رسائی کے لنکس

اخباری رپورٹ کے مطابق، امریکی فوجیں افغانستان میں سنہ 2001 سے موجود ہیں۔ جن کا ابتدائی مشن القاعدہ کو تباہ کرنا تھا۔ اور یہ مشن بُہت پہلے حاصل کیا جا چُکا ہے۔ البتہ، وہاں طالبان موجود ہیں

معروف تجزیہ کار، رچرڈ کوہن افغانستان کی جنگ کے بارے میں، ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو اب اپنی مقصدیت کھو چُکی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ امریکی فوجیں افغانستان میں سنہ 2001 سے موجود ہیں۔ جن کا ابتدائی مشن القاعدہ کو تباہ کرنا تھا۔ اور یہ مشن بُہت پہلے حاصل کیا جا چُکا ہے۔ البتہ، وہاں طالبان موجود ہیں۔ لیکن، القاعدہ کے برعکس، یہ مقامی لوگ ہیں، جو بظاہر ابھی ڈٹّے ہوئے ہیں، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اُن کے پاس خود کُش بمباروں کی لا محدود رسد موجود ہے۔

اور، یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ آتے کہاں سے ہیں، اور اُن کے ہاتھوں افغانوں اور غیر ملکیوں کا قتل و غارت برابر جاری ہے، جیسے کہ حال ہی میں کابل کے ایک لبنانی ریستوراں میں، جس کے بیشتر گاہک مغربی لوگ ہیں۔ بم دہماکے میں 21 افراد کا خُون ہوا۔حملہ آور بندوق بردار کی آمد سے پہلے خود کُش بمباری ہوئی تھی۔

رچرڈ کوہن یاد دلاتے ہیں کہ سنہ 2009 میں صدر اوبامہ نے افغان جنگ میں زیادہ امریکی فوجی جھونکنے کا حکم ضرور دیا تھا۔ لیکن، اُس وقت یہ ظاہر تھا کہ وہ اس جنگ کو طُول نہیں دینا چاپتے تھے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ یہ جنگ اوبامہ نے نہیں بلکہ جارج بُش نے شروع کی تھی، جسے بلا سوچے سمجھے بیچ میں چھوڑ کر، وُہ صدّام حُسین کے دُنبال ہو گئے۔ تب سے یہ جنگ جاری ہے۔اور اب عراق کی طرح، احمقانہ لگتی ہے۔ عراق میں 4489 امریکی ہلاک ہوئے تو افغانستان میں2307 ، جو مصنّف کی نظر میں انسانی جانوں کا ایک ناقابل فہم ضیاع ہے۔ اور اس کے باوصف انتظامیہ کا اصرار ہے کہ افغانستان میں دس ہزار امریکی فوجی اس بناٴ پر موجود رہنے چاہئیں کہ یہ ملک دوبارہ دہشت گردوں کا اڈّہ بن سکتا ہے۔ اور امریکی سہارے کے بغیر، افغان فوج پسپا ہو سکتی ہے، جس کے بعد طالبان پھر سے اقتدار حاصل کر سکتے ہیں، اور خواتین اور لڑکیاں دوبارہ زن بے زار درندوں کے رحم و کرم پر ہونگی۔

امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے لئے صدر اوبامہ نے حال ہی میں جو اصلاحات تجویز کی ہیں، ان پر ’یو ایس اے ٹوڈے‘ اخبار کہتا ہے کہ اغلب یہی ہے کہ ان سے نہ تو انٹلی جنس سے وابستہ لوگوں کی اور نہ ہی شہری آزادی کے سرگرم کارکنوں کی تسلّی ہو گی۔ لیکن، اخبار کی نظر میں،شائد ہونا بھی یہی چاہئے، کیونکہ قومی تحفّظ اور آزادی مشکل امور کو جنم دیتے ہیں، جن کا حل یہ نہیں ہو سکتا کہ یا تو ساری باتیں مانو یا کوئی نہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ مسٹر اوبامہ کی از بس کوشش یہ ہے کہ ٹیلیفونوں کے ریکارڈ کے ڈیٹا بیس سے تمام امکانی فوائد حاصل کئے جائیں، اور اس کے غلط استعمال کے خلاف روکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔ کیا ایسا کرنا ممکن ہے؟ اس کا ثبوت ابھی نہیں آیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ثابت نہیں ہوا ہے کہ آیا یہ پروگرام دہشت کا مقابلہ کرنے کا ایک موثّر آلہ ثابت ہوا ہے۔

دہلی کے صوبے کی عام آدمی پارٹی کی نئی حکومت کے بارے میں، ’وال سٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال کو قدرت نے یہ صفت دے رکھی ہے کہ وُہ عوام کی نظروں میں رہیں۔ وُہ رشوت ستانی کے خلاف مہم چلاتے چلاتے سیاست دان بن گئے، اور اُن کی نئی نویلی عام آدمی پارٹی کو پچھلے سال کے صوبائی انتخابات میں جو کامیابی حاصل ہوئی، اس نے پورے ہندودستان کو ورطہٴحیرت میں ڈال دیا۔ اور باوجودیکہ جنتا پارٹی کے مقابلے میں اُن کی پارٹی کےاسمبلی ممبر کم تھے۔ اُنہوں نے کانگریس پارٹی کی حمائت سے حکومت بنا لی۔

اخبار کہتا ہے کہ اقتدار میں آئے ہوئے اگرچہ اُنہیں چند ہی ہفتے ہوئے ہیں، اُنہوں نے بجلی کی قیمت آدھی کردی ہے۔ اور پچھلے دس ماہ کے دوران جس نے بجلی کا بل ادا نہیں کیا ہے اُس کے خلاف مقدّمہ خارج کر دیا گیا ہے۔ اُنہوں نے دہلی کی شہریوں کو ہر ماہ بیس ہزار لَیٹر پانی کی مفت فراہمی کی منظوری دی ہے، اور عوام سے کہا ہے کہ وہ اپنے موبائیل فونوں کے ذریعے اُن سرکاری ملازمیں کے خلاف خفیہ کاروائی چلانے میں مدد دیں، جو رشوتیں مانگتے ہوں۔

اس ہفتے، انہوں نے اپنی پارٹی کا ایک اور انتخابی وعدہ پورا کیا۔ اور خوردہ کاروبار میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو ممنوع قرار دیا۔ اس طرح، وفاقی حکومت کا وُہ تیرہ ماہ پرانا اصلاحی اقدام ختم ہو گیا، جس کا مقصد ملک میں وال مارٹ جیسے بھاری سٹوروں کی شاخیں کُھلوانا تھا۔

اخبار کے مطابق، اس پارٹی کو قومی سطح پر جو اہمیت حاصل ہو رہی ہے، اُس کی وجہ ملک کے ذرائع ابلاغ میں اُس کی تشہیر، اُس کے رضاکاروں کا جوش و جذبہ اور اس کے خیر خواہوں کی طرف سے چندوں کی بھر مار ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندر پار ملکوں میں رہنے والے ہندوستانی نژاد لوگوں کی طرف سے بھاری رقوم پارٹی کو بھیجی جا رہی ہیں۔

اخبار کے بقول، مسٹر کیجری وال کی سوانح زندگی، متوسّط طبقے سے تعلّق رکھنے والے بُہت سےلوگوں کو متاثّر کرتی ہے، بہت سے ایسے سیاست دانوں کے برعکس، جن کے اوصاف میں خاندانی اثر و نفوذ، چاپلوسی یا ہنگامے برپا کرنے کے سوا کُچھ نہیں، کیجری وال ’انڈین انسٹیی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ اور ’انڈین ریوینیو سروس‘ کے نہائت مشکل امتحانات پاس کر چُکے ہیں۔ اُنہیں ہندی اور انگریزی زبانوں پر مکمّل دسترس حاصل ہے، اور وہ خاندان، ذات پات اور مذہب کی روائتی سیاست سے دور رہتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG