رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: تحریر چوک کے احتجاجی مظاہرین

  • صلاح احمد

امریکی اخبارات سے: تحریر چوک کے احتجاجی مظاہرین

امریکی اخبارات سے: تحریر چوک کے احتجاجی مظاہرین

ایسو سی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کےمطابق فوج کا ارادہ ہے کہ وہ قومی نجات کی حکومت کے نام سے ایک نئی سویلین حکومت مقرر کریں گے

’واشنگٹن ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق مصر کے فوجی حکمرانوں کے اس وعدے کے باوجود کہ صدر کے انتخاب کی تاریخ پہلے کردی جائے گی، تحریر چوک کے احتجاجی مظاہرین کو اطمینان نہیں ہے۔ فوج کی اس رعائت کو اس چوک میں موجود لاکھوں افراد نے ٹھکراتے ہوئے ’جاؤ‘ ’جاؤ‘ کے نعرے لگائے۔

ایسو سی ایٹڈ پریس کی اس رپورٹ کے مطابق فوج کی اس پیشکش کا اعلان کرتے ہوئے فیلڈ مارشل تنتاوی نے یہ بھی کہا تھا کہ عام انتخابات مقررہ تاریخ یعنی پیر کو شروع ہونگے اور یہ کہ انھوں نے ایسا م شراف کی سویلین حکومت کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق فوج کا ارادہ ہے کہ وہ قومی نجات کی حکومت کے نام سے ایک نئی سویلین حکومت مقرر کریں گے۔ لیکن مظاہرین کی ایک تنظیم، جوانوں کے انقلابی اتحاد کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہمارے مطالبات واضح ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ فوجی کونسل اقتدار سے الگ ہوجائے اور اسے قومی نجات کی ایک حکومت کو سونپ دیا جائے جس کے پاس مکمل اختیارات ہوں۔

ترجمان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ ملٹری پولیس کے کمانڈر اور وزیر داخلہ کے خلاف پچھلے چند روز کے اُن گھناؤنے جرائم کی پاداش میں مقدمہ چلایا جائے جن میں 29افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس محاذ آرائی کے بعد ملک بھر میں جھڑپیں اور احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں جو فوج کے نو ماہ کے اقتدار کے لیے جاری چیلنج بن گیا ہے اور ملک ایک ایسے بحران کی دلدل میں پھنستا جارہا ہے جو جمہوری دورمیں جانے کے عمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت کا تحریر چوک اس 18روزہ بغاوت کی یاد دلاتا ہے جس کے نتیجے میں فروری میں حسنی مبارک کا تختہ الٹا گیا تھا۔ رواں تحریک کا آغاز ہفتے کے روز ہوا تھا جب فوج اور پولیس نے مل کر تحریر چوک سے سینکڑوں مظاہرین کو، جنھوں نے وہاں ڈیرہ ڈال رکھا تھا، زبردستی نکال دیا تھا۔ طاقت کے استعمال پر سرگرم کارکن مشتعل ہو گئے اور اُنھوں نے دوبارہ تحریر چوک میں جمع ہونا شروع کردیا۔

فوج اور پولیس نے اتوار کو اُنھیں وہاں سے نکالنے کی پوری کوشش کی جس میں اُنھیں ناکامی ہوئی۔ مظاہرین کے حوصلے اس سے اور بڑھ گئے اور وہ وہاں ڈٹ گئے۔

مصر کی عوامی بدامنی پر’ نیویارک پوسٹ‘ میں کالم نگار امیر طاہری لکھتے ہیں کہ مظاہرین اور فوج کے درمیان اب بھی مصالحت ہوسکتی ہے اور مسلح افواج کی سپریم کونسل کو، جو حکومت کا کاروبار چلا رہی ہے، چاہیئے کہ وہ صاف صاف بتادے کی اس کا امن و امان بحال کرنے کے بہانے عبوری دور کو ناکام بنانے کا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں ہے۔

اس کواول تو انتخاب کی تاریخ پرکاربند رہنا چاہیئے، ووٹ گننے اور نتائج کا اعلان کرنےکے پیچیدہ طریقے کو آسان بنانا چاہیئے اور اس میں کئی ماہ نہیں لگنے چاہئیں۔ نتائج کا اعلان تو چند دن میں کیا جاسکتا ہے۔ دوئم وزیر دفاع فیلڈ مارشل تنتاوی کو ریٹائر ہوجانا چاہیئے۔ وہ یوں بھی 2010ء میں ریٹائر ہونے والے تھے۔ بہت سے لوگوں کو شبہ ہے کہ وہ شخصی ڈکٹیٹر شپ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تیسرے، ذرائع ابلاغ پر جو نئی سینسر شپ حال ہی میں نافذ کی گئی ہے اُسے ہٹا دینا چاہیئے۔

کالم نگار کا خیال ہےکہ جولائی میں اقتدار کی منتقلی کا جو اعلان کیا گیا ہے اس کا مقصد وقت ٹالنا معلوم ہوتا ہے مارچ کے بعد ایسا اعلان تیسری مرتبہ کیا گیا ہے اور فوج کے بعض عناصر کے زیر نظر اخوان المسلمین کے ساتھ کسی قسم کا سودا کرنے کاامکان بھی ہے تاکہ سیکیولر قوتوں کو کچل دیا جائے۔ چناچہ، کالم نگار کے خیال میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کو چاہیئے کہ وہ اپنا اثر و نفوذ مصر میں جمہوریت کو کامیاب کرانے کے لیے بروئے کار لائیں۔

توانائی کےاستعمال میں کفائت کےموضوع پر ’ہیوسٹن کرانیکل‘ اخبار ایک ادارئےمیں کہتا ہے کہ ہیوسٹن سٹی کونسل کے لیے موقع ہے کہ وہ شہریوں کے بلوں میں کفائت کےعلاوہ توانائی کے خرچ میں کمی لائے اور اس کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کا کچھ خرچ نہ ہو۔

اخبار کہتا ہےایسےمیں جب یہ سٹی کونسل تعمیرات کے قواعد بدل رہی ہے۔ ایک اہم تبدیلی یہ ہوگی کہ نئے مکانوں میں توانائی کے خرچ کو کم کرنے کےلیے کس قسم کی تبدیلی ضروری ہے۔ مثلاً دیواروں اور پائپوں کی کتنی انسو لیشن ہونی چاہیئے، دروازوں اور کھڑکیوں کی بناوٹ ایسی ہو کہ باہر کی ہوا اندر نہ آسکے۔ اسی طرح بجلی کے ایسے بلب ہوں جو کم توانائی خرچ کرتے ہوں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG