رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: کرسمس پرخیرات اور رضاکارانہ خدمات

  • صلاح احمد

وائٹ ہاؤس کے سامنے روشن کیا گیا نیشنل کرسمس ٹری

وائٹ ہاؤس کے سامنے روشن کیا گیا نیشنل کرسمس ٹری

سنگین معاشی حالات کے باوجود، سال روا ں میں امریکی قوم، وقت اور پیسے لگانے کے اعتبار سے دنیا کی سب سے زیادہ مخیّر قوم کی حیثیت سے اُبھری ہے

امریکہ میں ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹنے کی پرانی روایت ہے اور کرسمس کے دِنوں میں خاص طور پر لوگ رضاکارانہ خدمات اور خیراتی کاموں میں دل کھول کر شرکت کرتے ہیں۔

’لاس اینجلس ٹائمز‘ اخبار ایک ادارئے میں کہتا ہےکہ سنگین معاشی حالات کے باوجود، بین الاقوامی فاوٴنڈیشن کےسالانہ استصواب سے یہ حقیقت سامنےآئی ہے کہ سال رواں میں امریکی قوم وقت اور پیسہ لگانے کے اعتبار سے دنیا کی سب سے زیادہ مخیّر قوم کی حیثیت سے اُبھری ہے۔ اِس سے ایک سال قبل، اِس مد میں اُس کا نمبر چوتھا تھا۔

استصواب کے مطابق، دو تہائی امریکیوں کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے خیرات میں پیسہ دیا، جب کہ 40 فی صد نے کہا کہ اُنہوں نے رضاکارانہ خدمات سرانجام دیں۔ اِس کے باوجود، اخبار کا خیال ہے کہ دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ خوشحال ہوتے ہوئے امریکیوں کی خیرات کسی حد تک کم کے زُمرے میں آتی ہے۔ اور، اخبار کے بقول، خیرات کے معاملے میں تھا ئی لینڈ کے لوگ سب سے زیادہ مخیّر واقع ہوئے ہیںَ ، جہاں 85 فی صد لوگوں نے کہا کہ اُنہوں نے خیرات میں پیسہ دیا ہے۔

اخبار نے ایک اور استصواب کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکیوں میں خیرات کرنے کی عادت بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کے آدھے سے زیادہ خیراتی اداروں کا کہنا ہے کہ اس ملک کے لوگ زیادہ مخیر ہوتے جا رہے ہیں۔ اور یہ کہ پچھلے سال کے مقابلے میں، اُنہیں اِس سال خیرات کی مد میں زیادہ پیسہ ملا ہے، بیس فی صد اداروں کو امید ہے اس سال اس مد میں 20 فی صد زیادہ پیسہ جمع ہوگا۔

اخبار کا خیال ہے کہ اس سال خیرات کی اس فزوں تر رقم کی ایک وجہ روزگار کے مشکل حالات تھے اور انہیں مشکل حالات کے باوجود لوگوں کو خیرات دینے کی ترغیب ہوئی

اخبار کہتا ہے کہ امریکی خاص طور پراجنبیوں کی امداد کرنے پرآمادہ ہوتے ہیں، اور اُن کی یہ فیاضانہ عادت امریکہ کے بارے میں اس تاثّر کو جھٹلاتی ہے کہ یہان نفسی نفسی کا عالم ہے۔

امریکی محکمہٴ دفاع پینٹگان کی طرف سے عراق کی جنگ کےباقاعدہ خاتمے کےاعلان کے بعد معروف کالم نگار آریانہ ہفنگٹن کا ’شکاگو ٹریبیون ‘ میں ایک مضمون چھپا ہے، جِس میں وہ کہتی ہیں کہ باوجودیکہ وزیر دفاع لیون پینیٹا نے دعویٰ کیا ہے کہ اِس جنگ پر امریکہ کو جو قیمت ادا کرنی پڑی ہے وُہ مناسب تھی۔ لیکن، اگر اِس پر آنے والی لاگت پر غور کیا جائے تو یہ تلخ حقائق سامنے آتے ہیں، یعنی 4487 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، اس کے علاوہ دو ہزار سے زیادہ ایسے لوگوں کی جانیں بھی گیئں، جو امریکی حکومت کے لئے ٹھیکے پر کام کرتے تھے ۔40 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی زخمی ہوئے، ایک لاکھ سے زیادہ عراقی ہلاک ہوئے اور کم ازکم20 لاکھ عراقی گھر سے بے گھر ہو گئےاور مجموعی طور پر اس جنگ پر آنے والی لاگت جو امریکی ٹیکس دہندگاں نے دیا40 کھرب ڈالر تک جا سکتی ہے، جب کہ محکمہء دفاع کا ابتدائی تخمینہ 50 اور 80 ارب ڈالر بتایا گیا تھا۔

اس جنگ پر ایسی لاگت بھی آئی ہے جِس کی قیمت لگانا مشکل ہے اور وہ ہیں امریکی مردوں اور عورتوں کے وہ جسمانی اور جذباتی گھاؤ ، جو انہیں اپنے فرض کی انجام دہی کے دوران لگے اور جِن کا احاطہ ڈیوڈ ووڈ نامی صحافی نے محاذ جنگ سے ماوریٰ نامی کتاب میں کیا ہے اور جِس کے لئے اُس نے نو ماہ تک عراق اور افغانستان کی جنگ میں شدید زخمی ہونے والے فوجیوں اور ان کے معالجوں سے گفتگو کی۔

اور آخر میں، ’ہیوسٹن کرانیکل‘ اخبار کا شمالی کوریا کے ڈکٹیٹر کِم ال جان کا یہ تبصرہ کہ اُس کی موت نے غیر ملکی صورت حال کو، جو پہلے ہی پیچیدہ تھی، مزید پراسرار اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اوربیٹا اور جانشین کم ال ان کون ہے؟ کیا بالآخر وہ ایک طاقت ور شخصیت کی حیثیت سے ابھرے گا ۔ یا آسان سا کٹھ پتلی ثابت ہوگا۔ کیا چین کو اِس کا قائل کیا جاسکتا ہے کہ وہ شمالی کوریا کو بین الاقوامی دھارے میں لانے کے لئے زیادہ سر گرمی سے کام کرے۔ یہ سوال بھی اہم ہیں اور اِن کے نتائج بھی۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG