رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: فلسطین کا درجہ بڑھانے کا مطالبہ


فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ صدر محمو عباس

فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ صدر محمو عباس

مسٹر محمود عبّاس نے پچھلے سال فلسطینیوں کے لئے اقوام متحدہ میں مکمّلل رُکنیت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن سلامتی کونسل میں امریکہ نے اس کی مخالفت کی تھی۔

کرسچن سائنس مانیٹر
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رواں اجلاس ے خطاب کر نے والوں میں فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ صدر محمو عباس بھی تھے ، جنہوں نے عالمی تنظیم سے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اس سال فلسطین کے درجے کو بڑھانے کا مطالبہ کریں گے ۔

کرسچن سائنس مانٹر کہتا ہے کہ اُن کے اس قدم کی امریکہ اور اسرائیل مخالفت کرتے ، جو سمجھتے ہیں کہ اس سے اسرائیل فلسطین تنازعے کو پُر امن طور پر حل کرنے کا عمل خطرے میں پڑ جائے گا۔ اخبار کہتا ہے کہ مسٹر عبّاس نے اقوام متّحدہ کو بتایا کہ وُہ جنرل اسمبلی سے مطالبہ کریں کہ فلسطین کو مبصّر کا درجہ دیا جائے ۔ جو باقاعدہ رُکن تو نہیں ہوتا ، لیکن جیسا کہ اخبار نے کہا ہے ، اگر اُسے یہ درجہ مل جاتا ہے ، تو اُس صورت میں فلسطینیوں کو اضافی بین الاقوامی اداروں تک رسائی حاصل ہو جائے گی ۔اور وہ جرائم سے متعلّق عدالت جیسی تنظیموں سے رجوع کرنے کے قابل ہو جائیں گے ۔

اپنی تقریر میں محمود عباس نے فلسطینی علاقوں میں پچھلے سال کے بگڑتے ہوئے حالات کی طرف توجّہ دلاتے ہوئے اسرائیل پر مشرقی یروشلم میں نسلی تطہیر کا ارتکاب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے وہاں سے عربوں کو بے دخل کر دیا گیا ہے ۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کا فلسطین کے مالی ذراائع اور رہن سہن کے حالات پر جو کڑا تسلُّط ہے ۔ اُس کی وجہ سے فلسطینی انتظامی ادارے بالکل ٹھپ ہو سکتے ہیں۔ کرسچن سائینس مانٹر کہتا ہےکہ محمود عبّاس کی تقریر کا جنرل اسمبلی میں زور دار تالیوں سے استقبال کیا گیا ۔
مسٹر محمود عبّاس نے پچھلے سال فلسطینیوں کے لئے مکمّلل رُکنیت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن سلامتی کونسل میں امریکہ نے اس کی مخالفت کی تھی۔ امریکہ کو اس پر اصرار ہے کہ براہ راست مذاکرات ہی وُہ واحد طریق کار ہے ۔ جس کی بدولت دونوں فریق اس قضئے کو حل کر سکتے ہیں اور ایک فلسطینی مملکت وجود میں آ سکتی ہے۔

کرسچن سائنس مانیٹر نے صدر عباس کی یہ بات نوٹ کی ہےکہ اگرچہ وہ اس سال کے آواخر تک فلسطین کے لئے مبصّر کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔پھر بھی وہ اس کے لئے امریکی صدارتی انتخابات تک انتظار کریں گے۔ اور اُس کے بعد ہی باقاعدہ درخواست دائر کریں گے۔

نیویارک ٹائمز
میانمر ، یا برما میں پچھلے دو سال سے جو بنیادی سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔اس کا کچھ اندازہ میانمر کے صدر اُو تھین سین کی تقریر وں سے ہوتا ہے جو وہ امریکہ میں اپنے دورے میں کر رہے یں، اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں صدر اُو تھین سین نے ، جو ایک سابق فوجی جنرل ہیں ، کہا ، کہ یہ وُہ حیرت انگیز تبدیلیاں ہیں ، جن کی بدولت اُن کے ملک کی کایا پلٹ رہی ہے۔ اور جنہیں واپس نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے خاص طور پر ملک کی حزب اختلاف کی جمہوری رہنما ، آنگ سین سُوچی کو خراج تحسین پیش کیا، جو نوبیل امن انعام حاصل کر چکی ہیں۔ اور جنہیں بیس کی طویل نظر بندی کے بعد سنہ2010 میں رہا ئی نصیب ہوئی تھی۔

اس تقریر میں صدر نے کہا ٴ کہ میانمر کے ایک شہری کی حیثیت میں آنگ سین سُوچی کو اُن اعزازات پر مبارک باد دیتا ہوں ،جو جمہوریت کے لئے ان کی مساعی کے لئے اُنہیں اس ملک میں دئیے گئےہیں۔ اخبار کہتا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ مسٹر تھین سین نے ااعلانیہ طور پر آنگ سین سُوچی کی اس طرح تعریف کی ہے ۔ اور اس سے اُن کے اس اعتماد کا اندازہ ہوتاہے ۔ کہ وُہ اپنے کہ مسٹر تھین سین کی تقریر اُن کے مُلک میں براہ راست نشر کی گئی ۔ تاکہ لوگ خود دیکھ سکیں کہ صدر نے مُلک کی سب سے مقبول سیاست دان آنگ سین سُوچی کو کُھل کر خراج تحسین پیش کیا ہے۔جن کے بارے میں یہ توقع کی جارہی ہے ، کہ ایک دن وہ خود اس ملک کی صدر بن جائیں گی ۔

اپنی تقریر میں میان مر کے صدر نے ملک کے اندر لائی گئی تبدیلیاں گنواتے ہوئے کہا کہ ایک منتخب قانون ساز ادارہ وود میں آ گیا ہے،سنسر شپ ختم ہو گئی ہے ۔ سینکڑوں قیدیوں کو عام معافی دی گئی ہے اور سیاسی مکالمےے اور رواداری کے ایک ایسے کلچر کی داغ بیل ڈالی جارہی ہے۔ جس میں کسی انتقامی کاروائی کے خوف کے بغیر اختلاف رائے کیا جا سکتا۔

سالٹ لیک ٹربیون
سالٹ لیک ٹری بیون میں ایک قاری نے اخبار کے نام ایک خط میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فی زمانہ شہری حقوق کے لئے جو جد وجہد ہو رہی ہے ۔ اُس میں یہ بات شامل ہونی چاہئے، کہ ہر بچے اور خاص طور پر غریب بچے کو تعلیم کا حق حاصل ہے ، اور یہ تعلیم اعلیٰ درجے کی ہونی چاہئے۔ جس کے لئے ہمیں ٹیکس دینے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔ چنانچہ اس قاری کے خیال میں آنے والے انتخابات میں تعلیم ، اہم موضوعا ت میں سرٕ فہرست ہونی چاہئے۔
XS
SM
MD
LG