رسائی کے لنکس

اخبار ’کرسچن سائینس مانٹر‘ کہتا ہے کہ پاکستانی عوام کو فرقہ وارانہ فسادات اور اُس کو روکنے میں حکومت کی بے عملی پر غصّہ ہے اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اُس کی شجاعت کے لئے اُسے پاکستان کے اعلیٰ اعزازات سے نوازا جائے

پاکستان میں 17 سالہ طالب علم اعتزاز حسن کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے،جو ایک خود کُش بمبار کو روکنے کی کوشش میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

اخبار ’کرسچن سائینس مانٹر‘ کہتا ہے کہ پاکستانی عوام کو فرقہ وارانہ فسادات اور اُس کو روکنے میں حکومت کی بے عملی پر غصّہ ہے اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اُس کی شجاعت کے لئے اُسے پاکستان کے اعلیٰ اعزازات سے نوازا جائے۔ اور بعض نے اُس کا موازنہ ملالہ یُوسف زئی سے کیا ہے، جسے سکول جانے کی پاداش میں طالبان نے تقریباً مار ہی دیا تھا، اور جس کا بعد میں بین الاقوامی سطح پر اتنا چرچا ہوا تھا کہ کئی لوگوں کو توقع تھی کہ سال کا نوبیل امن انعام اُسی کو ملے گا۔

اعتزاز حسن اُس روز سکول دیر سے پہنچا تھا، جب اسےاور اس کے ساتھیوں کو ایک اجنبی نے روک کر راستہ دریافت کیا۔ اور اعتزاز حسن کو شُبہ ہوا تو اُس نے اُن کو روکنے کی کوشش کی، جس پر بمبار نے گھبراہٹ میں بم پھوڑ دیا اور دونوں جان سے مارے گئے۔

اس رپورٹ میں، ’نیو یارک ٹائمز‘ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس بمبار نے جس سکول کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی اُس میں کم از کم 1000 لڑکے پڑھتے ہیں اور جو ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں فرقہ وارانہ تشدّد عام ہے۔ اور، جو نہ صرف طالبان جنگجؤوں کا بلکہ سنُّی انتہا پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی کے حملوں کا اکثر نشانہ بنتا رہا ہے۔ اور اس واقعے سے یہ حقیقت اُجاگر ہوتی ہے کہ ملک میں استحکام بحال کرنے کی کوششوں کے باوجود حکومت فرقہ وارانہ تشدّد کو روکنے میں کتنی بے بس ہے۔

’کرسچن سائینس مانٹر‘ کی ایک حالیہ رپورٹ میں ایک ضابطہٴاخلاق کا ذکر تھا، جس پر پاکستانی فرقوں کی نمائیندگی کرنے والی 32 تنظیموں نے دستخط کئے تھے، تاکہ فرقہ وارانہ تحریر و تقریر کو ممنوع قرار دیا جائے۔

لیکن، جیسا کہ مانٹر کے نامہ نگار عُمر فاروق نے کہا ہے، اس ضابطہٴاخلاق پر عمل درآمد ایک چیلنج ہے اور فرقہ وارانہ فسادات کا روز کھٹکا لگا رہتا ہے۔ نئے سال کا آغاز ایران سے لوٹنے والے دو شیعہ زائیرین کی ہلاکت سے ہوا، جب کہ 3 جنوری کو اسلام آباد میں دو مقتدر سُنّی لیڈروں کی جانیں لی گئیں۔

مانٹر کہتا ہے کہ پاکستانی اس تشدّد سے عاجز آ چُکے ہیں، اور اخبار ’نیشن‘ اپنا اداریہ اعتزاز حسن کو معنون کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال چُکے ہیں، اس لئے کہ ہم سمجھتے ہیں ہم ان حملوں کو روکنے کے لئے کُچھ نہیں کر سکتے۔ اور جو چند لوگ ابھی بھی مزاحمت کر رہے ہیں، وُہ بھی مکھیوں کی طرح مارے جا ر ہے ہیں۔ اخبار کا سوال ہے کہ حقیقت جاننے کے لئے ابھی اور کتنے بچوں کی قربانی دینی ہوگی؟

امریکہ کے وسیع علاقوں کو جو منجمد کرنے والے ہواؤوں نے اپنی لپیٹ میں لےلیا ہے، اُس پر ’ہفنگٹن پوسٹ‘ کہتا ہے کہ اس سے موسمیاتی تبدیلی کو نہ ماننے والوں کو اپنے موقف کے حق میں ایک بہانہ مل گیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ باوجودیکہ دنیا کے 97 فی صد سائنیس دانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ انسان کی پیدا کردہ عالمی حرارت ایک مسلّمہ حقیقت ہے، ڈانلڈ ٹرمپ جیسے لوگ امریکہ کے موسم میں اس بلا کی سردی کو اس بات کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ اس کرّہٴارض میں گرمی میں اضافہ نہیں ہو رہا۔

لیکن، اخبار اس حقیقت کی طرف توجّہ دلاتاہے کہ قطع نظر اس کے کہ سرد ہواؤوں نے شکاگو کا درجہٴحرارت منفی 60 فارن ہائیٹ تک گرا دیا ہے اور کینیڈا کے بعض علاقوں میں سیّارہ مرّیخ سے زیادہ سردی پڑ رہی ہے، قُطبین کی برف ابھی بھی پگھلتی جا رہی ہے، اور موسم کی اس تبدیلی کی وجہ سے اس کرّہٴارض کو خطرہ لاحق ہے، وہ بہت سے سائینس دانوں کی پیش گوئیوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ موسم کے ایک واقعے کو یہ دعویٰ کرنے کے لئے نہیں استعمال کیا جا سکتا کہ موسم میں تبدیلی آرہی ہے یا نہیں۔ طویل رُجحانات کے مطالعے کے بعد، یہ بات پایہٴثبوت کو پہنچ چُکی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے۔ اور اس کا بہت زیادہ امکان ہے کہ اس کی بیشتر ذمہ داری انسان پر آتی ہے، اور امریکہ اس وقت جس یخ بستہ حالت میں ہے وُہ اس بات ایک اور ثبوت ہے کہ یہ کرّہٴارض گرم تر ہو رہا ہے، اور موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے۔

’لاس انجلس ٹائمز‘ کی رپورٹ ہے کہ پچھلے ماہ، امریکہ میں نئے روزگار کے صرف 74 ہزار موقع پیدا کئے گئے جو تین سال کے دوران نئی ملازمتوں کی سب سے کم تعداد ہے، اور تقریباً تین سال کے عرصے میں، یہ اضافہ سب سے کم اور بہت مایوس کن ہے، کیونکہ اس سے پہلے کے تین ماہ کے دوران ملازمتیں بڑھنے کی اوسط شرح دو لاکھ تھی۔ بے روز گاری میں اس معمولی اضافے کے باوجو محکمہٴمحنت نے اعلان کیا ہے کہ اسی مہینے ملک میں بے روزگاری کا تناسب چھ اعشاریہ سات رہا، جو پانچ سال میں سب سے کم ہے۔
XS
SM
MD
LG