رسائی کے لنکس

’واشنگٹن پوسٹ‘ کہتا ہے کہجب 11 جنوری کو صدر اوبامہ اور افغان صدر حامد کرزئی نے یہ اعلان کیا کہ طالبان کے لئے ایک مذاکراتی دفتر قطر میں کُھلنے والا ہے، تو انتظامیہ کے اندر یہ توقعات بڑھ گئی تھیں کہ امن مذاکرات عنقریب واپس پٹڑی پر آجائیں گے

’واشنگٹن پوسٹ‘ کہتا ہے کہ طالبان کےساتھ مذاکرات افغانستان سے امریکی فوج کےانخلا کے لئے کلیدی حیثیت کے حامل ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ جب 11 جنوری کو صدر اوبامہ اور افغان صدر حامد کرزئی نے یہ اعلان کیا کہ طالبان کے لئے ایک مذاکراتی دفتر قطر میں کُھلنے والا ہے توانتظامیہ کے اندریہ توقعات بڑھ گئی تھیں کہ امن مذاکرات عنقریب واپس پٹڑی پر آ جائیں گے۔

لیکن، صدر کرزئی نے کابُل واپس پہنچنے پر یہ شرط لگا دی کہ جب تک قطر تحریری طور پر اُس کی شرائط کو نہیں مانتا کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ اور جیسے جیسے اوبامہ انتظامیہ کے لئے سنہ 2014 تک افغانستان سے اپنی لڑنے والی فوج کی واپسی کی رفتار طے کرنے کا وقت قریب آتا جا رہاہے اس انخلا کی حکمت عملی کے لئے مصالحت کا عمل کلیدی اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔

انتظامیہ کو اندیشہ ہے کہ کسی سیاسی منصوبے کو شروع کئے بغیر امریکی فوجوں کے انخلا سے اُس پر دوبارہ یہ الزام آئے گا کہ وہ پھر اس خطے کو اپنےحال پر چھوڑ کر جارہا ہے، جیسا اُس نے 1990 ءکی دہائی میں سوئت قبضے کے خاتمے کے بعد کیا تھا۔

اور اگر ایسی صورت میں دوبارہ خانہ جنگی شروع ہوئی، جس کا کہ بُہت سُوں کو اندیشہ ہے، تو افغانستان کے پڑوسیوں کو اس کی ضرورت محسوس ہوگی کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک فریق کی طرف داری کریں۔

علاوہ ازیں، اخبار کہتا ہے کہ امریکہ کو جو یہ اُمید ہے کہ وُہ انخلا کے بعد کے دور کے لئے اپنے پیچھے انسداد دہشت گردی کی ایک فورس افغانستان میں چھوڑ جائے گا، تاکہ وُہ القاعدہ کے بچے کُھچے عناصر کے خلاف کاروائی جاری رکھ سکے ، وُہ بھی خاک میں مل جائے گی۔ اس کے علاوہ طالبان کے ساتھ مذاکرات قیدیوں کے تبادلے کے لئے بھی ضروری ہیں۔ اور اُن کے نتیجے میں طالبان کی قید میں جو امریکی سارجنٹ ہے اُسے چھُڑایا جاسکے گا۔

اخبار کہتاہے کہ طالبان نے بھی مذاکرات کے لئے کڑی شرائط لگا رکھی ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ امریکی اُنہیں ایسے مُذاکرات میں لانے کی کوشش کررہے ہیں، جو بعد میں حامد کرزئی کے حوالے کردئے جایئں گے، جب کہ کرزئی کا خیال یہ ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ ایسا سودا کر رہا ہے جو کرزئی اور اُن کےحامیوں کو اپنے حال پر چھوڑ دے گا۔

لیکن ایک عہدہ دار کے حوالے سے اخبار کہتا ہےکہ امریکہ خلوص کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے ہر ایک کے لئےسیاسی گُنجائش پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن، لگ یہ رہا ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی تصفیہ نہیں چاہتا۔

پاکستان میں مقیم مُلّا عُمر کے کوئٹہ شُوریٰ کے بارے میں اخبار کہتا ہے کہ اُس کے نمائندے سنہ 2011 سے قطر میں مقیم ہیں جہاں وہ جرمنی، جاپان، ناروے اور دوسرے ملکوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر چُکے ہیں۔ لیکن امریکی نمائندوں سے ایک سال قبل ابتدائی بات چیت کی ناکامی کے بعد مقید امریکی سارجنٹ کو اُن پانچ طالبان قیدیوں کے عوض چھڑانے کی امیدیں بھی باقی نہیں رہیں جو گوان ٹانمو کی امریکی فوجی جیل میں بند ہیں۔

اخبار کے بقول، امریکی انتظامیہ مذاکرات کے لئے ایسی جگہ پر زور دیتی آئی ہے جو افغانستان سے باہر ہو اور پاکستان کے زیر اثر عسکریت پسند تحریکوں سے ُدور ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ صدر کرزئی کو یقین دلایا گیا تھا کہ امریکہ کا حتمی مقصد عسکریت پسندوں اور اُن کی حکومت کے درمیان براہ راست ایک سمجھوتہ کرانا تھا۔ لیکن، طالبان کی طرف سے تعاون یقینی نہیں ہے۔ البتہ، ہو سکتا ہے کہ اُس کے بعض لیڈروں کو اگر قیدیوں کی رہائی سمیت اچھی پیشکش کی جائے تو اُن کا ردِّعمل مثبت ہو۔

اخبار کہتا ہے کہ وسط جنوری میں قطری وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ جس قدر جلد ممکن ہوا اُن کے ملک میں ایک دفتر کُھل جائے گا تاکہ، طالبان اور افغانستان کی دوسری سیاسی پارٹیوں کے درمیان مکالمہ شروع ہو۔

لیکن، اتنی محنت سے ترتیب دیا گیا یہ انتظام چوپٹ ہو گیا جب صدر کرزئی نے اپنا یہ مطالبہ دُہرایا کہ اِن مذاکرات کے بارے میں تحریری یقین دہانیاں فراہم کی جایئں،جس کے لئے نہ تو قطر اور نا ہی طالبان تیار ہیں۔

’واشنگٹن ٹائمز‘ کی رپورٹ ہے کہ عراق میں تیل کی پیداوار تیزی سے بڑھ رہی ہےاور اس ملک کو امید ہےکہ اس کی پیداور سعودی عرب کی پیداوار سےبھی تجاوز کر جائے گی۔

تیل کے عراقی چشموں سے فزوں تر پیداوار کا اس سے بہتر وقت نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ تیل کی مانگ چین اور ہندوستان میں بڑھ رہی ہے جہاں کاروں کے استعمال میں اضافہ ہورہا ہے۔

دوسری طرف، ایسا لگ رہا ہے کہ سعودی عرب اور رُوس جیسے تیل برآمد کرنے والے ملک اپنی پیداواری گُنجائش کی انتہا کو پہنچ گئے ہیں اور اُس میں اضافہ نہیں کر سکیں گے۔

توانائی کے بین الاقوامی ادارے کی پیش گوئی ہے کہ عراقی تیل کا بیشتر حصّہ اُس کی روائتی منڈیوں یعنی امریکہ اور یورپ نہیں بلکہ ایشیائی منڈیوں میں جائے گا، اور اس طرح، آنے والے برسوں میں عراق نہ صرف تیل کی عالمی سپلائی میں ایک بڑے خلا کو پُر کرے گا، بلکہ تیل کی قیمتوں پر دباؤ بھی کم ہو جائے گا۔
XS
SM
MD
LG