رسائی کے لنکس

’بحالیٴامن کی ناکامی کی صورت میں افغانستان اور اس علاقے کے بیشتر حصّے میں استحکام خطرے میں پڑ جائے گا۔۔ اور اس میں پاکستان شامل ہے، جو خود اپنے یہاں طالبان باغیوں سے بر سر پیکار ہے‘

’واشنگٹن ایگزیمینر‘ اخبار کے مطابق افغانستان نے الزام عائد کیا ہے کہ بارہ سال کی جنگ کے بعد اُس ملک میں امن کی بحالی کے لئے جو کوششیں کی جارہی ہیں اُن میں پاکستا ن ناقابلِ قبول شرائط لگا رہا ہے۔ چنانچہ، تعلّقات ٹوٹ جانے سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں یا تو خطرے میں پڑ جاتی ہیں، یا بالکل مفلوج ہو کر رہ جاتی ہیں۔

امریکہ اور اُس کے اتّحادی 20 ماہ کے اندر حتمی طور پر اپنی فوجیں اُس ملک سے نکال لیں گے۔ لیکن، اِس سے پہلے اُن کا کلیدی نصب العین، افغانستان کا ایک پرامن حل نکالنا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ افغانستان اور اُس کے بین الاقوامی اتّحادی پاکستان کے کلیدی کردار کو سمجھتے ہیں، جس کی مدد سے طالبان اور دوسرے عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے پاس درجنوں طالبان قیدی ہیں اور اُس پر الزم لگایا جاتا رہا ہے کہ وُہ باغیوں کی امداد کرتا ہے، تاکہ غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد افغانستان پر اُس کا اثر و نفُوذ قائم ہو۔ لیکن، ایک سرکردہ پاکستانی عہدہ دار کے حوالے سے اخبار نے بتایا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کا حامی ہے۔

اسی لئے اُس نے حال ہی میں اپنی جیلوں سے 26 قیدیوں کو رہائی دی تھی۔ اس عہدہ دار نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ اُسے پبلک میں اِن باتوں کا ذکر کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اُس کا کہنا تھا کہ پاکستان کا طالبان کے ارکان کے ساتھ رابطہ قائم ہے، جنہیں مصالحت پر بات کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ بحالیٴ امن کی ناکامی کی صورت میں افغانستان اور اس علاقے کے بیشتر حصّے میں استحکام خطرے میں پڑ جائے گا۔۔ اور اس میں پاکستان شامل ہے، جو خود اپنے یہاں طالبان باغیوں سے بر سر پیکار ہے۔

جمعرات کو افغان وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ پاکستان کو بتا دیا گیا ہے کہ اُسے افغانستان میں امن کی حمائت نہ صرف افغان عوام کے بھلے کے لئے بلکہ اپنے عوام کی خاطر کرنی چاہئے۔

ترجمان نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر قریبی، وسیع تر سٹرٹیجک تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ لیکن، پاکستان مسلسل اپنی پوزیشن بدلتا رہتا ہے۔ حالانکہ، اسلام آباد کو افغان امن کی حمائت کرنی چاہئے اور افغانستان سے ایسے دوطرفہ تعلقات رکھنے چاہیئں جس کی بنیاد افغانستان پر تسلّط جمانے کی فریب خیالی پر نہیں ہونی چاہئے۔

اخبار نے اسلام آباد میں ایک سرکردہ عہدہ دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان مصالحت کی حمائت کرتا ہے۔ چناچہ، امن کے عمل کو شروع کرنے کے خیال سے پاکستان نے ایک اجلاس منعقد کرنے کی تجویز رکھی ہے جس میں نہ صرف طالبان بلکہ افغانستان کی تمام نسلوں سے تعلّق رکھنے والے قبائل کے نمائندے شرکت کریں۔

اس نے واضح کردیا ہے کہ اس کا مقصد کرزئی کو اس مرحلے سے باہر رکھنا نہیں ہے بلکہ یہ بات یقینی بنانا ہے کہ افغان صدر اپنے سیاسی مخالفین کو الگ نہ رکھیں۔

اخبار کہتا ہے کہ امن کے عمل کی کوششوں میں جو مزید پیچیدگیاں ہیں، اُن میں طالبان کے ارکان کے اندرونی اختلافات ہیں۔ طالبان کے دو دھڑوں کے درمیان مباحثہ جاری ہے۔ اُن میں سے ایک دھڑہ اس وجہ سے مذاکرات کی مخالفت کرتا ہے کہ بین الاقوامی فوجیں ملک سے جانے والی ہیں اور اُن کی جگہ ایک کمزور افغان فوج سنبھالے گی، جب کہ دوسرا دھڑہ مصالحت کو افغانستان میں سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے ایک ذریعے کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

چین کے دارالحکومت میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران فضا بُہت زیادہ آلودہ رہی۔

’کرسچن سائینس مانٹر‘ کہتا ہے کہ صحت کے عالمی ادارے نے ایسی فضا میں سانس لینے کے لئے آلودگی کا جو محفوظ تناسُب قرار دیا ہے، بیجنگ میں وُہ تناسُب چالیس گُنا زیادہ تھا۔

اخبار کہتا ہے کہ حالیہ دو مہینوں کے دوران، کم از کم ایک ایک دن ہوا میں کثافت اتنی زیادہ تھی کہ سرکاری طور اعلان کیا گیا کہ مُنہ پر کپڑا باندھے بغیر گھر سے باہر جانا غیر محفوظ ہوگا۔ حتّیٰ کہ یہ کثافت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ باہر سے آئے ہوئےلوگ اور اُ ن کے خانداں ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اور بعض کمپنیاں اُن کو روکنے کے لئے آلودگی کی الگ تنخواہ دینے کا لالچ دے رہے ہیں۔

اور پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ کاروباری اداروں کے نوجوان چینی عہدہ دار دارالحکومت کی کثافت زدہ فضا سے بچنے کے لئے بہتر آب و ہوا والے شہروں میں تلاش معاش کررہے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ ماحولیاتی مسئلہ غیر ممالک سے ہنر مند لوگوں کو بیجنگ بلانے میں بھاری چیلنج بن سکتا ہے۔ بیجنگ دنیا کے سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھنے والی معیشت کا ہمیشہ دارالحکومت رہے گا، لیکن اس کثافت کی وجہ سے دوسروں کے لئے اس کی جازبیت جاتی رہی ہے۔
XS
SM
MD
LG