رسائی کے لنکس

امریکی اخبارا ت سے: ایران کا جوہری پروگرام

  • صلاح احمد

امریکی اخبارا ت سے: ایران کا جوہری پروگرام

امریکی اخبارا ت سے: ایران کا جوہری پروگرام

اخبار کرسچن سایئنس مانٹر نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سختی کے ساتھ مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے ، کہ جو لوگ ایرانی حکومت پر وار کرنے اور وہاں کی حکومت بدلنے کی وکالت کرتے ہیں۔ وہ دراصل امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں ایک نئی فوجی تباہی میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔

ایران میں یرغمال ہو جانے والے دو امریکیوں برُوس لینگن ، اور جان لِمبرٹ کے حوالے سے اخبار کہتا ہے کہ 9 سال قبل عراق کے بارے میں اسی قسم کی مبالغہ آرائیوں ، خوف و ہراس پھیلانے ، اور غلط بیانیوں کی مدد سے عوام کو دھوکہ دیا گیا تھا اور امریکہ کو ایسی راہ پر ڈال دیا گیا تھا، جو عقل سلیم کے بالکل منافی تھی۔ اور یہ سب کُچھ دوبارہ ہو سکتا ہے ۔ اور اب کی بار جو کچھ ہوگا۔ اس کے مقابلے میں عراق ، بچوں کا کھیل لگنے لگے گا۔ ان سابق یرغمالیوں نے صدر اوباما کو مشورہ دیا ہے کہ جنگ کرنے کی حمایت میں جو شوروغوغا برپا ہے، اسے انہیں یکسر نظر انداز کرنا چاہئے ۔اخبار نے ایران کے خلا ف جنگ نہ کرنے کی 5 وجوہات گنوائی ہیں ۔اوّل یہ کہ ایران خود اپنے لئئے خطرہ ہے اور شام کے بشارالاسد کی حمائت کرنے کے بعد اس کا اس خطے میں کوئی دوست نہیں۔َ دوم، ایران کے حکمرانوں کی اولیں ترجیح ہر قیمت پر اپنا بچاؤ کرناہے۔ سوم، ایرانی حکومت کی آبنائے ہُرمُز بند کرنے کی دہمکی محض ایک گیدڑ بھبکی ہے۔ چہارم، معلوم نہیں کہ ایرانی جوہری بم بنا بھی رہے ہیں یا نہیں اور پھر بم بنا کر وہ کیا حاصل کریں گے۔ اس کی مدد سے نہ تو تہران میں حکومت دشمن احتجاجی مظاہرین کو دبایا جاسکتا ہے اور نا ہی وُہ ایرانی بلوچستان، کردستان،اور دوسرے علاقوں کےعلیٰحدگی پسندوں کو دبانے میں کسی کام آئے گا۔ اور پنج، امریکی صدور کا یہ موقّف رہا ہے کہ انہیں جوہری اسلحے سے لیس پاکستان ، ہندوستان اور شمالی کوریا ناقابل قبول ہیں، دیوار برلن بھی ناقابل قبول تھی۔ لیکن ان تمام امور میں امریکیوں نے اپنی زیرکی کا ثبوت دیا اور اپنی ہی لفّاظی کے اسیر نہیں ہوئے

حکومت پاکستان کی تین شاخوں کی باہمی آویزش پر نیو یارک ٹائمز کے صفحہء اوّل پر ایک تفصیلی جائزہ چھپا ہے، جس کے مطابق فوجی جنرلوں، ججوں اور سیاست دانوں کے درمیان یہ تین طرفہ رسّہ کشی ایسے وقت جاری ہے جب پاکستان کے حالات بڑھتی ہوئی افراتفری کا شکار ہیں ۔ طالبان باغی شمال مغرب میں دندناتے پھر رہے ہیں ۔ ملکی معیشت مشکلات کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے اور تعلیم ، صحت اور دوسرے سماجی شعبوں کے لئے اشد ضروری اصلاحات کو بیشتر نظر انداز کیا گیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکہ کے نقطہء نگاہ سے اس تعطّل کی وجہ سے نومبر میں ہونے والے اس نیٹو فضائی حملے سے توجّہ ہٹ گئی ہےجس میں 26 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے ۔ اور جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات مزید بگڑ گئے تھے اور اس کی وجہ سے توجّہ پاکستان میں امریکہ کی اس اہم ترجیح سے ہٹ گئی ہے۔ یعنی ایسے میں جب افغانستان ، سے 2014 میں امریکی فوجوں کی بھاری تعداد میں واپسی کا وقت قریب ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان کے ساتھ وہ تعاون بڑھانا ۔ جس کی مدد سے افغان طالبان کے ساتھ معاہدہء امن کے لئئے مذاکرات کر نا ہے ۔

اخبار نے جارج ٹاون یونی ورسٹی کی ڈاکٹر پالا نُیو برگ کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کے اداروں کے درمیان اس قسم کی رسّہ کشی کے ہوتے ہوئے۔ سیاست یا خارجہ پالیسی کو کیونکر آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر پالا نیو برگ نےپاکستان کی آئینی سیاست پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اور وُہ کہتی ہیں کہ پاکستان کا مستقبل درخشاں ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کی استعداد ان لامتناہی جھگڑوں میں رائیگاں ہو رہی ہے ۔ کہ اقتدار کا سرچشمہ کہاں ہے۔

تمباکو نوشی کے مسلے پر اخبار بالٹی مور سن ایک ادارئے میں کہتا ہے۔کہ میری لینڈ کی ریاست میں سگریٹوں پر ٹیکس بتدریج بڑھا کر دو ڈالر فی ڈبیا کرنے سے معتد بہ نتائج برآمد ہوئے ہیں اور ٹیکس لگنے سے پہلے جتنے لوگ سگریٹ پیتے تھے اب اس سے کہیں کم پیتے ہیں ۔ خاص طور پرخاص طور پرہائی سکول کے بچوں میں۔

لیکن اخبار کہتا ہے کہ قانون سازون نے جہاں سگریٹ کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ وہاں تمباکو کے دوسرے استعمالوں کو نظر انداز کیا ہے۔ مثلاً نسوار اور چبانے والا تمباکو ۔جس کی وجہ سے تمباکو کی یہ قسمیں مقبول ہو گئی ہیں۔ صحت سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق میری لینڈ میں سگریٹ نوشی ایک تہائی کم ہو گئی ہے۔لیکن ہاتھ سے رول کئے جانے والے سگریٹوں اورسگاروں کی فرووخت بڑھ گئی ہے

XS
SM
MD
LG