رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات کے اداریے: طوفانوں سے بچاؤ اور ڈکٹیٹروں پر وقت تنگ

  • یاسمین جمیل

امریکی اخبارات کے اداریے: طوفانوں سے بچاؤ اور ڈکٹیٹروں پر وقت تنگ

امریکی اخبارات کے اداریے: طوفانوں سے بچاؤ اور ڈکٹیٹروں پر وقت تنگ

آج کے دور میں ڈکٹیٹر بننا جتنا مشکل ہو گیا ہے اتنا پہلے کبھی نہ تھا ۔مغربی ماہرین کی ایک بڑی تعداد اور سر گرم کارکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا بڑے پیمانے کی بد عنوانی کو نمایاں کرنے کے لیے ہروقت تیار رہتے ہیں ۔اور اگر آپ کسی پر تشدد پکڑ دھکڑ کا حکم دیں تو یہ خبر لمحوں میں کسی آئی پاڈ پر جا سکتی ہے اور دنیا بھر میں فوراً ہی براڈ کاسٹ ہو سکتی ہے۔

ہری کین آئرین کو موضوع بناتے ہوئے اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنے ایک اداریے میں سمندر اور ماحول سے متعلق امریکی قومی انتظامیہ ا ور یونیورسٹی ا آف میامی کی جانب سے 2008 میں عالمی حدت اور امریکہ میں ہری کینز پر شائع ہونےوالی اس ریسرچ کا حوالہ دیا ہے جس کے مطابق گرم ہوتے ہوئے سمندر اٹلانٹک کے اس حصے میں جو امریکی ساحلوں سے ممکنہ طور پر ٹکرانے والے ہری کینز کی ایک نرسری ہے، ان بلند لہروں اور تیز ہواؤں کو جنم دیتے ہیں جو ہلاکت خیز ہری کین کی صورت اختیار کر لیتی ہیں ۔ اور اس ریسرچ کے لیڈ آتھر چونزائی وانگ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ان کی ریسرچ کے بعد ظاہر ہونےو الے ہری کینز کے انداز نے ان کے نتائج کو تقویت دی ہے ۔

امریکی اخبارات کے اداریے: طوفانوں سے بچاؤ اور ڈکٹیٹروں پر وقت تنگ

امریکی اخبارات کے اداریے: طوفانوں سے بچاؤ اور ڈکٹیٹروں پر وقت تنگ

اخبار لکھتا ہے کہ صنعتی انقلاب کے بعد ہماری فضامیں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار میں ایک تہائی سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے لیکن یہ کہ اس وقت معاشرے کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے ان اہم واقعات میں گرین ہاؤس گیسوں کا در حقیقت کتنا عمل دخل ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ سائنسی شواہد کہتے ہیں کہ امریکی ہری کینز کی تعداد میں کمی جب کہ طوفانوں اور بارشوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اخبار گلوبل وارمنگ کو آئرین کی ممکنہ وجہ تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے لیکن اس بارےمیں تحقیق پر زور دیتا ہے کہ سمندر کے بلند ہوتے ہوئے لیولز کسی طوفان کی تباہ کن صلاحیتوں میں کس حد تک اضافہ کر سکتے ہیں جب کہ دنیا بھر میں توانائی کے استعمال کی ترجیحات کا جائزہ لینا اور اس ضمن میں اہم اقدامات کرنا اخبار کے نزدیک وقت کی اہم ضرورت ہے۔

امریکی اخبارات کے اداریے: طوفانوں سے بچاؤ اور ڈکٹیٹروں پر وقت تنگ

امریکی اخبارات کے اداریے: طوفانوں سے بچاؤ اور ڈکٹیٹروں پر وقت تنگ

اور اخباراپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے لکھتا ہے کہ اس صدی کے ہری کینز کو سامنے رکھتے ہوئے مجموعی طور پر سب سے اہم چیلنج جس پر ہری کین ، اور آب و ہوا کے ماہرین کی اکثریت برسوں پہلے متفق ہو چکی ہے، یہ ہے کہ جہاں کہیں ممکن ہو ان گیسوں کے اخراجات میں کمی کی جائے اوران شدید ، شاذونادر موسمیاتی واقعات اور گلوبل وارمنگ کے درمیا ن تعلق پر تحقیق کے دائرے کو وسیع کیا جائے کیوں کہ نیشنل اکیڈیمی آف سائنسز کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں سوالات کی تعداد جوابات سے کہین کم ہےاور بے شمار کام ابھی باقی ہے۔

ہیوسٹن کرانیکل نے اپنے ایک اداریے میں لکھا ہے کہ قدرتی ٓافات اب امریکہ کا ایک نیا معمول بن گئی ہیں ۔ اور اب وقت ٓگیا ہے کہ اپنی بقا کا کوئی ایسا طریقہ اختیار کر لیا جائے جسے جاپان میں در حقیقت ایک معمول کا طریقہ سمجھا جاتا ہے ۔جہاں کا کوئی بھی شخص قدرتی آفات کو اپنے ذہن سے کبھی د ور نہیں رکھتا۔ اور وہ طریقہ ہے پیک اے گو بیگ ، یعنی ہر وقت اپنے لیے ایک ہنگامی بیگ تیار رکھیں ۔ بالکل اسی طرح جیسے آپ اپنے گھر سے کسی جگہ تین دن کے لیے جاتے ہوئے کرتے ہیں ۔ ایک ایسا بیگ جس میں صاف اور خشک کپڑے ، ادویات، نقدی ، کھانے پینے کی ہلکی پھلکی چیزیں ، پانی ، ایک ٹارچ اور ایک چھوٹا ریڈیو۔ اخبار لکھتا ہے کہ اگر آپ ایسا بیگ ہر وقت تیار رکھیں تو آپ ایک منٹ کے نوٹس پراپنی حفاظت کے لیے اپنا گھر چھوڑ سکتے ہیں ۔ اور ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایسے کسی بیگ کی تیاری ہی آپ کو کسی ہری کین ، سیلاب ، آتشزدگی یا کسی دوسرے بحران میں آپ کے مستقبل کو ڈرامائی طور پربہتربنا سکتی ہے ۔ اخباراس ضمن میں کٹرینا کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ کہ جب کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور پورے گھرانے کو فوری طور پر گھر چھوڑنا پڑے تو ان سب چیزوں کو تیزی سے اکٹھا کرنا ممکن نہیں ہو سکتا اور خاص طور پر انتہائی ضروری ادویات کو جس طرح کٹرینا کے وقت ہوا تھا جب مکانوں میں پانی منٹوں میں بھر گیا تھا اور بظاہر بجلی نہ ہونے کی صورت میں میڈیکل اسٹورز نسخوں کی ادویات فراہم نہیں کر سکے تھے ۔

امریکی اخبارات کے اداریے: طوفانوں سے بچاؤ اور ڈکٹیٹروں پر وقت تنگ

امریکی اخبارات کے اداریے: طوفانوں سے بچاؤ اور ڈکٹیٹروں پر وقت تنگ

اخبار لکھتا ہے کہ اپنے لیے ایک ہنگامی سفری بیگ تیار کرنے سے ہم میں یہ احساس پیداہوتاہے کہ اگر کوئی ہنگامی قدرتی سانحہ پیش آیا تو سب سے پہلے ہمیں خود ہی اپنی جان بچانا ہوگی ۔ ۔ اخبار ماہرین کے حوالے سے لکھتا ہے کہ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ آپ کے لیے حکومت کچھ کرے گی تو آپ غلطی پر ہیں ۔

اخبار لکھتا ہے کہ گو بیگ تیار کرنا موجودہ عجیب و غریب موسموں کی وجہ سے پیدا ہونےو الی تشویش کو دور کرنے اور ذہنی طور پر سانحوں کے لیے تیار کرنے کا وہ عملی طریقہ ہے جسے اس موسم بہار میں جاپان میں آنے والے سونامی اور زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد میں کمی کی وجہ قرار دیا گیا تھا ۔ جاپان میں لگ بھگ سو برس سے گو بیگز اور کمیونٹی ڈیزاسٹر ڈرلز زندگی کا ایک معمول بن چکی ہیں ۔

اخبار لکھتا ہے کہ اس گو بیگ کا بنیادی سامان پانی ، ادویات ، نقدی ، فیلش لائٹ ، شناختی کارڈ اور کپڑ ے اور خود کو کسی سانحے کے لیے ذہنی طور پر تیار رکھنے کاایک عمل ہے

اخبار لکھتا ہے کہ گو بیگ پیکنگ در اصل کسی ایسی ہنگامی صورتحال میں ، جس کے بارے میں تصور خواہ کتنا ہی محال کیوں نہ ہو ، مگر جن کا ہم میں سے کوئی بھی کسی بھی وقت نشانہ بن سکتا ہے ، اپنی کم سے کم حفاظت کے قابل بنانے کا ایک عمل ہے ۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ڈکٹیٹرز سے پاک ایک دنیاکے تصور کے عنوان سے اپنے ایک اداریے میں لکھا ہے کہ رواں ہفتے میں ڈکٹیٹر کلب اپنے ایک اور رکن سے محروم ہو گیا اور وہ ایک عرب مطلق العنان عرب حکمران سے انصاف کا ایک مفرور بن گیا ۔ لیکن اخبار لکھتا ہے کہ سچ تو یہ ہےکہ آج کے دور میں ڈکٹیٹر بننا جتنا مشکل ہو گیا ہے اتنا پہلے کبھی نہ تھا ۔مغربی ماہرین کی ایک بڑی تعداد اور سر گرم کارکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا بڑے پیمانے کی بد عنوانی کو نمایاں کرنے کے لیے ہروقت تیار رہتے ہیں ۔اور اگر آپ کسی پر تشدد پکڑ دھکڑ کا حکم دیں تو یہ خبر لمحوں میں کسی آئی پاڈ پر جا سکتی ہے اور دنیا بھر میں فوراً ہی براڈ کاسٹ ہو سکتی ہے اور اخبار لکھتا ہے کہ ممکن ہے کہ اب ہمیں ان ڈکٹیٹرز سے خوف ذدہ ہونے کی مطلق ضرورت نہ پڑے۔

امریکی اخبارات کے اداریے: طوفانوں سے بچاؤ اور ڈکٹیٹروں پر وقت تنگ

امریکی اخبارات کے اداریے: طوفانوں سے بچاؤ اور ڈکٹیٹروں پر وقت تنگ

اخبار لکھتا ہے کہ ایک لمحے کو اگر ہم ڈکٹیٹر سے پاک کسی دنیا کا تصور کریں تو اس میں نہ تو شر پسند حکومتیں دہشت گردوں کی سر پرستی کرتی ہوئی دکھائی دیں گی اور نہ ہی انہیں قتل عام کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کریں گی اور یوں دنیا بھر میں ان لوگوں کی زندگیوں میں سکون قرار اور خوشحالی کا دور دورہ ہو جائے گا جو اس سے قبل سوائے خوف و استبداد اور اس خوف و استبداد میں زندگی گزارنے کے بہترین طریقوں کے سوا اورکچھ نہیں جانتے تھے ۔

اخبار لکھتا ہے کہ ایسی کسی بھی دنیا میں ممکن ہے ڈکٹیٹر شپ کے میوزیم تعمیرہو ں جو ہو سکتا ہے رنگون میں تعمیر ہوں ۔ جہاں لوگ ان ڈکٹیٹرز کے پورٹریٹس دیکھ سکیں گے اور ان کے جرائم کو یاد کر کے حیران ہوں کہ ایسا کیسے ممکن تھا کہ کچھ لوگ اتنے بہت سے لوگوں کے لیے اتنے ظالم ہو سکتے تھے ۔ تاہم اخبار لکھتا ہے کہ ایسی کسی دنیا میں ممکن ہے ایک مسئلہ ضرور باقی ہو اور وہ یہ کہ ممکن ہے دنیا کی کچھ سخت ترین ڈکٹیٹرشپس کے خاتمے کے باوجود دنیا پہلے سے زیادہ آزاد نہ ہو کیوں کہ ڈکٹیٹر شپس کا خاتمہ ایسی جمہوریت کو جنم نہیں دے رہا جن کی ہمیں امید تھی ۔ اخبار واچ ڈاگ آرگنائزیشن فریڈم ہاؤس کے حوالے سےلکھتا ہے کہ دنیا بھر میں مسلسل پانچویں سال سیاسی آزادی مسلسل کم ہوئی ہے ۔ جب کہ 1995 کے بعد سے مکمل طور پر منتخب جمہوریتوں کی تعداد اس وقت اپنی کم ترین شرح پر ہے

کیوں کہ اس کی بجائے ولادی میر پوٹن اور ہوگو شاویز جیسی جمہوری طور پر منتخب مضبوط شخصیتیں سامنے آئی ہیں جنہوں نے جمہوریت کے نام پر تمام اختیارات اپنی ذات میں مرکوز کر لیے ہیں اور جن کے لیڈر بظاہر اپنے عہدوں کو تاحیات تقرریاں سمجھتے ہیں جبکہ جیفرسن انداز کی جمہوریتوں کا فقدان نظر آتا ہے۔

XS
SM
MD
LG