رسائی کے لنکس

امریکی اخباروں سے: ڈرون حملے ٹیڑھی کھیر ثابت ہوسکتے ہیں

  • صلاح احمد

نیو یارک ٹائمز کہتا ہےکہ ایسے میں جب پاکستا ن اور امریکہ سال بھر کے ڈرامائی بُحرانوں کی وجہ سے کشیدہ باہمی تعلّقات میں بہتری لانےکے مُشکل کام میں مصروف ہیں ۔ ڈرون طیاروں کا معاملہ ٹیڑھی کھیر ثابت ہو سکتا ہے ۔ اوباما انتظامیہ کے لئے، جسے افغانستان میں ایک ڈگمگاتی جنگ ، اور بے اعتبار اتّحادیوں کا سامنا ہے ۔ پاکستان کے شمالی اور جنوبی وزیرستان علاقوں میں سی آئی اے کےخُفیہ ڈرون حملوں کو ایک نئی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ یوں تو القاعد ہ کے سرکردہ لیڈروں کو نشانہ بنانے کے لئےاب تک ڈرون حملوں کا بڑا شہر ہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے پاکستان کے اندر محفوظ پنا ہ گاہوں سے اُن کے چوری چُھپے سرحد پار کر نے کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اور بقول ایک سینیئرامریکی عہدہ دار کے اس سال جن دس ڈرون حملوں کی تصدیق ہو چُکی ہے ، ان میں چھ ایسی گاڑیاں شامل ہیں جوسرحد پار کرنے والے عسکریت پسندوں سے بھری ہوئی تھیں اورعسکریت پسندوں سے پُوچھ گچھ کے بعد اس میں اب کوئی شُبہ نہیں رہا کہ ڈروں حملوں نے اُن کی سرگرمیوںمیں کافی کھلبلی مچائی ہے اوراُنکے مفرور لیڈروں کوپہاڑوں کے اندر جا کرپناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ لیکن اخبار کہتا ہے کہ اس کی پاکستان کے لئے کوئی اہمیت نہیں ہے جہاں یہ شور مچتا ہے کہ ملک کی حاکمیت اعلیٰ کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور یہ کہ شہری ہلاک ہو رہے ہیں ۔ اس پر پاکستان کی پارلیمنٹ کے اُس اجلاس میں بحث ہونے والی ہے۔ جو صدر زرداری نے 24 پاکستانی فوجیوں کی پاک افغان سرحد پرنیٹو کی طرف سے ایک نادانستہ بمباری میں ہلاک ہونے کے واقعے کے بعد پاک امریکی تعلقات کو بحال کرنے کی غرض سے بُلایا ہے۔ امریکی عہدہ دار یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ اپریل کے مہینے تک تعلقات معمول پر لانے کے لئے راستہ ہموار ہو جائے گا۔ اور نیٹو کےلئے رسد کے راستے کی کئی ماہ سے جاری ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی اور افغان طالبان کو واپس مذاکرات کی میز پر لانے کی متّزلزل کوششوں کو تقویت ملے گی۔

اخبار نے امریکی عہدہ داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈرون حملے بند کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ اسے اوباما انتظامیہ کے انسداد دہشت گردی کے اسلحہ خانے میں مرکزی ہتھیار کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے ۔ واشنگٹن میں ایک عہدہ دار نے کہا ہے کہ سی آئی اے نے ہر قسم کی احتیاط برتی ہے کہ شہریوں کو اس سے کم سے کم خطرہ ہو ۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ ان حملوں میں پاکستان کے اپنے دُشمن باغیوں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے بھی ایک رپورٹ میں امریکی محکمہء دفاع کی اُن سرگرمیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ جن کا مقصد سائیبر ہتھیاروں کی ایک ایسی نئی کھیپ تیار کرنا ہےجس کی مدد سے دُشمن کے فوجی نیٹ ورک کو تباہ کیا جا سکے۔ چاہے وُہ نیٹ ورک انٹڑ نیٹ کے ساتھ جُڑا بھی نہ ہو ۔ سابقہ اور موجودہ عہدہ داروں کے حوالے سے اخبار کہتا ہے کہ ایران اور شام کے ساتھ محاذآرائی کے امکان کی وجہ سے امریکی فوجی منصوبہ بندوں کے لئے ایسے سا ئیبر ہتھیاروں کی اہمیت بڑھ گئی ہے جن کی مدد سے دُشمن کے ایسے اہداف کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ جو انٹر نیٹ پر نہ ہوں۔

اخبار کہتا ہے ٴ کہ دس سال قبل لڑائی میں سائیبر ٹیکنالوجی کاکوئی اہم رول نہیں تھا ۔ لیکن جیسا کہ جوائینٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل مارٹِن ڈیمپسی نے کہا ہے کہ آج اس کا ایک اہم کردار ہے ۔ اس سال پینٹگان سائیبر سیکیورٹی اور سائیبر ٹیکنالوجی پر تین اعشاریہ چار ارب ڈالر خرچ کر رہاہے ۔ اور میری لینڈ میں 2010 میں ایک امریکی سایئبر کمانڈ کا قیام بھی عمل میں آیا ۔ جس کا روان سال کا بجٹ 154سوملین ڈالر ہے۔ امریکی عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ اس وقت جو سائیبر ہتھیار محکمے کے پاس ہیں ، اُن سے دُشمن کے ہتھیاروں کے اجزائے ترکیبی کو ناکار بنایا جاسکتا ہے، لیکن غالباً بالکل تباہ نہیں کیا جا سکتا ۔

کرسچن سائینس مانٹر کہتا ہے کہ صدر باراک اوباما نے اگرچہ باقاعدہ طور پر اپنی انتخابی مہم شروع نہیں کی ہے ۔لیکن دوسرے صدور کی طرح اُن کی یہ مہم حلف برداری کے دن سے ہی شرع ہوئی تھی۔ پچھلے ہفتے اوباما کی طرف سے ایک دستاویزی فلم جاری گئی ۔ جس میں چار سال قبل انہیں صدر منتخب کرنے والے کروڑوں عوام کی یادہانی کرا ئی گئی ہے کہ انہیں کیوں دوبار ہ انہیں کو ووٹ دینا چاہئے۔ ۔ اخبار کہتا ہے کہ اب تک رائے عامہ کے جو جائزے ہوئے ہیں ۔ ان میں وہ چار ری پبلکن صدارت امیدواروں میں سے ہر ایک کے مقابلے میں آگے ہیں، اور جیسے جیسے معیشت نے کُچھ طاقت پکڑنا شروع کی تو ان کی مقبولیت کاگراف اُوپر چڑھتا رہا۔ لیکن پٹرول کے دام بڑھنے شروع ہوئے تو یہ گراف پھر نیچے آنا شروع ہوا، اُدھر ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں 16 افغان شہریوں کی ہلاکت کے بعداخبارکا خیال ہے کہ امریکی اس دس سالہ جنگ کے بارے اور بھی بدظن ہو جائیں گے اور اس جنگ کی ذمہ داری اب صدر پر ڈالی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG