رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: ایران کی جوابی فوجی کارروائی کا خطرہ

  • صلاح احمد

امریکی اخبارات سے: ایران کی جوابی فوجی کارروائی کا خطرہ

امریکی اخبارات سے: ایران کی جوابی فوجی کارروائی کا خطرہ

بعض امریکی عہدہ داروں کا خیال ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو ایران، سمندر پار مقیم امریکی شہریوں اور فوجیوں کو دہشت گردانہ طرز کے حملوں کا نشانہ بنائے گا

’نیو یارک ٹائمز‘ کی اطلاع ہے کہ امریکہ کا اندازہ ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کاروائی کی تو ایران جوابی حملہ کرے گااور جن امریکی عہدہ داروں نے ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کی طرف سے حملہ ہونے کی صورت میں امکانی ایرانی جوابی کاراوائی کا جائزہ لیا ہے، ان کا خیال ہے کہ ایران اسرائیل پر مزائیلوں سے حملہ کرے گا اور سمندرپارامریکہ کے شہریوں اورفوجیوں کو دہشت گردانہ طرزکے حملوں کا نشانہ بنائے گا۔

اخبار کہتا ہےکہ اس جائزے کے مطابق اسرائیل کے خلاف مزائیلوں کی جوابی کاروائی تو یقینی ہے لیکن یہ بات اغلب ہے کہ ایران امریکی اہداف پر سوچ سمجھ کر کاروائی کرے گا، تاکہ امریکہ کو ایران کی جوہری تنصیبات کو مستقل طور پرناکارہ بنانے کی کاروائی کرنے کا بہانہ نہ مل سکے۔

اخبار نےایک ریٹائرڈ امریکی جنرل کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانیوں کو لڑائی کو حد سے زیادہ بڑھنے سے روکنے میں اچھی مہارت حاصل ہے۔

امریکی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایران کے اہداف میں خلیج فارس میں پٹرولیم کا بنیادی ڈھانچہ اورافغانستان میں امریکی فوجی ہونگے، جہاں ایران پر پہلے سے یہ الزام ہے کہ وہ مقامی باغی لشکریوں کو آتشیں اسلحہ فراہم کرتا رہا ہے۔

’نیویارک ٹائمز‘کہتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اورفوجی عہدہ داروں کا اندازہ ہے کہ سب سے زیادہ اغلب یہی ہے کہ ایران ان ملکوں کے خلاف بالواسطہ کا روائی کرے گا، جو اس کی دانست میں اسرائیلی پالیسی کی حمائت کرتے ہیں۔ مقصد یہ ہوگا کہ وہ پبلک میں اس سے اپنی لاتعلّقی ظاہرکرسکے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایران عارضی طورپرآبنائے ہُرمُز کو بھی بند کردے ، تاکہ تیل کی مارکیٹ میں مزید کھلبلی مچے، یہ بھی ممکن ہے کہ دنیا بھر کی دارالحکومتوں میں سویلین اہداف کے خلاف کار بم دھماکے ہوں۔

اور یہ بات یقینی ہے کہ ایران بھاری آتشیں مادہ افغانستان بھیجے گا جسے سڑکوں میں دبانے اورامریکی اورنیٹو فوجیوں کو ہلاک کرنے کے لئےاستعمال کیا جائے گا، جیسا کہ ماضی کیا گیا تھا۔ بالکل ویسے ہی جیسے عراق میں انتہائی تشدّد کے دور میں کیا گیا تھا۔

لیکن ایران کا اوّلین مقصد غالباً اپنے جوہری پروگرام کی تعمیر نو اور اس کو آگے بڑھانا ہوگا۔ اوران اندازوں کے مطابق ایران کی شاید یہ کوشش ہوگی کہ امریکہ کی طرف سے اُس پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ نہ شروع ہو۔

بُحران کی شدّت کے باوجود افغان حکمت عملی کو بچانا لازمی ہے، اس عنوان سے ایک ادارئے میں ’واشنگٹن پوسٹ‘ کہتا ہے کہ اُس ملک کے تازہ ترین بُحران کی زد امریکہ کی اُس حکمت عملی کی جڑ پر پڑتی ہےجس کا مقصد یہ ہے کہ افغانستان دوبارہ طالبان کی عمل داری میں نہ چلا جائےاورپھر القاعدہ کا اڈّہ نہ بنے۔

اگران مقاصد کوحاصل کرنا ہے تو یہ ضروری ہے کہ افغان سیکیورٹی افواج کوجنہیں پچھلے کئی برسوں کے دوران بھاری بیرونی امداد کی بدولت بھرتی کرکے، تربیت دے کر اور اسلحہ بند کرکے تیارکیا گیاہے، بچایا جائے۔ اور اس کے لئے ان افواج کونیٹو کی طرف سے مزیدتربیت اورمشورے کی ضرورت پڑے گی اورسالہا سال تک بھاری بیرونی مالی امداد کی بھی ضرورت پڑے گی۔

یہ ہدف ، پچھلے ہفتے بظاہر خطرے میں پڑ گیا جب وردی پوش افغانوں نےچار امریکی فوجیوں کو ہلاک کر دیاَ اور کابل میں وزارت داخلہ کے اندر ایک اور حملے کے بعد تمام افغان وزارتوں میں کام کرنے والے امریکی اور نیٹو مشیروں کو واپس بلایا گیا۔ اخبار نے اوباما انتظامیہ کی طرف سےاس اقدام کو عارضی قرار دینے اور اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو بنیادی حکمت عملی پر کا بند رہیں گے۔

لیکن اس کے باوجود اخبار کے خیال میں اس واقعے سے انتظامیہ کے باہر ان حلقوں کے ہاتھ مضبوط ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ، جو اگلے سال امریکی فوجوں کی واپسی میں جلدی کرنے اور افغان افواج کے فنڈز میں کٹوتی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ انتخابات کے اس سال میں اس سےووٹروں کو تو شاید متاثُر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے سے افغانستان کے مشن کو درپیش چیلنجوں میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی۔

امریکی فوجیوں پران حملوںکی ابتداء بگرام ائیربیس پر قرآن کو غلطی سے نذر آتش کرنے کے ناقابل معافی واقعے سے ہوئی ۔ جس کے لئے صدر اوباما نے بجا طور پر معافی مانگی ۔ اور جس پرری پبلکن صدارتی امیدواروں نےمسٹر اوباما کے اس اقدام پر انگلی اٹھانے کی حماقت کی۔مسٹر اوباما کا پیغام ملنے کے بعد صدر کرزئی نے لوگوں کو امریکہ کے خلاف پُر تشدّد مظاہرے بند کرنے کی اپیل کی۔

اخبار کہتا ہے کہ نوٹ کرنے کی بات یہ ہےکہ افغان سیکیورٹی افواج امریکی تنصیبات اورعملے کو تحفظ فراہم کرتی رہی ہیں، اورایسا کرنے پران کے لوگ ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ملک کے دوسرے علاقوں میں افغان فوجیں امریکی فوجوں کے ساتھ مل کر مشترکہ فوجی کاروائیوں میں مصروف رہی ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ افغانستان سے واپسی کا واحد محفوظ اور آبرومندانہ طریقہ یہ ہے کہ ایک ایسی افغان فوج اور پولیس تیار کی جائے، جوملک کو طالبان اور دوسرے انتہا پسندوں سے محفوظ رکھ سکے۔ 2014 ءتک اس مقصد کا حصول کافی مشکل کام ہے جیسا کہ پچھلے ایک ہفتے کے واقعات سے ظاہر ہے۔ اور اگر اوباما انتظامیہ نےاس میں جلدی کرنے یا فنڈز میں بھاری کمی کرنےاور افغان فوج کی نفری کم کرنےکا فیصلہ کیا تو پھر اس مقصد کا حصول تقریباً نا ممکن ہو جائے گا۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG