رسائی کے لنکس

مشرق وسطیٰ تحاریک، سعودی عرب اپنے اوپرانحصارکی پالیسی پرعمل پیرا


مشرق وسطیٰ تحاریک، سعودی عرب اپنے اوپرانحصارکی پالیسی پرعمل پیرا

مشرق وسطیٰ تحاریک، سعودی عرب اپنے اوپرانحصارکی پالیسی پرعمل پیرا

اخبار’ واشنگٹن پوسٹ‘ نےاپنے مضمون میں مزید لکھا ہے کہ، سعودی عرب نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اب وہ خود اپنے آپ پر انحصار کرے گا

اخبار ’واشنگٹن پوسٹ ‘کے ایک مضمون میں لکھا گیا ہے کہ جب سے عرب ممالک میں تحریکیں شروع ہوئی ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں اثرورسوخ کے لحاظ سے سعودی عرب نے امریکہ کی جگہ لے لی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں وہ اسے مزید بڑھائے گا۔

مضمون نگار نے لکھا ہے کہ گو کہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ دوستی کو بہت اہمیت دیتا ہے، مگر اب اِسے اپنے محافظ کے طور پر نہیں دیکھتا۔اِس لیے، سعودی عرب نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اب وہ خود اپنے آپ پر انحصار کرے گا۔

اِس کے علاوہ جِن ملکوں کی طرف سعودی عرب دیکھ رہا ہے اُن میں عسکری پارٹنر پاکستان اور اس کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ، چین ہے۔

کالم نگار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی اِس سے پہلے پالیسی یہ تھی کہ وہ سرجھکائے رکھے، شدت پسند گروپوں میں پیسے تقسیم کرتا رہے تاکہ ملک کے اندر امن رہے اور سکیورٹی کے لیے امریکی فوج پر انحصار کرے۔ تاہم، اب سعودی عرب کھلے عام اپنے جذبات کا اظہار کرنے لگا ہے، خاص طور پر ایران کو چیلنج کرنے کے سلسلے میں شام کے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کی بھی اُس نے کھلے عام حمایت کی ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ پیسا سعودی عرب کا ایک بہت بڑا اثاثہ ہے اور وہ علاقے میں اپنی حیثیت کو مضبوط بنانے کی کوشش میں اسے کھلے عام خرچ کرنا چاہتا ہے۔ اِس سلسلے میں اُس نے اگلے دس سال میں اپنی فوج میں دوگنا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہر سال 15ارب ڈالر بگڑتی ہوئی معیشتوں کو سہارا دینے کے لیے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

اخبار ’یو ایس اے ٹوڈے‘ نے اپنے اداریے میں امریکہ میں جاری ’اکیوپائی وال اسٹریٹ‘ تحریک کو موضوع بنایا ہے۔ امریکہ کے مختلف شہروں میں کئی لوگوں نے گذشتہ دو ماہ سے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے مختلف شہروں کے عوامی مقامات پر خیمے گاڑ رکھے ہیں اور احتجاجاً وہاں براجمان ہیں۔ اب آہستہ آہستہ تمام شہروں کی انتظامیہ اُنھیں وہاں سے ہٹانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔اخبار لکھتا ہے کہ یہ اس تحریک کے لیے ایک اچھا موقع ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک سیاسی جدوجہد میں تبدیل کردے۔

اخبار لکھتا ہے کہ اب تک یہ تحریک اس حد تک کامیاب ہوئی ہے کہ اُس نے امریکہ میں بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی تفریق کو اجاکر کیا ہے، مگر اب اسے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ جِن پالیسیوں کی وجہ سے ایسا ہورہا ہے وہ پارلیمان میں بنائی جاتی ہیں اور اِن نوجوانوں کو چاہیئے کہ اِن کی مخالفت کرنے کے لیے اب وہ اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔

اخبار لکھتا ہے کہ پچھلے سال کانگریس کے انتخابات میں 18سے 24سال کی عمر کے لوگوں میں سے صرف 20فی صد نے ووٹ ڈالا تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہی وجہ تھی کہ 2008ء میں بہت بڑی تعداد سے جیتنے والے صدر براک اوباما کی پارٹی 2010ء کا الیکشن ہارگئی۔

اخبار لکھتا ہے کہ ’اکیوپائی وال اسٹریٹ‘ تحریک میں شامل اگر نوجوان ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں تو اگلے انتخابات کے بعد وہ شاید پالیسی میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہو جائے۔

اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ بچوں میں بڑہتے ہوئے موٹاپے کو روکنے کے لیے امریکی کانگریس نے وفاقی تجارتی کمیشن سے کہا تھا کہ وہ بچوں کو بیچی جانے والی خوراک کے لیے غذائی معیار مقرر کرے۔

اپریل میں کمیشن نے خوراک کی انڈسٹری کے لیے ان معیار پر مبنی سفارشات جاری کی تھیں۔ تاہم، حال ہی میں تجارتی کمیشن نے حکومت کے اہل کاروں کو بتایا ہے کہ خوراک کی صنعت سے ملنے والی بہت سی شکایتوں کے بعد وہ اپنی سفارشات میں ردوبدل کررہا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ یہ اقدام بچوں کی صحت کے لیے بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ خوراک کی صنعت کے حق میں لوبی کرنے والے ہر سال بچوں کی خوراک کے اشتہاروں پر دو ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں اور اب کوشش کر رہے ہیں کہ غذائی معیار برقرار رکھنے کے لیے جو تجاویز دی گئی ہیں اُن کو ختم کرایا جائے۔ حالانکہ، اِن تجاویز پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے۔ تاہم، یہ خوراک کی صنعت کے لیے ایک گائیڈ لائن ہے جِس کا مقصدر بچوں کی صحت کا خیال کرتے ہوئے اچھی خوراک مہیا کرنا ہے۔

اِس کمیشن نے جو تجاویز پہلے پیش کی تھیں اُنمیں یہ شامل تھا کہ بچوں کو بیچی جانے والی خوراک میں اضافی شگر یا چکناہٹ جیسے غیر صحتمندانہ اجزا نہ ہوں، بلکہ دو سے 17سال کے بچوں کے لیے جس غذا کی تشہیر کی جاتی ہے اُن میں غذائیت سے بھرپور اجزا شامل ہوں۔

تاہم، اِن سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا اور ایک جائزے کے مطابق، ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے خوراک کے اشتہاروں میں سے 86فی صد وہ اشتہار ہوتے ہیں جِن میں بچوں کی غیر صحت مندانہ خوراک کی تشہیر کی گئی ہوتی ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ بجائے اِس کے کہ حکومت خوراک کی صنعت کے لیے لوبی کرنے والوں کے دباؤ میں آئے اُسے چاہیئے کہ وہ ایسے مزید اقدامات کرے جس سے بچوں کو غیر صحتمندانہ خوراک بیچنے پر قابو پایا جاسکے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG