رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: پاک امریکی سیکیورٹی شراکت داری ختم؟

  • صلاح احمد

A supporter of Jamaat-e-Islami (JI), a religious and political party, holds collected party flags and placards after an anti-American demonstration in Peshawar December 2, 2011. Pakistan's commanders in the wild Afghan border region can return fire if att

A supporter of Jamaat-e-Islami (JI), a religious and political party, holds collected party flags and placards after an anti-American demonstration in Peshawar December 2, 2011. Pakistan's commanders in the wild Afghan border region can return fire if att

پاک امریکی تعلقات کا جو نیا باب شروع ہوا ہے اس پر نیو یارک ٹائمز میں ایک تفصیلی مضمون چھپا ہے۔ جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کو اس حقیقت کا سامنا ہے۔ کہ پاکستان کے ساتھ اس کی سیکیورٹی کی جو شراکت داری تھی اب وہ ختم ہو گئی ہے۔ اور امریکی عہدہ دار انسداد دہشت گردی میں ایک محدود قسم کا تعاون برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور انہیں اعتراف ہے ۔ کہ اس کی وجہ سے ان کے لئے انتہا پسندوں کے خلاف حملے کرنے اور سامان رسد افغانستان پہنچانے میں پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی

اخبار نے امریکی اور پاکستانی عہدہ داروں کے حوالے سے بتایا ہے۔ کہ امریکہ ا ب اس پر مجبور ہو جائے گا۔ کہ ڈرون طیاروں سے کئے جانے والے حملوں میں تخفیف کی جائے اور زمیں پر جاسوسوں اور فوجیوں کی تعداد کم کر دی جائے۔ افغانستان میں اتحادی فوجوں کے لئے جو سامان رسد جا تا ہے۔ اس پر بھی امریکہ کا خرچ بڑھ جائے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ پاکستان کے لئے خصوصی امریکی ایلچی آنجہانی رچرڈ ہول برُوک نے اقتصادی ، صحت اور قانون کی بالا دستی جیسے شعبوں میں جس دور رس سٹرٹیجک شراکت داری کی داغ بیل ڈالی تھی۔ وہ سب کچھ ختم کر دیا گیا ہے۔ اور اس کی جگہ نہائت اہم ترجیحات میں غالباً با لکل محدود قسم کا تعاون بر قرار رہے گا۔

16 نومبر کےبعد سے سی آئی اے کے ڈرون حملے با لکل بند ہیں اور امریکی سفارت کار بنیادی طور پر ان ریڈ لائینز کے انتظار میں ہیں جو بقول وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کےنئے پاک امریکی تعلقات کا تعیّن کرنے کے لئے متعیّن کی جا رہی ہیں ۔ تاکہ پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ اور علاقائی سالمیت کا تحفّظ کیا جا سکے۔

اخبار کہتاہے کہ امریکہ کے خلاف بڑھتے ہوئے جذبات کا اندازہ لاہور اور پشاور میں ہزاروں لوگوں کے مظاہروں کے دوران ہوا ہے جب کہ کراچی میں ایک لاکھ لوگوں کا جلسہ عمران خان کی حمائت میں منعقد ہوا ہے۔ یہ کرکٹر سیاست دان ڈرون حملوں اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے خلاف ہے۔ بلکہ بعض پاکستانی سیاست دان کھلم کھلا دہمکی دے رہے ہیں ۔ کہ اب اگر کوئی ڈرون پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ کی خلا ف ورزی کرتا ہوا پایاگیا۔ تو اسے گرا لیا جائے گا ۔

اخبار کے بقول سیکیورٹی کے نئے دائرہء کار کے مطابق افغانستان میں نیٹو فوجوں کے لئے رسد لے جانے والے ہزاروں ٹرکوں سے اب زیادہ فیس وصول کی جائے گی۔ اور یہ رقم کروڑوں ڈالر تک جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور پاکستان کے فوجی افسر وں کا اندازہ ہے کہ امریکہ کی سیکیورٹی امداد میں بھاری کمی آئے گی۔ اس میں ایک ارب ڈالر کی وہ فوجی امداد اور سامان شامل ہے ۔جو مئی میں امریکی حملے میں اوسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے منسوخ ہے۔اخبار کہتا ہے۔ کہ اس نے تقریباً دو درجن امریکی ، مغربی ، اور پاکستانی عہدہدارو ں سے رابطہ قائم کیا ۔ اور ان میں سے کسی کو اس بگڑتی ہوئی صورت حال میں کسی امید افزاء بہتری کی صورت نظر نہیں آتی۔ اخبار نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ اگلے ماہ سے پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا دو سال کے لئے ممبر بن جائے گا۔ اور ان عہدہ دار وں کا کہنا ہے۔ کہ اتنا زیادہ داؤ پر لگا ہواہے۔ کہ تعلقات مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔

نیو یارک ٹائمز کہتا ے کہ محکمہء خارجہ نےایک سرکردہ سفارت کار کو اس سلسلے میں پاکستان بھیجا تھا جس نے واپس آکر بہت سے پاکستانیوں کا یہ تاثّر پیش کیا ہے۔ کہ اُس وقت تک پیش قدمی ممکن نہیں ،جب تک صدر اوبامہ پچھلے ماہ کے فضائی حملے کے لئے باقاعدہ معافی نہیں مانگتےلیکن ان کے معاونین کا کہنا ہے، کہ ایسا ہوگا نہیں۔۔

لاس اینجلس ٹائمز کہتا ہے کہ سنہ 2010 کے انتخابات میں منتخب ہونے والونں میں سے ایوان نمائیندگان کے 94 اور سینیٹ کے 13 ارکان با لکل نئے تھے جو واشنگٹن کے طور طریقوں سے با لکل نا بلد تھے۔ اور بعد کے تجربے نے ثابت کر دیا ، کہ ان کو انتظامی امور اور بنیادی اصولوں کابا لکل پتہ نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جو کام کرنے کے تھے ۔ وہ بالکل آخری لحظے میں کئے گئے ۔ اور دونوں پارٹیوں کے درمیان تعاون کا جو رواج تھا۔ ہٹ دھرم اقلیت نے پامال کر کے رکھ دیا۔ اس تازہ رسّہ کشی کی تازہ ترین مثال پے رول ٹیکس میں عارضی تخفیف کو توسیع دیناہے۔اخبار کہتا ہے کہ اس سے 5 سبق ملتے ہیں۔ اول کہ بل وہ ہے جو دونوں ایوانوں سے پاس اور صدر اس پر دستخط کریں۔ صدر قانون سازی نہیں کرتے۔قومی قرض کی حد سالانہ بجٹ کی تیاری کے وقت مقرر ہوتی ہے جب پارٹی لیڈر چنے تو اس کی سنی جانی چاہئے۔اور آخری بات تیکس بڑھانے کی بات دہراتے رہنا فتح کی حکمت عملی نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG