رسائی کے لنکس

امریکی اخبارا ت کے مضامین اور اداریے: طالبان، خواتین اورتعلیم


امریکی اخبارا ت کے مضامین اور اداریے: طالبان، خواتین اورتعلیم

امریکی اخبارا ت کے مضامین اور اداریے: طالبان، خواتین اورتعلیم

اب جب کہ امریکی حکومت کے طالبان سےامن مذاکرات جاری ہیں تو ایک سوال جو سب کے ذہنوں میں اُبھر رہا ہے وہ یہ کہ کیا اِس دفعہ حکومت میں آنے کے بعد طالبان کسی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے؟

اخبار ’وال اسٹریٹ‘ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ طالبا ن جب افغانستان پر حکمرانی کر رہے تھے تو جس وجہ سے پوری دنیا میں اُن پر تنقید ہوتی تھی وہ تھی خواتین پر لگائے جانے والی پابندیاں۔اب جب کہ امریکی حکومت کے طالبان سےامن مذاکرات جاری ہیں تو ایک سوال جو سب کے ذہنوں میں اُبھر رہا ہے وہ یہ کہ کیا اِس دفعہ حکومت میں آنے کے بعد طالبان کسی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے؟

مضمون نگار کے مطابق امریکی فوج کے افغانستان میں ایک اعلیٰ کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کرٹس کیراپروتی کا کہنا ہے کہ اُنھیں ایسے اشارے مل رہے ہیں جِن سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان اب کی بار اگر حکومت میں آگئے تو وہ خواتین اور معاشرے میں اُن کے مقام کے بارے میں اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں گے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا بھی کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر تحریک کی سوچ میں پختگی آتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ دورِ حکومت میں طالبان نے کچھ فیصلے جلد باری میں کیے اور اِن کے بارے میں زیادہ سوچ بچار نہیں کی گئی تھی۔

تاہم، طالبان مخالفین کا کہنا ہے کہ میانہ روی اختیار کرنے کی باتیں محض دھوکہ ہیں اور طالبان کی حالیہ نسل پہلے سے زیادہ شدت پسند ہے اور خودکش حملے، جِن کا 1990ء کی دہائی میں کوئی وجود نہیں تھا، اب آئے دِن ہورہے ہیں اور اِن میں عام شہری بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔

افغان حکومت کے ارکان اور مغربی حکام البتہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ تعلیم کے بارے میں اُن کے رویے میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔

مزاحمت کے شروع کے سالوں میں طالبان نے ملک بھر میں اسکولوٕں کو بم حملوں کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے جنوب اور مشرق میں رہنے والے زیادہ تر بچے اور نوجوان تعلیم حاصل نہیں کرسکے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اِن علاقوں کے رہنے والے پشتون نوجوان ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور زیادہ تر نوکریاں ہزارہ اور دوسرے لسانی گروہوں کے نوجونوں کو ملیں، کیونکہ وہ تعلیم یافتہ تھے۔

افغانستان کے وزیرِ تعلیم فاروق وردگ کا کہنا ہے کہ اُن کے اپنے لوگوں نے جب یہ صورتِ حال طالبان تک پہنچائی تو اُن کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور اُنھوں نے حملے کرنا بند کردیے۔

وزیرِ تعلیم کے مطابق، سیکورٹی کے خدشات کی وجہ سے اُن علاقوں میں جو 600اسکول بند کردیے گئےتھے وہ پچھلے تین سالوں میں کھول دیے گئے ہیں۔

اخبار نے ایک اور مثال مولوی قلم الدین کی دی ہے جو طالبان کے دور میں’ امر بالمعروف و نھی عن المنکر ‘ کمیٹی کے سربراہ تھے، جس نے لڑکیوں کے تمام اسکول بند کردیے تھے اور مردوں کو داڑھی نہ رکھنے پر گرفتار کیا۔اب وہی مولوی قلم الدین اپنے صوبے لوگر میں اسکولوں کا ایک نیٹ ورک چلا رہے ہیں جِن میں ہزاروں لڑکیوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ تعلیم عورتوں کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی مردوں کے لیے ہے اور یہ کہ اسلام نے مرد اور عورتوں دونوں پر نماز پڑھنا، روزہ رکھنا اور تعلیم حاصل کرنا فرض کیا ہے۔

اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں اُن عراقیوں کا ذکر کیا گیا ہے جنھیں ’سنز آف عراق‘ کہا جاتا ہے۔ تقریباً 80000افراد پر مشتمل اس فورس کو امریکہ نے القاعدہ سے منسلک مزاحمت کاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔ اب امریکی فوج عراق سے جا چکی ہے لیکن مزاحمت کار ابھی بھی وہیں ہیں اور آئے دِن اس فورس کے ارکان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

منگل کو فلوجہ میں ہونے والے دو بم حملوں میں اُس کے دو ارکان ہلاک ہوئے اور ایک اور حسن عبد اللہ التمیمی کو مزاحمت کاروں نے اُن کے گھر کے اندر داخل ہو کر بیوی اور تین بچوں سمیت ہلاک کردیا۔

یہ وہی لوگ ہیں جن کی مدد سے امریکہ کچھ سال قبل عراق میں قدرِ امن قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اس فورس میں زیادہ تر تعداد سنیوں کی تھی جب کہ کچھ شیعہ بھی شامل تھے۔

امریکہ کی طرف سے کرائے جانے والے ایک معاہدے کے تحت عراقی حکومت ان لوگوں کے لیے فوج اور پولیس میں ملازمتیں تلاش کرنے کی پابند تھی۔ تاہم، یہ عمل سست رفتاری سے جاری ہے۔ عراق کے بیٹوں کا کہنا ہے کہ سنی ہونے ککی وجہ سے اُنھیں فوج یا پولیس میں ملازمت نہیں دی جاتی، جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اُنھیں ملازمتیں دینے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے لیکن تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ یہ نوکریاں حاصل نہیں کر سکتے۔

اخبار لکھتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں حکومت کی طرف سےاُن کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے یہ واضح ہوجائے گا کہ کیا سمجھوتے کی کوئی امید ہے یا فرقہ وارانہ کشیدگی مزید بڑھ جائے گی؟ خاص طور پر اگر عراق کے بیٹوں نے جوابی حملے شروع کر دیے اور اس سے بھی بری صورتِ حال یہ ہوگی اگر اس کے کچھ ارکان القاعدہ جیسے گروہوں کے ساتھ مل گئے۔

XS
SM
MD
LG