رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: شمالی کوریا کے طرز عمل پر چین کی پریشانی

  • صلاح احمد

اخبار وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق چین بھی امریکہ ہی کی طرح شمالی کوریا کی نئی قیادت سے عاجز ہے۔ اور یہ کہ وہ اس قیادت پر اپنا اثرو نفُوذ استعمال کر کے اُس پر دباؤ ڈالے گا کہ وُہ ایک مصنوعی سیارچہ خلاء میں چھوڑنے کے منصوبے سے باز آ جائے۔

صدر اوباما ، جو آج کل جوہری سلامتی کے سربراہ اجلاس کے سلسلے میں سئیول میں ہیں، چینی صدر ہُو جِن تاؤ سے ملے ہیں۔ اور امریکی عہدہ داروں کے بقول اُنہوں نے اُن سے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ اپنا طرز عمل زیادہ سخت کریں۔ اخبار نے امریکہ کے قومی سیکیورٹی نائب مشیر کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس دوطرفہ ملاقات میں چینی وفد نے یہ تاثّر دینے کی کوشش کی کہ بیجنگ اس سلسلے میں امریکہ اور اُس کے اتّحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے تاکہ شمالی کوریا پر یہ بات واضح کر دی جائے کہ بین الاقوامی برادری کو ، شمالی کوریا کی اس اشتعال انگیز حرکت پر کتنی سنگین تشویش ہے۔ لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ چین اُس صورت میں پیانگ یانگ کے خلاف کس قسم کا دباؤ ڈالنے کے لئے تیا رہے

اخبار کہتا ہے کہ سئیول میں امریکی صدر کا ایک مشن یہ تھاکہ چین اور روس سمیت شمالی کوریا کے اتّحادیوں کے ذمّے یہ کا م لگایا جائے کہ وہ اُسے اپنے جوہری اور مزائلوں پروگرام سے دست بردار ہونے پر رضامند کریں۔ اخبار کے بقول روسی صدردِِمتری مید دیدیف نے بھی مسڑر اوباما کو شُمالی کوریا سے اپنی بیزاری سے آگاہ کیا ۔ امریکہ واضح کر چُکا ہے کہ اگر شمالی کوریا مصنُوعی سیارچہ مدار میں بھیجنے پر مُصر رہاتو اُس کے خلاف تعزیرات اور بھی سخت کر دی جائیں گی۔

فلوریڈا ریاست میں ایک سیاہ فام نوجوان کی ایک سفید فام خُدائی خدمت گارکے ہاتھوں گولی مار کر ہلاکت پر اخبارات میں بڑی لے دے ہو رہی ہے۔ معروف کالم نگار بِل پریس شکاگو ٹریبیون میں لکھتے ہیں کہ یہ17 سالہ لڑکا ٹرےون مارٹِن ہاتھ میں چائے کا ایک ٹین اور اپنے بھائی کے لئے بیگ میں مٹھائی لے گر بارش میں بھیگتا ہوا گھر جاررہا تھا، جب اُس پر محلّے کی رکھوالی کرنے والے ایک سفیدفام رضاکار جارج ذِمر مان کی نظر پڑی۔ اور اُس نے پُولیس کو اطلاع کر دی کہ اس نے ایک شخص کو مشکُوک حرکتیں کرتے دیکھا ہے ۔ہر چند کہ پولیس نے خود کاروائی کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اُسے ا س کا تعاقب کرنے سے منع کیا تھا۔ ذمرمان اپنی گاڑی سے باہر نکل کر اس کے تعاقب میں گیا ۔ اُسے للکارا اور گولی مار ہلاک کر دیا۔ اور اب اُس کا اصرار ہے کہ اُس نے اپنے بچاؤ میں اُسے ہلاک کیا تھا۔ مضمون نگار نے اس پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے کہ پولیس نے اس کے بیان کو سچ مان لیا ۔ کیونکہ اُنہیں کوئی شہادت نہیں ملی ہے۔ حالانکہ تمام شواہد ذمار مان کے خلاف ہیں۔بل پریس نےاس طرف توجّہ دلائی ہے کہ مارٹن پیدل جا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں صرف چائے اور مٹھائی کا بیگ تھا۔ جب کہ ذمر مان گاڑی پر سوار تھااوروُہ نو ملی میٹر ہینڈ گن سے مسلّح تھا۔ مارٹن کا وزن 140 پونڈ تھا ،جب کہ ذمر مان ڈھائی سو پونڈ کا ہے۔ مارٹن کے خلا ف کبھی کوئی فرد جرم نہیں لگی۔ جب کہ ذمر مان پر تشدّد کرنے اور ایک پولیس افسر کو زدو کوب کرنے کا بھی الزام لگ چُکا ہے۔شواہد سے ظاہر ہے کہ یہ ایک بہیمانہ قتل کی واردات تھی جس کا ارتکاب اس خُدائی خدمتگار ذمر مان نے محض اس لئے کیا کہ مارٹن سیاہ فام تھا۔ مضمون نگار نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمر مان پر قتل کا مقدّمہ چلنا چاہئے۔ اور ریاست کے اُس قانون کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ جس کے تحت ذمر مان کو اب تک استثنیٰ ملا ہوا ہےصدر اوباما کو اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے مشورہ دیتے ہوئے بل پریس کا کہناہے کہ اس ملک کو مکمّل نسلی مساوات حاصل کرنے کے لئے ابھی کتنی دور جانا ہے او ر صدر اوباما ہی یہ پیغام دے سکتے ہیں۔ اور جیسا کہ سی این این کے رانلڈ مارٹن نے کہا ہے اگر 17 سالہ براک اوباما پر یہ بیتی ہوتی تو وُہ آج وہائٹ ہاؤس میں نہ ہوتے۔

فلوریڈا کے اس قانون پراخبار شکاگو سن ٹائمز کہتا ہےکہ بالآخر یہ بد نامِ جہاں قانون اُس شخص کو نہیں بچا پائے گا۔ جس نے ایک نَہتّے لڑکے کو گولی مار دی ۔ اورجس پر پُوری قوم غُصے سے مغلُوب ہے۔ اور یہی اس کا سب سے زیادہ مُنصفانہ انجام ہوگا۔ خاص طور پر ان واضح شواہد کے پیش نظر کہ جب 17 سالہ مارٹن سٹین فرڈ فلوریڈا میں اپنے گھر جارہا تھاتو جارج ذمر مان نے اس کا پیچھا کیا اور اُس کو للکارا اور پھر گولی مار کر ڈھیر کر دیا۔

اخبار کہتا ہے کہ اس ہفتے امریکی محکمہء انصاف کے حقوق انسانی کےدفترنے اور خود فلوریڈا ریاست کےتفتیش کاروں نے تحقیقا ت شروع کر دی ہے جس کے نتیجے میں ذمر مان کے خلاف فرد جُرم عائد ہو سکتی ہے۔ اور امید کرنی چاہئے نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے اصرار پر پاس ہونے والا یہ قانون بالآخر کالعدم قرار دیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG