رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: فلسطین اور اقوام متحدہ کی رکنیت


امریکی اخبارات سے: فلسطین اور اقوام متحدہ کی رکنیت

امریکی اخبارات سے: فلسطین اور اقوام متحدہ کی رکنیت

اخبار’واشنگٹن ٹائمز‘ لکھتا ہے کہ فلسطینیوں کوبے انتہا غیر ملکی امداد ملتی ہے اورصرف امریکہ ہی ہر سال اُنھیں 500ملین ڈالر کی امداد دیتا ہے، جِس کی وجہ سے واشنگٹن کا کچھ نہ کچھ زور چلنا چاہیئے

جیسےجیسےاقوام متحدہ کی رکنیت کےلیےفلسطین کی طرف سےدی جانےوالی درخواست کا وقت نزدیک آرہا ہے، امریکی اخبارات کے زیادہ تر اداریے بھی اِسی موضوع پر لکھے جارہے ہیں۔

اخبار’واشنگٹن ٹائمز‘ لکھتا ہے کہ امریکی سفارت کاروں میں اِس سلسلے میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے، لیکن فلسطینی کہہ رہے ہیں کہ وہ یہ سب کچھ وائٹ ہاؤس کے مشورے پر کر رہے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ 2010ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں صدر اوباما نے اُس وقت جاری امن مذاکرات جو امریکہ کی سربراہی میں ہورہے تھےاُن کے بارے میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا: ’میں امید کرتا ہوں کہ جب ہم اگلے سال یہاں اقوام متحدہ میں آئیں گے تو ایک ایسے معاہدے پر پہنچ چکے ہوں گے، جس کے تحت ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو چکی ہوگی‘۔ تاہم یہ امن مذاکرات جاری نہ رہ سکے۔

اخبار لکھتا ہےکہ اُس وقت صدراوباما کے ذہن میں یہ بات ہوگی کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے اورجس تاریخی معاہدے پردستخط کرنے کی تقریب منعقد ہوگی، وہ خود اُس کی صدارت کر رہے ہوں گے۔ لیکن، ایسا نہیں ہوا۔

اخبار لکھتا ہے کہ فلسطینیوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں ہوگا۔ پہلے ہی 140ممالک کے اُن سے کسی نہ کسی طرح کے سفارتی تعلقات ہیں اور 105ممالک فلسطین کوخودمختار ریاست تسلیم کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ووٹ کے بعد اُن کی قانونی حیثیت مزید بہتر ہوجائے گی۔

اخبارلکھتا ہے کہ فلسطینیوں کو بےانتہا غیرملکی امداد ملتی ہےاورصرف امریکہ ہی ہرسال اُنھیں 500ملین ڈالر کی امداد دیتا ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن کا کچھ نہ کچھ زور چلنا چاہیئے۔

لیکن، اخبار کہتا ہے گوکہ اوباما انتظامیہ نے امداد بند کردینے کی دھمکی دی ہے، لیکن اس دھمکی سے کچھ حاصل اس لیے نہیں ہوگا، کیونکہ لوگوں کو پتا ہے کہ صدر اوباما اِس پر عمل نہیں کریں گے۔

اخبار لکھتا ہے کہ اس سال کے شروع میں جب فتح تنظیم نےحماس کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے، اُس وقت بھی امریکہ نے امداد بند کردینےکی دھمکی دی تھی۔ اُس وقت، فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا تھا کہ فلسطینیوں کو امریکہ کے پیسے کی ضرورت ہے، مگر اگر وہ اس امداد کو ہم پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کریں گے تو ہم یہ امداد نہیں لیں گے۔ اخبار لکھتا ہے کہ فتح اور حماس کے درمیان مذاکرات جاری رہے، لیکن امریکہ نے امداد بند نہیں کی۔

اخبار نے کہا ہے کہ امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر ترکی الفیصل نے بڑے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ اگر امریکہ نے اقوام متحدہ میں فلسطین کی مخالفت کی تو عرب دنیا میں اُس کی ساکھ مزید کمزور ہوجائے گی،اسرائیلی سکیورٹی کو خطرہ ہوگا، ایران طاقتور ہوجائےگا اورعلاقے میں ایک اور جنگ چھڑ سکتی ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ کوئی بعید نہیں کہ مسلمانوں کی طرف دوستی بڑھانے کی کوشش میں صدر اوباما اس قرارداد کے حق میں ہی ووٹ نہ دے دیں۔

اخبار’نیو یارک ٹائمز‘ میں اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کا کالم چھپا ہے جس میں اُنھوں نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کا معاملہ اقوام متحدہ میں جانے سے وہ خود کوبے حد بے چین محسوس کررہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ بیشک محمود عباس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں جائیں اور زیادہ تر ممالک اُن کے اس عمل کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن، یہ کوئی بہت عقل مندانہ اقدام نہیں ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فسادات شروع ہوجائیں اور کسی قسم کے امن سمجھوتے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جب وہ وزیر اعظم تھے تو اِس مسئلے کے حل کے لیے اُنھوں نے ایک منصوبہ پیش کیا تھا جس کے تحت فلسطینی ریاست کے لیے غزہ کی پٹی اور غربِ اردن پر مبنی اتنی زمین مختص کردی جاتی جتنی اُن کے پاس 1968ء سے پہلے تھی جس میں کچھ زمینوں کا تبادلہ بھی شامل تھا۔ یروشلم پر دونوں کی ملکیت ہوتی جس کے یہودی علاقے اسرائیل کے دارالحکومت ہوتے اور عرب علاقے فلسطین کے مذہبی مقامات پر کوئی اپنی اجارہ داری قائم نہ کرتا بلکہ سعودی عرب، امریکہ اور اردن کی مدد سے اِن کا نظام چلایا جاتا۔ فلسطینی پناہ گزیں واپس آتے لیکن اسرائیل میں نہیں فلسطین میں۔ البتہ، کچھ پناہ گزینوں کوانسانی ہمدردی کے طور پر اسرائیل آنے دیا جاتا۔

فلسطینی مملکت کی فوج نہ ہوتی اورنہ ہی وہ کسی ملک سےفوجی اتحاد قائم کرتا اوردونوں ملک دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرتے۔

ایہود اولمرٹ لکھتے ہیں کہ مسٹرعباس نے اِس منصوبے کوکبھی باقاعدہ طورپرمسترد نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مسٹر نتن یاہو اور مسٹر عباس کو چاہیئے کہ وہ دوبارہ اِس منصوبے پر غور کریں، کیونکہ اُن کو اب کچھ نڈر اور مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG