رسائی کے لنکس

انتہائی فوجی دباؤ کے بغیرشاید طالبان سنجیدہ مذاکرات پر تیار نہ ہوں: گیٹس

  • صلاح احمد

انتہائی فوجی دباؤ کے بغیرشاید طالبان سنجیدہ مذاکرات پر تیار نہ ہوں: گیٹس

انتہائی فوجی دباؤ کے بغیرشاید طالبان سنجیدہ مذاکرات پر تیار نہ ہوں: گیٹس

اگلے چند روز میں صدراوباما فیصلہ کرنے والے ہیں کہ افغانستان میں اِس وقت جو ایک لاکھ امریکی فوجی موجود ہیں، ابتدا میں اُن میں سے کتنے فوجی نکالے جانے چاہئیں

’بوسٹن گلوب‘ کے مطابق ایسے میں جب صدر اوباما افغانستان سے فوجوں کی واپسی کے بارے میں فیصلہ کرنے والے ہیں ، اُن کے سبک دوش ہونے والے وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ اُنھیں یقین نہیں ہے کہ طالبان اُس وقت تک لڑائی بند کرنے پر سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے جب تک وہ اپنے آپ کو انتہائی فوجی دباؤ میں نہ محسوس کریں۔

گو، اُنھوں نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ نے طالبان سے رابطہ کیا ہے جو ابھی ابتدائی نوعیت کا ہے۔ صدر کرزئی نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ امریکی اور افغان حکومتوں نے طالبان ایلچیوں سے اِس دس سالہ جنگ کو ختم کرنے کی کوشش میں مذاکرات کیے ہیں۔

اگلے چند روز میں صدراوباما فیصلہ کرنے والے ہیں کہ افغانستان میں اِس وقت جو ایک لاکھ امریکی فوجی موجود ہیں، ابتدا میں اُن میں سے کتنے فوجی نکالے جانے چاہئیں۔ صدر کہہ چکے ہیں کہ یہ تعداد اچھی خاصی ہوگی، لیکن رابرٹ گیٹس اُن لوگوں میں شامل ہیں جو فوجوں کی قلیل ترین تعداد کو نکالنے کے حق میں ہیں۔

مسٹر گیٹس کو اعتراف ہے کہ اِس قسم کی جنگوں کا با الآخر خاتمہ سیاسی تصفیے سے ہی ہوسکتا ہے۔ لیکن، وہ کہتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ طالبان کب صدر کرزئی اور اتحادی ملکوں کی شرائط قبول کرنے پر تیار ہوں گے، جِن میں ایک شرط یہ ہے کہ القاعدہ سے قطعی طور پر اپنا ناتا توڑ لیں۔

بغیر ہوا باز کے چلنے والے ڈرون طیاروں سے تو آپ واقف ہوں گے ہی جِس کا استعمال پچھلے دس سال کے دوران افغانستان کی جنگ میں تُندی آنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا گیا ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ دس سال قبل محکمہ دفاع کے پاس ایسے طیاروں کی تعداد 50سے کم تھی جو اب بڑھ کر 7000ہوگئی ہے۔ اور اخبار کی اطلاع ہے کہ اگلے دس سال کے دوران امریکی ایئر فورس میں ایسے طیاروں کی تعداد میں کمی آجائے گی جنھیں ہواباز چلاتے ہیں۔ لیکن،’ رِیپر‘ قسم کے ڈرون طیاروں کی تعداد بڑھ جائے گی جِن میں سے نہ صرف جاسوسی کرنے بلکہ میزائل داغنے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔

’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق، محکمہ دفاع، پینٹاگان نے کانگریس سے اگلے سال ڈرون طیاروں کے لیے پانچ ارب ڈالر کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران، ڈرون طیاروں نے جنگوں اور دہشت گردی سے نمٹنے میں کلیدی سے بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے احاطے کی جاسوسی سی آئی اے نے چمگادڑ سے مشابہہ RQ170Sentinelنامی ڈرون طیارے سے اُسے بھیجے جانے والے وِڈیو سے کی تھی اور پاکستان سے سب سے زیادہ مطلوبہ ملزم الیاس کشمیری کی ہلاکت بھی سی آئی اے کے ڈرون حملے میں ہوئی تھی، اور انتظامیہ کے عہدے داروں کے حوالے سے اخبار نے کہا ہے کہ جارحانہ ڈرون حملوں کی مہم نے اِس خطے میں القاعدہ کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے اور افغانستان سے امریکی فوجوں کی جلد واپسی کے لیے راہ ہموار کی ہے۔

سنہ 2006سے اب تک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں 1900سے زیادہ باغی امریکی ڈرونز کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ہیں اور امریکی فوج کے اندر کسی کو اِس سے اختلاف نہیں کہ ڈرون طیاروں نے امریکی جانیں بچائی ہیں۔

’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق معیشت کے بارے میں ملے جلے اشارے مل رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف صارفین نے ابھی تک ہاتھ کھینچ رکھا ہے، قلیل وقتی نقطہٴ نظر سے بحالی کے آثار واضح ہیں۔

اخبار کے مطابق یہ متضاد رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ اقتصادی بحالی تیسرے سال میں داخل ہونے پر جِن مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں اُن میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور روزگار کے مواقع کی مایوس کُن صورتِ حال شامل ہے۔

’کانفرنس بورڈ‘ نامی تحقیقی ادارے کے مرتب کردہ اقتصادی اشاروں کا انڈیکس مئی میں 0.8فی صد بڑھا ہے، جب کہ اپریل کے مہینے میں یہ اعشاریہ 0.4فی صد کرگیا تھا۔

اِس طرح، اگلے چند ماہ کے دوران معیشت سست رفتار لیکن مسلسل بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ محکمہٴ محنت نے جمعے کو بتایا تھا کہ ملک کی 25ریاستوں میں بیروزگاری کی شرح قومی اوسط سے خاصی کم ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG