رسائی کے لنکس

'شکاگو ٹربیون' لکھتا ہے کہ پاکستان "جہاد کی فیکٹری" بن چکا ہے اور وہ دنیا کے کئی ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی کی غیر قانونی منتقلی کا بھی ذمہ دار ہے جس پر اس نے آج تک باضابطہ طور پر معذرت نہیں کی۔

افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے رسد کی بحالی کا معاملہ چھ ماہ گزرنے کے باوجود طے نہیں پایا ہے۔

اسلام آباد حکومت نے نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے کئی شرائط عائد کی ہیں جن میں سرِ فہرست سلالہ چیک پوسٹ حملے پر معافی کا مطالبہ ہے۔تمام تر دباؤ اور سفارت کاری کے باوجود پاکستان اپنے اس مطالبے پر قائم ہے کہ امریکہ گزشتہ سال کیے جانے والے اس حملے پر معافی مانگےجس میں 24 پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئےتھے۔

لیکن امریکی اخبار 'شکاگو ٹربیون' میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ معافی امریکہ کو نہیں بلکہ پاکستان کو مانگنی چاہیے کیوں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں مسلسل دوغلا کردار ادا کرتا آیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ 'القاعدہ' کے خلاف کاروائی کے لیے امریکہ نے پاکستان کو 18 ارب ڈالر کی امداد دی لیکن اس کے باوجود اسامہ بن لادن اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بڑے سکون سے ایبٹ آباد کی چھاؤنی کے نزدیک مزے سے زندگی گزارتا رہا۔ امریکیوں نے دنیا کے اس مطلوب ترین فرد کا سراغ لگا کر اسے ہلاک کردیا تو بجائے اس کے کہ پاکستان اپنی کوتاہی پر معافی مانگتا اس نے الٹا امریکی فوجی آپریشن پر احتجاج کیا۔

'شکاگو ٹربیون' لکھتا ہے کہ پاکستان "جہاد کی فیکٹری" بن چکا ہے اور وہ دنیا کے کئی ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی کی غیر قانونی منتقلی کا بھی ذمہ دار ہے جس پر اس نے آج تک باضابطہ طور پر معذرت نہیں کی۔

اخبار کے مطابق پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے مبینہ طور 2010ء میں اسلام آباد میں تعینات 'سی آئی اے' کے افسران کی شناخت ظاہر کی جس پر انہیں وہاں سے نکلنا پڑا۔

'شکاگو ٹربیون' لکھتا ہے کہ 2008ء میں ہونے والے ممبئی حملوں میں پاکستانی ملوث تھے۔ جب کہ ستمبر 2011ء میں افغان دارالحکومت کابل کے امریکی سفارت خانے اور نیٹو دفاتر پر جو حملے کیے گئے ان میں طالبان کا حقانی نیٹ ورک ملوث تھا جسے 'آئی ایس آئی' کی حمایت حاصل ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان نے ان میں سے کسی بھی واقعے پر معافی نہیں مانگی۔

مضمون میں ایسے 10 معاملات کی نشان دہی کی گئی جن پر، مضمون نگار کے بقول، پاکستان کو امریکہ سے معافی مانگنی چاہیے۔

امریکہ میں ان دنوں سرکاری جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والے نامناسب سلوک پر کڑی نکتہ چینی کی جارہی ہے۔ اس بحث کا آغاز محکمہ انصاف کی ایک حالیہ رپورٹ کے بعد ہوا ہے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکی جیلوں سے حال ہی میں رہائی پانے والے 10 فی صد قیدیوں کا کہنا ہے کہ انہیں دورانِ قید جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس بارے میں 'نیو یارک ٹائمز' اپنے ایک اداریے میں لکھتا ہے کہ حالیہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی جیلوں میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے قیدیوں کی تعداد 2010ء کے مقابلے میں دگنی ہوگئی ہے ۔

اخبار لکھتا ہے کہ تین برسوں کے انتظار کے بعد بالآخر امریکی محکمہ انصاف نے قیدیوں کے ساتھ ہونے والے نامناسب سلوک کی روک تھام کے لیے راہنما ہدایات جاری کی ہیں۔

نئی حکمتِ عملی کے تحت قیدیوں پر ہونے جنسی تشدد کے واقعات کی بروقت نشاندہی اور مکمل تحقیقات کے علاوہ متاثرین کی جسمانی اور ذہنی صحت کی بحالی کے لیے انتظامات کیے جائیں گے۔ ان انتظامات کے جائزے کے لیے محکمہ انصاف کے اہلکار ہر جیل کا دورہ بھی کریں گے۔

لیکن اخبار نے اس امر پر افسوس ظاہر کیا ہے کہ نئی ہدایات میں جیل حکام کو کم عمر قیدیوں کو علیحدہ بیرکوں میں رکھنے کا پابند نہیں کیا گیا۔

'نیو یارک ٹائمز' لکھتا ہے کہ جیلوں میں نوجوان قیدیوں پر جنسی تشدد کا امکان زیادہ ہوتا ہے لہذا انہیں بڑی عمر کے قیدیوں سے علیحدہ رکھنے کو یقینی بنانا چاہیے۔ اخبار نے کانگریس پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر قانون سازی کرکے قیدیوں کے ساتھ ہونے والے اس بہیمانہ سلوک کا خاتمہ کرے۔

امریکہ میں یہ سال انتخابات کا سال ہے اور صدراوباما کے مقابلے کے لیے ری پبلیکن پارٹی کے مٹ رومنی نامزدگی جیتنے کے قریب ہوتے جارہے ہیں۔اس موضوع پراخبار 'لاس اینجلس ٹائمز' نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ریاست کیلی فورنیا میں صدر براک اوباما کو اپنے متوقع ری پبلکن حریف مٹ رومنی پر واضح اکثریت حاصل ہے اور ریاست کے عوام کی اکثریت صدر کو دوبارہ منتخب ہوتے دیکھنا چاہتی ہے۔

اخبار کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق ریاست کے شہریوں میں صدر اوباما کی مقبولیت 56 فی صد ہے جب کہ ان کے مقابلے میں رومنی کو 37 فی صد رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہے۔

سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ رومنی کو کیلی فورنیا کے ری پبلکن ووٹروں کی بھی مکمل حمایت حاصل نہیں جس کا اظہار، اخبار کے مطابق، ریاست میں پانچ جون کو ہونے والے ری پبلکن پارٹی کے پرائمری انتخاب کے نتائج سے بھی ہوگا۔

واضح رہے کہ 'الیکٹورل ووٹوں' کی تعداد کے اعتبار سے کیلی فورنیا امریکہ کی سب سے بڑی ریاست ہے جس کے عوام کی حمایت یا مخالفت صدارتی انتخاب کے نتائج پر خاصی اثر انداز ہوتی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG