیت شروع ہو سکتی ہے، یعنی پہلے سرحدوں کے معاملے پراور پھرسیکیورٹی پر، تاکہ یہودی بستیوں کا معاملہ ہمیشہ کے لئے طے کیا جائے اور پھر حتمی رُتبے کے آخری امُور کو۔ علاقائی امن، نہ صرف فلسطینیوں اور اسرائیلیوں بلکہ تمام فریقوں کے مستقبل کا جُزو ہونا چاہئیے۔ اب تک اس کے لئے کی گئی بے شمار کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ کیا اب کی بار یہ کوشش بار آور ثابت ہو سکتی ہے؟

’ آری گونین ‘ اخبار نے صدر اوباما کے کانگریس سے اس مطالبے کی حمایت کی ہےکہ اُن کے عہدے کے اِس اختیار کو بحال کیا جائے جِس کے تحت وہ انتظامیہ کوازسر نو منظّم کر سکیں۔

اخبار کہتا ہے کہ صدر کو یہ اختیار ہونا چاہئیے کہ وہ پھیلے ہوئے اداروں کو یک جا کرسکیں، بے جا اخراجات ختم کر سکیں اور وفاقی حکومت کے لئے کام کرنے والوں کی تعداد میں کمی کر سکیں ۔ یہ وہ چیلنج ہیں جِن کا کئی سابقہ انتظامیوں کو سامنا رہا ہے اور ٹی پارٹی سے وابستہ ری پبلکن بھی حکومت کے سائز کو کم کرنے کا منتر جپتے رہتے ہیں۔

اخبار کہتا ہےکہ مسٹر اوباما کا یہ موٴقف درست ہے کہ سرکاری اداروں کو درست طریق کار اپنانے کی ضرورت ہے۔ ابھی پچھلے سال جنرل اکونٹنگ آفیس کی رپورٹ کے مطابق ایک ہی کام ایک سےزیادہ جگہ ہو رہا ہے، جب کہ بکھرے ہوئے وفاقی ادارے ٹیکس دہندگاں کا اربوں ڈالر کا سرمایہ سالانہ ضائع کر دیتے ہیں ۔

بچت کی مثال دیتے ہوئےاخبار کہتا ہےکہ اگر فوج کو میسّرطبّی مراعات کو نئے سرے سےترتیب دیا جائے تو46 کروڑ ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح جیسے مسٹر اوباما نے تجویز کیا ہے۔ اگر بھاری بھرکم محکمہ تجارت کی جگہ کاروبار سے متعلق باقی ایجنسیوں کو تجارتی ایجنسی میں ضم کر دیا جائے تو دس سال میں تین ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے اور ایک ہزار اسامیاں فالتو ہو جائیں گی۔ چنانچہ، اخبار کی نظر میں حکومت کا سائز کم کرکے اس کی کارکردگی بہتر بنانے کے عہد پر عمل در آمدکرنے پر صد ر تعریف کے مستحق ہیں۔

کینیڈا سے امریکہ کی ریفائنریوں کے لئے تیل لانےکےلئے ایک پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کو صدر اوباما نے مسترد کردیا ہے۔ اِس پر ’ یو ایس اے ٹوڈے‘ کہتا ہے کہ انتخابا ت کے اِس سال میں ری پبلکنوں نے دسمبر میں پے رول ٹیکس کی کٹوتیوں کی صرف دو ماہ تک توسیع کرنے کے معاہدے میں یہ شرط لگا دی تھی کہ صدر 60 روز کے اندراس پائپ لائن کی منظوری دیں۔ لیکن، صدرنے کہا کہ 60 دن کی اس قید نے اُنہیں اتنا وقت نہیں دیا کہ پائپ لائن کو نیبراسکا کے متبادل راستے سے لانے پرغور کیا جائے۔

اخبار نے جہاں انتظامیہ پرمنظوری کو غیر ضروری طول دینےکا الزام دیا ہے، وہاں ری پبلکنوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ اگر وہ اس منصوبے سے پیدا ہونےوالے روزگار کے مواقع کے بارے میں سنجیدہ ہوتے تو انہیں صدر کے ساتھ باہمی قابل قبول معاہدے پربات چیت کرنی چاہئیے تھی۔ لیکن، ان کا مقصد صدر کی سُبکی تھا جِس میں وہ کامیاب ہوئے ۔ لیکن، سیاسی فٹ بال کے اِ س کھیل میں نقصان قومی مفادات کا ہوا ۔۔۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG