رسائی کے لنکس

عراق سےفوجیں واپس بلانے کے اعلان کا مطلب جنگ کاباقاعدہ خاتمہ

  • صلاح احمد

عراق سے فوجوں کا انخلا (فائل فوٹو)

عراق سے فوجوں کا انخلا (فائل فوٹو)

امریکی اخبارات سے: ’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ صدر اوباما کا یہ اعلان کسی حیرت کا حامل نہیں تھا۔ البتہ، اِس سے 2008ء کی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے اُن کے اُس وعدے کا ایفاٴ ہوتا ہے کہ وہ عراق کی جنگ ختم کردیں گے

جمعے کو صدر اوباما نے اِس سال کے آخر تک عراق سے امریکی فوجیں واپس بلانے کا جو اعلان کیا ہے، اُس پر’ نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ اِس کے نتیجے میں عراق کی لگ بھگ نو سالہ جنگ کا باقاعدہ خاتمہ ہوگیا، جِس میں امریکہ کے 4400فوجی کام آئےاور جِس پر دس کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے۔

امریکہ نے پہلے تین یا پانچ ہزار فوجی عراق میں رکھنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ لیکن، بغداد میں جو امریکی عہدے دار اِس سلسلے میں مذاکرات کر رہے تھے، وہ اِس نتیجے پر پہنچے کہ عراقی پارلیمنٹ سے اِن فوجیوں کے لیے مقدمے سے استثنیٰ حاصل کرنا ناممکن ہوگا۔ اِس قسم کا استثنیٰ جرمنی، جاپان اورجنوبی کوریا میں متعین امریکی فوجیوں کو حاصل ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ صدر اوباما کا یہ اعلان کسی حیرت کا حامل نہیں تھا۔ البتہ، اِس سے 2008ء کی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے اُن کے اُس وعدے کا ایفاٴ ہوتا ہے کہ وہ عراق کی جنگ ختم کردیں گے۔

اخبار کہتا ہے کہ صدر اوباما نے یہ اعلان سمندر پار ملکوں میں گِرتی ہوئی امریکی فوجی شمولیت کے تناظر میں کیا ہے۔

صدر نے اعلان کیا کہ جنگ کی لہر مدھم پڑتی جارہی ہے۔ اور لیبیا میں کرنل معمر قذافی کی وفات کا ذکر کرتے ، یہ کہا کہ یہ نہ صرف اُس ملک میں نیٹو کی فوجی کارروائی کے لیے بلکہ افغانستان کے لیے بھی اُس عبوری دور کے لیےاچھا شگون ہے جِس کے خاتمے پر افغان اپنی سکیورٹی خود سنبھالیں گے۔

اخبارنے ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے، جِس نے اپنا نام صیغہٴ راز میں رکھنے پر اصرار کیا، کہا ہے کہ 2012ء میں کچھ امریکی فوجیوں کو پھر سے عراق میں متعین کرنے پر بات چیت جاری رہے گی۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ بعض عراقی سیاست دانوں کی بھی ترجیح ہے جو اِس بات کا اِس وقت کریڈٹ لینا چاہتے ہیں کہ اُنھوں نے امریکی فوجیوں کا قبضہ، جیسا کہ بیشتر لوگ اُسے بیان کرتے ہیں، ختم کرادیا۔ حالانکہ، قانونی اعتبار سے یہ قبضہ کئی سال قبل ختم ہو گیا تھا۔

اخبار کہتا ہے کہ کچھ اور تجاویز بھی زیرِ غور ہیں جِن میں عراقی فوجیوں کو امریکہ میں تربیت دینا شامل ہے یا پھر پڑوسی ملک کویت میں ایک اور تجویز یہ ہے کہ نیٹو کی سرپرستی میں بعض امریکی فوجیں واپس عراق آئیں۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ پنٹگان کے سرکردہ عہدے داروں کو تسلیم ہے کہ عراق کی خانگی سیاست کی روِش میں جب تک تبدیلی نہیں آتی اُس وقت تک طویل مدت تک امریکی فوجوں کی عراق میں موجودگی پر بات چیت کا امکان نہیں، ماسوائے امریکی محکمہٴ دفاع کے اُن 150اہل کاروں کے جو بغداد میں امریکی سفارت خانے میں متعین ہیں اور امریکی محکمہٴ خارجہ کے توسط سے عراقی سکیورٹی افواج کے ساتھ رابطہ رکھیں گے۔

’’یو ایس اے ٹوڈے‘ کہتا ہے کہ صدر اوباما کےعراق سے فوجیں واپس بلانے کے اعلان کا کانگریس میں ڈیموکریٹک ارکان نے خیر مقدم کیا ہے۔

سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے چیرمین کارل لیون نے کہا ہے کہ صدر کا فیصلہ صائب ہے، کیونکہ عراقیوں نے امریکی فوجیوں کو استثنیٰ دینے سے انکار کردیا تھا، جب کہ سینیٹر جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ اپنا وعدہ پورا کر رہا ہے جب کہ عراقی حکومت اپنا مستقبل خود سنوارنا چاہتی ہے۔

بعض قدامت پسندوں نے فوجیں واپس بلانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

ری پبلکن صدارتی امیدوار مِٹ رامنی نے صدر کے فیصلے کی نیت پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ یا تو کھلی سیاسی چالبازی کا نتیجہ ہے یا عراقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اناڑی پنے کا ثبوت ہے۔

ایک اور ری پبلکن امیدوار مشل باخ من Michelle Bachmanنے کہا کہ امریکہ کو عراق سے نکال دیا جا رہا ہے۔ اُنھوں نے انتظامیہ سے کہا کہ وہ عراقی حکومت سےمطالبہ کرے کہ وہ امریکی حکومت کو اُن کےملک کو آزاد کرانے کا معاوضہ ادا کرے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG