رسائی کے لنکس

قومی قرضے کی حد میں اضافہ، اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی

  • مدثرہ منظر

سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد ہیری ریڈ اور امریکی وزیر خزانہ ٹموتھی گائٹنر (فائل فوٹو)

سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد ہیری ریڈ اور امریکی وزیر خزانہ ٹموتھی گائٹنر (فائل فوٹو)

اخبار’دِی ڈیئٹرائیٹ نیوز‘ لکھتا ہے اگر صدر اوباما اور کانگریسی لیڈروں کے درمیان کوئی ایسا معاہدہ ہو بھی جاتا ہے جو 10برس کے عرصے میں 40کھرب کے خسارے میں کمی کا باعث ہو تو بھی مستقبل میں اِس کا امکان نہیں کہ بجٹ متوازن ہوگا، اخراجات بھی آمدنی سے 10کھرب سالانہ کے حساب سے زیادہ رہیں گے اور صرف دو برس کے عرصے میں ملکی قرضے14.3ٹرلین ڈالر سے بڑھ کر 17ٹرلین ڈالر ہوجائے گا

بعض دیگر امریکی اخبارات کی طرح اخبار ’دِی ڈیئٹرائیٹ نیوز‘ نےبھی امریکہ میں صدر اوباما اور کانگریسی لیڈروں کے درمیان قرضے کی حد میں اضافے اور خسارے میں کمی کے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کو اپنے اداریے کا موضوع بنایا ہے۔

اخبار لکھتا ہے ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ کانگریسی لیڈر جو بھی تجاویز پیش کررہے ہیں وہ ہر صورت ملک کی معاشی تقدیر بدلنے کے لیے ناکافی ہیں۔

اخبار لکھتا ہے اگر صدر اوباما اور کانگریسی لیڈروں کے درمیان کوئی ایسا معاہدہ ہو بھی جاتا ہے جو 10برس کے عرصے میں 40کھرب کے خسارے میں کمی کا باعث ہو تو بھی مستقبل میں اِس کا امکان نہیں کہ بجٹ متوازن ہوگا، اخراجات بھی آمدنی سے 10کھرب سالانہ کے حساب سے زیادہ رہیں گے اور صرف دو برس کے عرصے میں ملکی قرضے14.3ٹرلین ڈالر سے بڑھ کر 17ٹرلین ڈالر ہوجائے گا۔

اخبار لکھتا ہے موجودہ صورتِ حال میں کسی بڑے سمجھوتے کی امید بھی نہیں رکھنی چاہیئے، کیونکہ دونوں جانب جو بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے وہ مسئلے کا کُلی حل نہیں ہے۔

ری پبلیکنز اخراجات میں کمی کے ذریعے خسارہ کم کرنا چاہتے ہیں جو قطعاً دیرپا نہیں ہوسکتا۔دوسری جانب ڈیموکریٹس امراٴ اور تیل کمپنیوں پر ٹیکس بڑھانا چاہتے ہیں جِس کا نتیجہ ملازمتوں میں مزید کمی کی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔

اخبار کے خیال میں واشنگٹن کے سیاستدانوں کے درمیان کوئی بڑا سمجھوتہ اُس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ تیسرا نکتہ اُن کے سامنے نہیں آتا اور وہ ہے سوشل سکیورٹی اور میڈیکیئر کی اصلاحات، جِس کے لیےاخبار کی تجویز کہ ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا دی جائے اور مراعات کم کردی جائیں ورنہ یہ سہولتیں امریکہ کی آئندہ نسل تک نہیں پہنچ پائیں گی۔

اخبار’ نیو یارک پوسٹ ‘ نے شام کے بارے میں امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کے بیانات کو ہدف ِتنقید بنایا ہے۔ا خبار لکھتا ہے شام کے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے صدر اوباما کوئی بامعنی قدم نہیں اُٹھارہے مگر اُس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اُن کی وزیرِ خارجہ کے بیانات صورتِ حال کو پراگندہ کرنے کا باعث بنیں۔

اخبار مثال دیتا ہے کہ اِس ماہ دمشق کی جانب سے ہجوم کوشام میں امریکی سفارت خانے پر حملے کی اجازت دینے کے بعد کلنٹن نے واضح کیا کہ صدر اسد اپنا جائز مقام کھو چکے ہیں۔ لیکن، اخبار کا سوال ہے کہ بشار الاسد کا جائز مقام تھا ہی کب۔ وہ تو ایک آمرہیں جو 2007ء کو ایک ایسے انتخاب میں برسرِ اقتدار آئے جس میں وہ واحد امیدوار تھے۔

اخبار لکھتا ہے کہ شام میں اقتدار کی کوئی مدت نہیں صرف ایک آمریت ہے جِس کے تحت کوئی وعدہ پورا کرنا ضروری نہیں اور یہی بشار الاسد نے کیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے بشار الاسد جب تک اقتدار میں ہیں اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ لیکن، یہ خیال کہ وہ کبھی کوکوئی جائز مقام رکھتے تھے شام کے حکمراں کے قدم مزید مضبوط کرنے اور اُنھیں مزید طاقت بخشنے کے مترادف ہے۔

اخبار’ بوسٹن گلوب‘ نے اپنے اداریے میں انٹی بائیاٹک دواؤں کی افادیت کم ہونے کو موضوع بنایا ہے۔

اخبار لکھتا ہے عشروں سے ہوتا آیا ہے کہ متعدی امراض کے لیے انٹی بائیاٹک دوائیں تجویز کی جاتی رہی ہیں۔ گولی کھالیجئے یا ٹیکہ لگوا لیجئے چند روز میں یہ دوائیں معجزہ دکھا دیں گی۔ مگر اخبار کا کہنا ہے کہ کچھ بیماریاں ایسی ہیں جِن کے بیکٹیریا پر یہ دوائیں اب زیادہ اثر نہیں دکھاتیں جیسا کہ یورپ میں ’اِی کولی‘ یا تپدق کی بیماری۔

وجہ بیان کرتے ہوئے اخبار لکھتا ہے کہ دوائیں امریکہ میں ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر نہیں ملتیں مگر مریضوں کے اصرار پر ڈاکٹرنسخہ لکھنے میں تامل بھی نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اِن دواؤں کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ کسان اپنے مویشیوں کو بے تحاشا انٹی بائیاٹک دوائیں کھلاتے ہیں اور آپ یہ خیال نہ کیجئے کہ ایسا کسی بیماری کی صورت میں کیا جاتا ہے، بلکہ صرف اِس لیے کہ زراعت اچھی ہو بھلے اِس سے انسانی صحت پر ہی کیوں نہ بن جائے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG