رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: افغانستان کی نئی پولیس فورس

  • صلاح احمد

فائل

فائل

اس مقامی پولیس فورس کو قائم ہوئے ابھی سال سے بھی کم عرصہ ہوا ہے لیکن اس نے کمانڈروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ نیٹو فوجیں جب کسی علاقے کو طالبان سے پاک کرتی ہیں تو اس علاقے پر اس مقامی پولیس کی مدد سے تسلّط برقرار رکھا جا سکتاہے

’واشنگٹن ٹائمز‘ نےافغانستان میں ایک نئی اُبھرتی ہوئی انسداد دہشت گردی پولیس فورس کے بارے میں بتایا ہے کہ اگرچہ اسے جنگ کے نویں سال میں ترتیب دیاگیا، اس کی کارکردگی سے یہ ممکن ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی فوج اُس ملک سے فتحیاب ہو کر ہی نکلے گی ۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ مقامی افغان پولیس اس قدرکارگر ثابت ہو رہی ہے کہ وزیر داخلہ بسم اللہ خان نے احتجاج کیا ہے کہ ملک کے شمالی علاقوں میں اس کے پولیس کے یونٹوں کی تعداد بہت کم ہے ۔ چُنانچہ، امریکی فوج نے اب ان علاقوں میں مزید یونٹ قائم کرنا شروع کئے ہیں۔

اس فورس کی تعداد نسبتاً کم ہے اور دیہات میں استحکام لانے کی کاروائیوں کے اُس پروگرام کا حصّہ ہے ، جس کا مقصد افغان دیہات میں طالبان بغاوت کو فرو کرنا ہے۔

اس مقامی پولیس فورس کو قائم ہوئے ابھی سال سے بھی کم عرصہ ہوا ہے لیکن اس نے کمانڈروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ نیٹو فوجیں جب کسی علاقے کو طالبان سے پاک کرتی ہیں تو اس علاقے پر اس مقامی پولیس کی مدد سے تسلّط برقرار رکھا جا سکتاہے۔ افغانستان میں نیٹو فوجوں کے اعلیٰ کمانڈر جنرل جان ایلن نے پچھلے ہفتے سینیٹ کی مسلّح افواج کی کمیٹی کو بتایا تھا۔ کہ یہ فورس افغانستان میں قبضہ برقرار رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا

اخبار کہتا ہے کہ اس مقامی پولیس کو، جو قومی پولیس کے برعکس تمام تر رضا کاروں پر مشتمل ہے۔ امریکہ کی سپیشیل فورسز، مثلاً گرین بیریز تربیت فراہم کرتی ہیں ۔ مقامی پولیس فورس ایک گاؤں کے لئے وقف ہوتی ہے۔ اور اس کا انتخاب گاؤں کے بڑے بُوڑھے وفا داری کی بُنیاد پر کرتے ہیں۔

پینٹگان کے نقشے میں مقامی پولیس کے دستوں کی غالب اکثریت ملک کے جنوب اور مشرق میں ہےجب کہ شمال میں اُن کی تعداد مقابلتہً کم ہے ۔ اس وقت مقامی پولیس کی مجموعی نفری بارہ ہزار ہے۔ جو بالآخر بڑھا کر تیس ہزار کر دی جائے گی۔ اور ایک مرحلے پر افغانوں کو فیصلہ کرنا پڑے گا۔کہ اس کو برقرار رکھ جائے یا قومی پولیس فورس میں مُدغم کر دیا جائے۔

’ انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون‘ نے11/9 کےبعد ان نو برسوں کے دوران اوسامہ بن لادن کے حالات پر روشنی ڈالی ہے، جو اُس نے پاکستان میں گُزارے ۔

اخبار کہتا ہے کہ اس دوران بن لادن کا قیام پانچ مختلف محفوظ مکانوں میں رہا اوراسی دوران وہ مزید چار بچوں کا باپ بھی بنا۔ بن لاد ن کی تیس سالہ بیوی عمل کے بقول ان میں سے دو بچوں کی پیدائش سرکاری اسپتالوں میں ہو ئی تھی۔

پچھلے سال مئی میں 54 سال کی عمر میں امریکی سپیشل فورسز کے ہاتھوں بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس بیوی کی جو شہادت پاکستانی پولیس نے قلمبند کی ہے اس میں بن لادن کے خاندان کے اس وقت تک کے مکمّل کوائف ہیں ، اگرچہ اخبار کے خیال میں اس میں واضح نقائص بھی ہیں۔اس کی یہ شہادت جس پولیس افسر نے قلمبند کی ہے۔ اُس میں اُن پاکستانی افسروں کا کوئی ذکر نہیں ۔ جنہوں نے اس کے شوہر کواس کا تعاقب کرنے والے امریکیوں کی گرفت سے بچانے میں مدد کی تھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ گُتھی ابھی تک نہیں سُلجھ سکی ہے ۔ کہ بن لادن کے لئے یہ کیونکر ممکن ہوا کہ وہ اپنے خاندان کو ِ سیکیورٹی کی اتنی خوفناک فورس کے ہوتے ہوئے ، پاکستان کے طول و عرض میں ایک جگہ سے دوسری جگہ لےکر جا ئے ۔ ۔ بن لادن کی تینوں بیواؤوں ، میں بُہت دلچسپی لی جا رہی ہے ۔ کیونکہ اُن کے پاس بعض ایسی گُتھیوں کے جواب ہیں۔ جنہوں نے سنہ 2001 کے بعد سے مغربی انٹلی جینس کو پریشان کر رکھا ہے۔ بن لادن کی تینوں بیوائیں اس وقت اسلام آباد کے ایک مکان میں نظر بند ہیں ۔ اور اُن پر پاکستان کے امی گریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام ہے۔جس کے لئے پانچ سال تک قید کی سزا ء ہو سکتی ہے۔۔۔۔

’سین فرانسسکو کرانیکل‘ کے مطابق سیٹیلائٹ سے لی گئی تصویروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا بین الاقوامی اعتراضات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دور ما کر نے والے راکیٹ کا تجربہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے بانی کم ال سنگ کی صد سالہ سالگرہ کے اعزاز میں یہ تجربہ کر رہاے ۔لیکن امریکہ کا موقُف ہے کہ اصل میں دورمار کرنے والی مزائل ٹیکنالوجی کی آزمائش کے لئے یہ بہانہ تراشا گیا ہے۔ جس سےاقوام متحدہ کی قراردون کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

XS
SM
MD
LG