رسائی کے لنکس

پاکستان کی حکومت نے کسی بھرپور فوجی کاروائی کے آغاز کی نفی کردی ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت کے اندر کافی عرصے سے اس پر اتّفاق رائے نہیں ہو سکا ہے کہ پاکستانی طالبان سے نمٹنے کا بہترین طریقہ کیا ہو سکتا ہے: کرسچن سائینس مانٹر

اِس ہفتے، پاکستانی ائیر فورس نے افغان سرحد کے قریب طالبان کے مضبوط ٹھکانوں پر جو بمباری کی ہے، وُہ سنہ2007 کے بعد، اِس نوعیت کی پہلی بمباری تھی جس پر، اخبار ’کرسچن سائینس مانٹر‘ کا سوال ہے کہ کیا یہ حکمت عملی میں کسی تبدیلی کی غمّاز ہے۔

اسلام آباد سے، اخبار کے نمائیندے کے بقول، پیر کی اس بمباری پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے، کیونکہ شمالی وزیرستان کے طالبان دھڑے کے کمانڈر کے ساتھ جب سے امن کے معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں، اِس قسم کے فضائی حملوں کا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے۔

لیکن، اس تازہ ترین حملے سے، اخبار کے بقول، حکمت عملی میں مکمل تبدیلی کا ابھی کوئی اشارہ نہیں ملتا۔

پاکستان کی حکومت نے کسی بھرپور فوجی کاروائی کے آغاز کی نفی کردی ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت کے اندر کافی عرصے سے اس پر اتّفاق رائے نہیں ہو سکا ہے کہ پاکستانی طالبان سے نمٹنے کا بہترین طریقہ کیا ہو سکتا ہے، کیونکہ حزب اختلاف کی بڑی بڑی پارٹیوں اور مذہبی تنظیموں کی طرف سے سخت مخالفت ہو رہی ہے۔ بمباری کی ایک امکانی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ طالبان کے دو حملوں میں کم از کم پاکستانی35 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

اخبار نے انگریزی روزنامے ’ڈان‘ کے ایک ایڈیٹر، سیرِِِل المائیڈا کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت ابھی امن مذاکرات کے راستے سے دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں۔ اور وہ برابر پہلے مذاکرات کی پالیسی کے ساتھ چمٹی ہوئی ہے۔ کیونکہ، وُہ چاہتی ہے کہ طالبان کے جو دھڑے اب بھی مذاکرات کے لئے تیار ہوں۔ اُن سے بات چیت موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں طالبان کے تین درجن دھڑے سرگرم ہیں، جن میں سے بعض مذاکرات کے حق میں ہیں، اور اُس نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے کہ وہ ان دھڑوں کا کیا کرے گی، جو مذاکرات کے خلاف ہیں۔

مذاکرات کےلئے نواز شریف حکومت مئی میں برسر اقتدار آنے کے ساتھ ہی کوشاں رہی ہے اور اس مقصد سے کُل جماعتی کانفرنس بھی بلائی گئی تھی۔

بعض حلقوں نے پیر کی بمباری کو بلاموقع قرار دیا ہے، وزیرستان میں قائم این جی او ، قبائیلی ترقیاتی نیٹ ورک کے ڈائریکٹر، ناظم داور کے حوالے سے، اخبار کہتا ہے کہ ہزاروں قبائیل اس ڈر سے کہ کہیں پاکستان کی فوج مزید فضائی بمباری یا برّی حملہ نہ کرے، گھر بار چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس بمباری کے بعد، تیس ہزار سے زیادہ لوگ ان کے پاس پہنچے ہیں جن کے لئے اُن کی تنظیم اسلام آباد سے مدد طلب کر رہی ہے۔

پیر کی بمباری میں، کم از کم 40 جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔ اور جیسا کہ فوج نے بتایا ہے، اِن میں 33 اُزبک اور 3 جرمن باشندے شامل ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ علاقہ مقامی اور عالمی سطح کی دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ ہے جن میں القاعدہ کے علاوہ افغان اور پاکستانی طالبان شامل ہیں، اور سنہ 2004 سے امریکی فوج باقاعدگی کے ساتھ وہاں ڈرون حملے کرتی آئی ہے۔

’شکاگو ٹربیون‘ کی رپورٹ ہے کہ صدر اوبامہ نے عراق کو مشورہ دیا ہے کہ اُسے اپنی فوج میں قبائیلی لشکریوں کو شامل کرنا چاہئے۔

اخبار نے وہائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ عراقی پارلیمنٹ کے سپیکر اوسامہ النجفی کے ساتھ اپنی بُدھ کی ملاقات کے دوران، مسٹر اوبامہ نے عراق کی باقاعدہ فوج میں سنّی قبائیلی لشکریوں کو شامل کرنے کے امکان کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا۔

بیان کے مطابق، اُنہوں نے عراقی لیڈروں سے تمام تنظیموں کے جائز مطالبات پر مکالمہ جاری رکھنے کو کہا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں جانب اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی اور سیاسی اقدامات کئے جائیں، اور دونوں نے اُن طریقوں پر غور کیا جن کے ذریعے، قبائیل ملیشیا کو سیکیورٹی فوجوں کے ساتھ ضم کیا جائے۔

اور آخر میں، ایسو سی ایٹڈ پریس کی یہ خبر کہ شکاگو کی پولیس نے ایک 29 سالہ خاتون کو گرفتار کر لیا ہے، جس پرغیر ذمہ دارانہ طرز عمل اور جانوروں پر ظلم کرنےکا الزام لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ نومبر کے مہینے میں وُہ ایک دو فُٹ لمبا مگر مچھ او ہیر ہوائی اڈے پر اپنے پیچھے چھوڑ گئی تھی، جسے بعد میں ہوائی اڈے کے عملے نے قابو کر لیا تھا۔
XS
SM
MD
LG