رسائی کے لنکس

49فی صد امریکی مسلمان اپنے آپ کو پہلے مسلمان بعد میں امریکی سمجھتے ہیں: جائزہ رپورٹ

  • صلاح احمد

49فی صد امریکی مسلمان اپنے آپ کو پہلے مسلمان بعد میں امریکی سمجھتے ہیں: جائزہ رپورٹ

49فی صد امریکی مسلمان اپنے آپ کو پہلے مسلمان بعد میں امریکی سمجھتے ہیں: جائزہ رپورٹ

PEWریسرچ سینٹرکے اِس جائزے میں کہا گہا ہے کہ دوسرےلوگوں کی طرح امریکی مسلمان بھی یہاں کی سرگرمیوں میں اُنہی کی طرح شرکت کرتے ہیں اور اُن میں سے غالب اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ اس ملک میں اپنی بُودو باش سے خوش ہیں۔ دوسری برادریوں کے بارے میں اُن کی رائے مثبت ہے اور اُن کا ایمان ہے کہ سخت محنت ہی کامیابی کا زینہ ہے

’یو ایس اے ٹوڈے‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ PEWریسرچ سینٹر نے امریکی مسلمانون کی رائے عامہ کا جوحال ہی میں جائزہ لیا ہے اُس نے ایک معمے کو جنم دیا ہے۔

إِس جائزے میں 49فی صد امریکی مسلمانوں نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہلے مسلمان اور بعد میں امریکی سمجھتے ہیں، جب کہ 20فی صد نے اپنے جواب میں کہا کہ وہ اپنے آپ کو پہلے امریکی سمجھتے ہیں ۔ کیا اِس بنا پر مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا چاہیئے۔اخبار کہتا ہے’ نہیں‘۔

اخبار نے PEWکے ایک سابقہ جائزے کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جس کے مطابق امریکی عیسائیوں میں سے تقریباً اِسی تناسب سے یعنی 46فی صدنے اپنے آپ کو پہلے عیسائی اور پھر امریکی بیان کیا تھا۔ اِس پر اب کیا کہا جائے کہ،’ یہ ایک مذہبی ملک ہے؟‘

اخبار کہتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی طرح امریکی مسلمان بھی یہاں کی سرگرمیوں میں اُنہی کی طرح شرکت کرتے ہیں اور اُن میں سے غالب اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ اس ملک میں اپنی بُودو باش سے خوش ہیں۔ دوسری برادریوں کے بارے میں اُن کی رائے مثبت ہے اور اُن کا ایمان ہے کہ سخت محنت ہی کامیابی کا زینہ ہے۔ وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ بیشتر اسلامی ملکوں کے مقابلے میں وہ امریکہ میں بہتر زندگی گزار رہے ہیں اور اُنھیں بھی اسلامی انتہا پسندی پر اُتنی ہی تشویش ہے جتنی کہ غیر مسلموں کو ہے۔

’یو ایس اے ٹوڈے‘ کہتا ہے کہ امریکی مسلمانوں میں سے تین چوتھائی ایسےہیں جو خود اِس ملک میں نقلِ وطن کرکے آئے ہیں یا جِن کے والدین یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ لہٰذا، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ دوسرے فساد زدہ علاقوں سے نو واردوں کی طرح وہ بھی حاصل کردہ نئی آزادی سے سرشار ہیں اور امریکہ سے جو خواب وابستہ ہے اُس کے حصول کے خواہاں ہیں۔

کروڑ پتیوں کے بارے میں ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں چھپنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2015ء تک ایشیا میں جتنے کروڑ پتی ہوں گے اُن میں سے تقریباً نصف چین میں ہوں گے، جِن کے پاس اِس خطے کی آدھی سے زیادہ دولت ہوگی۔

اُس وقت تک ایشیا کے کروڑ پتیوں کی تعداد دوگنی ہوجائے گی۔ اُن کی مجموعی تعداد 28لاکھ ہوگی، جِن میں سے 14لاکھ چین کے ہوں گے۔ اُس وقت ایشیا کے کروڑ پتیوں کی دولت 158کھرب ڈالر سے زیادہ ہوگی جس میں سے چینی کروڑ پتیوں کا حصہ 87کھرب ڈالر سے زیادہ ہوگا۔

چین نے، جِس کی معیشت دنیا میں سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے، پچھلے ایک سال کے دوران پانچ لاکھ دو ہزار کروڑ پتی پیدا کیے اور دوسری سہ ماہی میں اِس سے ایک سال قبل کے مقابلے میں سرکاری اور نجی سرمایہ کاری کی بدولت مجموعی قومی پیداوار میں ساڑھے نو فی صد کی شرح سے اضافہ ہوا۔ 2010ء میں ایشیا کے کروڑ پتیوں کے مجموعی اثاثے 56کھرب ڈالر تھے۔

رپورٹ کے مطابق 2015میں ہندوستان ایشیا کی دوسری سب سے بڑی منڈی بن کر اُبھرے گا جِس میں کروڑ پتیوں کی تعداد چار لاکھ تین ہزار ہوگی اور جِن کے اثاثوں کی مجموعی قیمت 25کھرب ڈالر ہوگی۔

اِس اعتبار سے جنوبی کوریا تیسرے نمبر پر ہوگا۔

’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق ہندوستان کی معروف مصنفہ ارُون دتی رائے نے، جو مہاتما گاندھی کے سرگرم پیروکار انا ہزارے کی رشوت ستانی کی مہم پر کڑی تنقید کرتی آئی ہیں، کہا ہے کہ جو تحریک انا ہزارے کی پہچان بن گئی ہے وہ اُس کے لیڈر کم اور کٹھ پتلی زیادہ ہیں۔

مس رائے کی یہ تنقید ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب انا ہزارے کی بھوک ہڑتال کو پورے ملک میں بھاری عوامی حمایت حاصلہ رہی ہے جِن میں حزب ِ اختلاف کے لیڈروں سے لے کر بالی وڈ کےسٹار شامل ہیں۔

مسٹر انا ہزارے نے بھوک ہڑتال ختم کردی جب حکومت قانون کے ذریعے رشوت ستانے کے خلاف ایک Ombudsmanیا لوک پال کا عہدہ قائم کرنے پر تیار ہوگئی۔

لیکن ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں ارُون دتی رائے انا ہزارے کی جماعت پر الزام لگایا کہ اُنھوں نے رشوت ستانی کے خلاف عوامی غصے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے لوک پال بِل کے ذریعے اپنے مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جسے اُنھوں نے رجعت پسندانہ قرار دیاہے۔

مس رائے کو البتہ تسلیم تھا کہ اس سودے سے کچھ بھلا ضرور ہوا ہے اور سماجی کارکنوں کو لوک پال سے متعلق اپنے مطالبات میں سمجھوتے کرنے پڑے ہیں۔

لوک پال سے متعلق جس بِل کی ہفتے کو پارلیمنٹ نے منظوری دی ہے اُس میں یہ مطالبہ ترک کر دیا گیا ہے کہ اِس کا اطلاق عدلیہ کے ارکان پر بھی ہونا چاہیئے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG