رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات کے مضامین اور اداریے: ری پبلیکن صدارتی نامزدگی


امریکی اخبارات کے مضامین اور اداریے: ری پبلیکن صدارتی نامزدگی

امریکی اخبارات کے مضامین اور اداریے: ری پبلیکن صدارتی نامزدگی

ہفتے کے روز ساؤتھ کیرولینا میں ہونے والے پرائمری انتخاب کے نتائج نے ملک کو ایک انتہائی سمت میں دھکیل دیا ہے، کیونکہ نیوٹ گِنگرچ کی 12.5فی صد کے واضح فرق سے کامیابی ثابت کر رہی ہے کہ وہ قدامت پسندی اور نسلی مزاحمت کے عنصر سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوئے ہیں، کہ اُن کے مباحثے کی بنیاد اِس پیغام پر تھی

امریکہ کے بیشتر اخبارات نے ملکی سیاست سے جُڑے موضوعات کو اپنے اداریوں اور مضامین میں سمویا ہے، خاص طور پر ری پبلیکن پارٹی سے صدارتی نامزدگی کے حصول کی دوڑ موضوعِ بحث ہے۔

’اخبار نیو یارک ٹائمز‘ South Carolina’s Divisive Messageکے عنوان سے مضمون میں لکھتا ہے کہ 1982ء کے بعد سے آج تک جنوبی ریاست میں ہونے والے پرائمریز میں جو بھی ری پبلیکن امیدوار کامیاب ہوا ہے، صدارتی نامزدگی اُسی کا مقدر بنی ہے۔ لیکن، یہاں ہفتے کے روز ہونے والے پرائمری کے نتائج نے ملک کو ایک انتہائی سمت میں دھکیل دیا ہے، کیونکہ نیوٹ گِنگرچ کی 12.5فی صد کے واضح فرق سے کامیابی ثابت کر رہی ہے کہ وہ قدامت پسندی اور نسلی مزاحمت کے عنصر سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوئے ہیں، کہ اُن کے مباحثے کی بنیاد اِس پیغام پر تھی۔

مصنف لکھتے ہیں کہ اگرچہ ساؤتھ کیرولینا تاریخی اعتبار سے قدامت پسندی کی حامی ریاست واقع ہوئی ہے، مگر جب سے براک اوباما نے عہدہٴ صدارت سنبھالا ہے یہاں دائیں بازو کے لیے حمایت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

سال 2000ء میں 24فی صد ووٹروں نے بتایا تھا کہ وہ بے حد قدامت پسند ہیں۔ لیکن، سال 2008ء میں یہ شرح 34فی صد تک پہنچ گئی جب کہ اب 37فی صد سے زائد قدامت پسند ہیں۔

مصنف کے مطابق، سب سے زیادہ توجہ طلب بات یہ ہے کہ ریاست کے بیشتر ووٹروز یہ سمجھتے ہیں کہ وفاقی اخراجات میں کمی ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے بھی زیادہ اہم بات ہے۔ ایسے وقت میں جب امریکہ میں 13ملین افراد بے روزگار ہیں، ساؤتھ کیرولینا کے یہ ووٹرز نہیں چاہتے کہ حکومت اِس بارے میں کچھ کرے۔

مصنف کے بقول، غالباً وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے صدر براک اوباما کے دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے کے امکانات بہتر ہوجائیں گے۔

مصنف لکھتے ہیں کہ اِن نتائج کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ری پبلیکن امیدواروں کے درمیان نامزدگی کے حصول کی دوڑ طوالت اختیار کرے گی، کیونکہ مِٹ رامنی بظاہر آگے بڑھ رہے تھے اور ساؤتھ کیرولینا کے اِن نتائج نے نئے امکانات پیدا کردیے ہیں۔ اِس طرح، ریاست نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ کج روی کے راستے پر گامزن ہے۔

اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے بھی ریاست ساؤتھ کیرولینا پرائمری کے حوالے سے ایک مضمون شائع کیا ہے جس کا عنوان ہےNewt Gingrich exploits politics of class & cultureاخبار لکھتا ہے کہ بھلے ری پبلیکن اِس بات کی تردید کریں، مگر نیوٹ گنگرچ نے کلاس اور کلچر کی سیاست کو یکجا کرتے ہوئے ساؤتھ کیرولینا میں نہ صرف مِٹ رامنی کو شکست دی ہے، لیکن 14برسوں میں اُن کی یہ پہلی فتح درحقیقت پارٹی کی شکست ثابت ہوئی ہے۔

مصنف کے مطابق، ذاتی جائداد، کاروبار اور کاروبارِ زندگی سے متعلق سوالات پر مِٹ رامنی کے قدم ڈگمگاتے نظر آئے اور گنگرچ نے اُنھیں ایک کامیاب بزنسمین سے ایک ایسےسخت دل سرمایہ کار کے طور پر تعبیر کیا جو روزگار پیدا کرنے کے بجائے ذاتی منافع کو ترجیح دیتا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ گنگرچ کے اِس استدلال نے صدر براک اوباما کی ٹیم کو اُن کی ایک ایسی کمزوری تھما دی ہے جس سے فائدہ اٹھانا اُنھیں خوب آتاہے۔ لہٰذا، اب جب تک مِٹ رامنی کھل کر اپنے اثاثوں اور کاروبار کے حوالے سے گفتگو نہیں کرتے، بظاہر وہ مستحکم پوزیشن حاصل کرنے میں مشکلات سے دوچار رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG