رسائی کے لنکس

عراق میں ایران اپنی ملیشیاؤں کی مدد جاری رکھے گا: واشنگٹن پوسٹ

  • مدثرہ منظر

عراق میں ایران اپنی ملیشیاؤں کی مدد جاری رکھے گا: واشنگٹن پوسٹ

عراق میں ایران اپنی ملیشیاؤں کی مدد جاری رکھے گا: واشنگٹن پوسٹ

اخبار لکھتا ہے وہائٹ ہاؤس کی یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ نوری المالکی کی حکومت اور اُس کی مسلح افواج امریکی فوجیوں اور ان کی تربیت کے بغیر بھی اپنا کام چلا سکتی ہیں۔ مگر اخبار کے خیال میں ایسے میں جب کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی خطے میں ایک سرد جنگ جاری ہے، یہ ایران کے لیے میدان کھلا چھوڑ دینے کے مترادف ہے

اخبار’ واشنگٹن پوسٹ‘ نے عراق میں طویل جنگ کے خاتمے کے اعلان اور اُس کے بعد کے حالات کو اپنے اداریے کا موضوع بنایا ہے۔

اخبار لکھتا ہے عراق میں جنگ صحیح معنوں میں صرف امریکی فوجیوں کے لیے ختم ہوگی، کیونکہ عراقی باغی، جِن میں القاعدہ بھی شامل ہے، ملک کی نازک جمہوریت کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

اخبار کے خیال میں ایران اپنی ملیشیاؤں کی مدد جاری رکھے گا، ہزاروں نجی کنٹریکٹر امریکی سفارت کاروں اور تنصیبات کی حفاظت پر مامور رہیں گے اور شمالی عراق میں جہاں ترکی نے مسلح حملے کا آغاز کردیا ہے نسلی کرودوں اور عراقی حکومت کی فورسز کے درمیان تناؤ موجود رہے گا۔

اخبار لکھتا ہے وہائٹ ہاؤس کی یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ نوری المالکی کی حکومت اور اُس کی مسلح افواج امریکی فوجیوں اور اُن کی تربیت کے بغیر بھی اپنا کام چلا سکتی ہیں۔ مگر اخبار کے خیال میں ایسے میں جب کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی خطے میں ایک سرد جنگ جاری ہے، یہ ایران کے لیے میدان کھلا چھوڑ دینے کے مترادف ہے۔ لیکن دوسری جانب اگرچہ عراق کے لیڈروں کی اکثریت امریکی فوجیوں کی عراق میں موجودگی برقرار رکھنا چاہتی ہے مگر حکومت میں شامل ایران نواز پارٹی کے سامنے مسٹرمالکی کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور ایک ایسا سمجھوتا کرنا پڑا جس کے تحت عراق میں امریکی تربیتی فورسز کے لیے وہ قانونی استثنیٰ دینے سے انکار کردیا گیا جو پنٹگان دنیا کے دیگر ممالک میں حاصل کرنے پر مصر رہتا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ صدر اوباما نے اِسی وجہ سے عراق سے تمام امریکی فوجی واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اگرچہ کہا یہ جارہا ہے کہ عراقی ایرانی مداخلت کی مزاحمت کرتے ہیں اور فرقہ وارانہ منافرت پر بھی قابو پایا جاچکا ہے اور پھر امریکہ عراق کو اسلحہ کی فروخت جاری رکھے گا جس کے ساتھ تربیت کار بھی آئیں گے اور امریکی سفارت خانے کا حجم بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہوگا تو پھر واشنگٹن کا اثرو رسوخ تو برقرار رہ سکتا ہے۔ اور واشنگٹن کے اثرو رسوخ کی صرف عراق ہی میں نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں ضرورت ہے۔

اخبار ’لاس انجلیس ٹائمز ‘میں ڈوئیل میکمانس کا ایک مضمون چھپا ہے جس میں اُنھوں نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ آیا اسلام پسند پارٹیاں ایک جائز سیاسی قوت ہو سکتی ہیں۔

وہ لکھتے ہیں آج سے در برس پہلے یہ سوال ایک ایسی کانفرنس میں اٹھایا گیا جہاں امریکی عہدے دار اور تیونس، اردن اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک سے آئے ہوئے نوجوان اسلام پسند سیاستدان موجود تھے۔ وہ امریکہ سے جاننا چاہتے تھے کہ آیا امریکہ اُنھیں اقتدار میں آنے کی اجازت دے گا جب کہ امریکیوں نے یہی سوال اُن پر پلٹ دیا تھا کہ کیا اسلام پسند کامیاب ہونے کے بعد آزادانہ اور جمہوری انتخابات کروائیں گے۔

تیونس میں بغاوت کے بعد پہلے انتخابات میں توقع ہے کہ اسلام پسندوں کو سب سے زیادہ پارلیمانی نشستیں حاصل ہوں گی۔ مصر میں اخوان المسلمین سب سے طاقتور سیاسی دھڑا ہے جس کی شاخیں دائیں اور بائیں دونوں جانب موجود ہیں۔

لیبیا میں معمر قذافی کے خلاف انقلاب میں اسلام پسندوں ہی کا بڑا کردار رہا اور اب نئی حکومت میں بھی ان کا غلبہ رہے گا۔

میکمانس لکھتے ہیں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اسلام پسند دل سے جمہوری اور کثیر المذاہب رویوں کو پسند نہیں کرتے۔ وہ اپنے ملک کا سرکاری مذہب اسلام اور شریعت کو شہری ضابطوں کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں۔ نہ وہ اسرائیل کو پسند کرتے ہیں اور نہ اسرائیل کے بارے مین امریکی پالیسی کو۔ مگر ساتھ ہی میکمانس زور دیتے ہیں کہ یہ اسلام پسند ایک جائز سیاسی قوت ہیں اور آزادانہ انتخابات میں ان کی کامیابی کا امکان بھی ہے۔

اگرچہ امریکہ کی پوری توجہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر ہے مگر اندرونِ ملک 2012ء کے صدارتی انتخاب کی تیاریاں بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ جاری ہیں۔ صدر اباما کے مدِ مقابل ریپبلیکن امیدوار اپنی پارٹی سے نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش کے عرصے میں ملکی مسائل کے حل کے لیے بھی طبع آزمائی کر رہے ہیں۔

چناچہ، اخبار’ لاس ویگس سن‘ اپنے اداریے میں لکھتا ہے منگل کے روز جب ان ریپبلیکن امیدواروں نے ایک بحث میں حصہ لیا تو ملک کے ایٹمی فضلے کو ٹھکانے لگانے کے منصوبے کے بارے میں ان سے سوال کیا گیا کہ آیا یہ فضلہ ویگس سے 90میل شمال مغرب میں یوکا ماؤنٹین میں دفن کیا جاتا رہے۔

اخبار لکھتا ہے اگرچہ یہ سوال 2000ء میں جارجڈبلیو بش سے بھی کیا گیا تھا اور اُنھوں نے کہا تھا کہ فیصلہ سائنسی طریقے سے کیا جائے گا مگر ایسا کبھی نہ کیا جاسکا۔ اب نئے صدارتی امیدوار کم از کم یہ ضرور کہہ رہے ہیں کہ فیصلہ ریاست نویڈا کے عوام کو کرنا چاہیئے جو برسوں سے اس کے مخالف ہیں کہ دیگر ریاستوں کا ایٹمی فضلہ ان کے ہاں دفن کر دیا جائے۔انتخاب ماہرین ارضیات نے نہیں بلکہ سیاستدانوں نے کیا تھا۔

اخبار کے الفاظ میں اب اُنہی سیاستدانوں کو جان لینا چاہیئے کہ ریاست نویڈا کے عوام کو کھلونے دے کر بہلانے کا وقت اب چلا گیا اور وہ ریپبلیکن جو اب تک اس منصوبے کی حمایت کرتے رہے ہیں نوشتہٴ دیوار اگر پڑھ لیں تو اس منصوبے کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG