رسائی کے لنکس

من موہن سنگھ کی حکومت نے جو غیرمقبول اقتصادی قدم اٹھائے ہیں اُن کی وجہ سے یہ مخلوط حکومت پچھلے ہفتے گرنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔

ہندوستان کے سیاسی منظرنامے پر ایک تجزیے میں ’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون‘ کہتا ہے کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ کی حکومت نے جو غیرمقبول اقتصادی قدم اٹھائے ہیں اُن کی وجہ سے یہ ٕمخلوط حکومت پچھلے ہفتے گرنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔اِن اقدامات میں ڈیزل کے دام بڑھانا اور وال مارٹ جیسے بھاری بھرکم سٹوروں کو ملک میں کاروبار کرنے کی اجازت دینا شامل ہے۔

چناچہ، مغربی بنگال کی ہردلعزیز چیف منسٹر ممتا بنرجی نے اقدامات کو عامة الناس کے خلاف قرار دیتے ہوئے اپنی علاقائی پارٹی کے ارکان کو مرکزی حکومت سے علیحدہ کر لیا جس کی وجہ سے ڈاکٹر سنگھ کی حکومت ٹوٹ جانے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ لیکن، ایسا اس لیے نہیں ہوا کہ دو علاقائی لیڈروں نے یعنی مسٹر یادو اور مس مایاوتی نے وفاقی حکومت کو کم از کم وقتی طور پرسہارا دیا اور باہر سے حکومت کی حمایت کرنے کا عہد کیا۔

اخبار کہتا ہے کہ اس سے پہلے مسٹر یادو اور دوسرے علاقائی لیڈروں کا یہ اندازہ تھا کہ وفاقی حکومت کے ٹوٹ جانے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قبل از وقت انتخابات ہوسکتے ہیں۔ یعنی مقررہ 2014ء سے پہلے ہی۔

اخبار نے تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت کو ٹوٹنے سے بچانے کے پیچھے اِن علاقائی لیڈروں کی یہ توقعات کارفرما تھی کہ کم از کم ایک زخم خوردہ مرکزی حکومت کو برقرار رکھنے میں اُن کا زیادہ فائدہ ہے۔ بجائے اس کے کہ قبل از انتخابات کراکے چند اضافی نشستیں حاصل کی جائیں۔

آڈیو رپورٹ سننے کے لیے کلک کیجیئے:


اخبار کے مطابق بیشتر تجزیہ کاروں کی پیش گوئی ہے کہ اگلے انتخابات میں کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں نشستیں کھوئیں گی۔ البتہ، اُن میں سے ایک پارٹی علاقائی پارٹیوں کی مدد سے حکومت تشکیل دے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس حد تک چلے جائیں کہ کسی چھوٹی پارٹی میں سے وزیر اعظم بھی قبول کریں۔

اخبار کہتا ہے کہ عالمی سطح پر اقتصادی سردبازاری نے جو طول پکڑا ہے اُس سے ہندوستان کو نقصان پہنچا ہے۔ لیکن بیشتر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے موجودہ مسائیل خود پیدا کردہ ہیں اورقیادت کی ذمہ داریاں من موہن سنگھ اور سونیا گاندھی کے درمیان بٹی رہنے کا پہلے تو فائدہ ہوا تھا لیکن اب یہ غیر مؤثر ثابت ہورہی ہے۔

’نیو یارک نیوز ڈے‘ اخبار نیویارک میں
Clinton Global Initiative
کی عالمی کانفرنس میں رواں سال کے صدارتی انتخابی امیدوار براک اوبامہ اور مِٹ رامنی کی موجودگی پر ایک اداریے میں کہتا ہے کہ ایک دوسرے پر حملے کرنے کے بجائے دونوں لیڈروں نے جو پُرمغز اور ٹھوس تقریریں کیں۔ اُن سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس قوم میں ایک دوسرے سے اتفاق کرنے کا یارا ہے، اِس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ ابہام سے کام لے رہے تھے بلکہ ان میں سے ہر ایک نے جو تقریر کی اُس سے دوسرے کو بآسانی اتفاق ہوتا، کیونکہ اُن میں ارفع خیالات کا اظہار کیا گیا تھا۔

اخبار کہتا ہے کہ اقدار، اخلاقیات، حقوق اور آزادیوں کے معاملے میں امریکی ایک دوسرے سے اختلاف کرنے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے اتفاق کرتے ہیں اور یہی بات دوسرے امور پر بھی صادق آتی ہے۔

نیٹو کے ایک سابق سپریم کمانڈر امریکہ کے جنرل ویزلی کلارک کا خیا ل ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ایران پر بمباری کا کوئی امکان نہیں ہے۔

’نیوز میکس‘ کو ایک انٹرویو میں اُنھوں نے بتایا کہ بین الاقوامی برادری نے ایران کو جوہری عزائم سے باز رکھنے کے جو تعزیرات لگائی ہیں اور جو دوسرے اقدامات کیے ہیں وہ ایران کو اپنے جوہری عزائم سے باز رکھنے کے لیے کافی ہونے چاہئیں۔

یوں بھی جنرل کلارک کی یہ پیش گوئی تھی کہ صدر احمدی نژاد کو ملک کے اندر اتنےزیادہ سنگین مسائل کا سامنا ہے کہ اُن کے اپنے ہی لوگ شاہد اُنھیں برطرف کردیں گے۔
XS
SM
MD
LG