رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: نیا سال، اچھی توقعات

  • صلاح احمد

امریکی اخبارات سے: نیا سال، اچھی توقعات

امریکی اخبارات سے: نیا سال، اچھی توقعات

اخبار’یو ایس اے ٹوڈے ‘کہتا ہے کہ درپیش معاشی مسا ئل کےباوجود ، ملک کے لئے اچھی نوید اِس کے کچھ اٹل حقائق ہیں۔ اِس ملک میں جو عوام بستے ہیں وہ جدت طراز، آفات کا مقابلہ کرنے کے اہل، شفیق،سخت محنت کے عادی، خود اعتماد، تحمّل مزاج اور اُولالعزم ہیں

سال 2011ء پر ایک طائرا نہ نظر ڈالتے ہوئےاخبار’ یو ایس اے ٹوڈے‘ کہتا ہےکہ امریکی خاندانوں کو بڑے چیلنجوں سے گزرنا پڑا ہے۔ سنہ 2008 میں ملک جس اقتصادی بھنور میں گھر گیا تھا اُس سے باہر نکلنے میں انہیں سخت جد و جہد کرنی پڑی۔

دس سال سے سکڑتی ہوئے آمدنیوں اور مہنگائی نے متوسط طبقےکا مستقبل مایوس نظر آرہا تھا۔ اور بقول اخبار کے ایسا لگ رہا تھا کہ اس گُتھی کو سلجھانے سے زیادہ لڑنے بھڑنے میں زیادہ دلچسپی ہے۔ جیسا کہ کانگریس کی عوام میں مقبولیت 11 فی صد کی حد تک گرنے سے ظاہر ہے۔

لیکن، اس کے باوجود ، اخبار کہتا ہے کہ ملک کے لئے اچھی نوید بھی ہے، جس کی بنیاد اس ملک کے کچھ اٹل حقائق ہیں۔ اس ملک میں جو عوام بستے ہیں وہ جدت طراز، آفات کا مقابلہ کرنے کے اہل، شفیق،سخت محنت کےعادی، خود اعتماد، تحمّل مزاج اور اُولالعزم ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آئی پیڈ اور سمارٹ فون جیسی لطیف چیزیں اور 787 جیسے عظیم طیارے تخلیق کرتے ہیں۔

اخبارکہتا ہے،2011ء کے دوران دوسری اچھی خبریں سننے کوملیں جِن میں امریکی فوجیوں کےہاتھوں اوسامہ بن لادن کی ہلاکت ایک ہے۔

اخبار کی دانست میں ’یہ دنیا اب زیادہ پرامن ہوتی جارہی ہے‘۔ اگرچہ، عراق اور افغانستان سے آنے والے خبروں سے ایسا لگ نہیں رہا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نئی صدی کے آغاز کے بعد جنگوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 55 ہزار سالانہ ہے، جو 1990ء کی دہائی کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے، اور سرد جنگ کے دور کے مقابلےمیں ایک تہائی ہے۔

ادھر امریکی فوجیں اب وطن واپس آ نا شروع ہو ئی ہیں ۔ عراق میں جب جنگ زوروں پر تھی تو اس وقت ایک لاکھ ساٹھ ہزار امریکی فوجیں وہاں تھیں۔ اس سال ہزاروں فوجیوں نے کرسمس کی تعطیلات اپنے عزیزوں کے ساتھ گزاریں۔

اخبار کہتا ہے کہ معیشت میں بھی بہتری آنے لگی ہے۔سال کے دوران روزگار کے 14 لاکھ مواقع پیدا کئے گئے۔ اس طرح بے روزگاری کی شرح نو اعشاریہ چار سے کم ہو کر آٹھ اعشاریہ چھ رہ گئی ہے۔

ایک اوراہم بات یہ ہوئی ہے کہ امریکہ کی تیل درآمدات، جو پہلے بارہ ملین بیرل یومیہ تھی اب کمہو کر 8اعشاریہ 8 ملین بیرل ہو گئی ہیں۔ اس کی جزوی وجہ بہتر کاروں کا سڑک پر آنا اور ملک کے اندر زیادہ تیل کی پیداوار ہے۔میکسکو اور کینیڈا جیسے دوست ممالک سے زیادہ تیل درآمد کیا جا رہا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ ملک میں ٹریفک میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔ اِسی طرح جرائم میں بھی کمی ہو رہی ہے۔

نئے سال کے بارے میں اخبار کہتا ہے کہ اس میں بھی چیلنجز آئیں گے ۔ لیکن اسے یقین ہے کہ یہ سال اچھی خبروں کا نقیب ہوگا،سائینس مزید ترقّی کرے گی اور کاروبار پھلےگا ور پھولے گا۔

پچھلےدنوں، نائب صدر جو بائڈن نےایک رسالے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان ، بنیادی طور پر امریکہ کے دُشمن نہیں ہیں۔

اِس پر’ہیوسٹن کرانیکل‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ کی افغانستان کے ساتھ بات چیت جاری ہے کہ طالبان کی قیادت کوقائل کریں کیونکہ وہ اپنا وطیرہ بہتر بنائیں تاکہ امریکہ اس طویل ترین جنگ سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔ دوسری بات یہ ہے کہ دس سال قبل جب امریکی فوجیں افغانستان میں اتری تھیں تو وہ طالبان سے لڑنے نہیں گئی تھیں۔ بلکہ القاعدہ کی فوجوں اور بالخصوص اوسامہ بن لادن اور اس دہشت گرد تنظیم کے دوسرے لیڈروں کاپتہ لگانے کے لئے گئی تھیں جن کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اُس ملک کے دور افتادہ پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ جو بائڈن کے اس بیان پر بہت تنقید ہوئی ہے۔ لیکن، وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ نائب صدر کے بیان کو ، چاہے اس میں لغزش کا پہلو کیوں نہ ہو ۔سیاق سباق سے الگ کر کے نہیں جانچنا چاہئیے۔

اخبار کہتا ہے یہ شائد درست ہے لیکن پچھلے ایک عشرے کے دوران امریکیوں کی آنکھوں نے طالبان کے طرزعمل کے ہیبت ناک نمونے دیکھے ہیں۔1995ء سے لے کر 2001 ءتک افغانستان پر راج کرنے والی اس بنیاد پرست تنظیم نے جو مظالم ڈھائے ان میں ان کے شریعت کے قانون کی ذرّہ سی خلاف ورزی کرنے والی عورتوں کو سر عام زدوکوب کرنا، لڑکیو ں کو تعلیم سے محروم رکھنا اور انہیں اکثر طبی علاج سے بھی محروم رکھنا شامل ہے۔

اخبار کہتا ہے جو بائڈن کا یہ کہنا اپنی جگہ کہ طالبان لازمی طور پر ہمارے دشمن نہیں۔ لیکن، یہ وہی لوگ ہیں جنِ کے اعمال بنیادی انسانی حقوق اورامریکہ کے کلچرل معیاروں کے با لکل منافی ہیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG