رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: بھارت اور آزادی اظہار


بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (فائل)

بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (فائل)

’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ ہندوستان کے سنہ 1949 کے آئین میں، آزادئ تقریر اور اظہار دونوں کی ضمانت موجود ہے۔ لیکن، نوآبادیاتی دور کے اُن قانونوں، کا جن سے اس آزادی پر قدغن لگتی ہے، مذہبی جنون کے خود ساختہ ٹھیکیدار غلط استعمال کرتے ہیں

اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ نے اشاعتی ادارے، پین گُوِن کے اُس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے جس کے تحت، اس نے ’دی ہِندُوز‘ نامی کتاب کی اشاعت اور فروخت روک دی ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام ہندوستان میں آزادئ اظہار کے حق پر تازہ ترین حملہ ہے، جس سے سنسرشپ کا مطالبہ مزید زور پکڑے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ ہندوستان کے سنہ 1949 کے آئین میں، آزادئ تقریر اور اظہار دونوں کی ضمانت موجود ہے۔ لیکن، نوآبادیاتی دور کے اُن قانونوں، کا جن سے اس آزادی پر قدغن لگتی ہے، مذہبی جنون کے خود ساختہ ٹھیکیدار غلط استعمال کرتے ہیں۔

پین گوِن نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اُس نے دینڈی ڈانی گر کی ایک کتاب مارکیٹ سے ہٹالی ہے، کیونکہ اُس کو برطانوی دور کے 1860ء کے ضابطہٴ فوجداری میں، 1927ءکی اُس ترمیم کے تحت دیوانی اور فوجداری مقدّموں کا سامنا تھا، جس کے تحت، ہندوستانیوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا جُرم ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ دونوں ہندؤوں اور مسلمانوں نے اِسی قانون کا سہارا لیتے ہوئے، ایسی کتابوں کو ممنوع قرار دلوایا ہے، جو اُن کی دانست میں، قابل مذمّت ہیں۔ علاوہ ازیں، طاقت ور کمپنیوں اور افراد نے ہتک عزّت کے الزامات کا سہارا لے کر کتابیں غیرقانونی قرار دلوائی ہیں، اور خود ہندوستانی حکومت نے آئین میں 1951 ءکی اُس ترمیم کا استعمال کیا ہے، جس کی رُو سے نہ صرف آزادئ اظہار پر قدغن لگائی جا سکتی ہے، بلکہ کتابوں کو بھی ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے، اور ہندو قوم پرستوں کو خاص طور پر جب کوئی تقریر پسند نہ آئے تو وُہ تشدّد کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ ہندوستان میں خبر دینا ایک خطرناک کام بن گیا ہے۔ ’رپورٹرز وِد اؤوٹ بورڈرز‘ نامی ادارے نے، 180 ملکوں میں آزادئ اظہار کی صورت حال کا جائزہ لیا، جس میں ہندوستان ایک سو چالیسویں نمبر پر پایا گیا ہے۔ صحافیوں کو باقاعدہ دباؤ کا سامنا رہتا ہے، جس میں ایسی دھمکیاں بھی شامل ہیں کہ وہ جب ہندو قوم پرست نظریات یا اُمید واروں پر کوئی خبر لگائیں یا تبصرہ کریں، تو احتیاط برتیں، آزادئ اظہار پر پابندی لگانے والے قوانین کے بے دریغ استعمال سے خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ اور آزادئ اظہار کے دُشمنوں نے عہد کر رکھا ہے کہ وُہ مزید کتابوں پر پابندی لگوائیں گے۔

شمالی کوریا میں حقوق انسانی سے متعلق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس ملک میں سیاسی نظربندوں کے کُل چار قید خانے ہیں، جنہیں محض نمبروں کا نام دیا گیا ہے، یعنی نمبر 4، نمبر 15 ،نمبر 16 اور نمبر 25۔۔ اور جن میں سیاسی قیدیوں کی مجموعی تعداد اسّی ہزار سے لے کر ایک لاکھ بیس ہزار کے درمیان ہے۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ قیدیوں کی تعداد کم ہوگئی ہوگی، جس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ پانچویں قید خانے سے قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ باقیماندہ قیدیوں کو نیست و نابود کیا جا رہا ہے۔ اور جیسا کہ کمشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے، عام حالات میں بھی ان کیمپوں میں قیدی وسیع پیمانے پر ہلاک ہو رہے ہیں، کیونکہ ان کیمپوں کا مقصد ہی یہ ہے کہ رفتہ رفتہ اُن کی آبادی کا خاتمہ کیا جائے۔ اور قیدیوں سے اتنا کام لیا جاتا ہے کہ وہ تھک ہار کر موت کے مُنہ میں چلے جاتے ہیں۔ کمیشن نے ان کیمپوں میں اموات کی وجہ بھوکوں مارنا، قیدیوں کے ساتھ غفلت برتنا، حد سے زیادہ بیگار لینا، بیماری اور تختہٴدار پر لٹکانا بتایا ہے۔

اقوام متحدہ کے اس کمیشن نے یہ خوفناک حقائق ملک کے باہر سے جمع کئے ہیں، کیونکہ اس کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس کمشن کے سربراہ مائیکل کربی نے، جو آسٹریلیا کے ایک ریٹائیرڈ ماہر قانون ہیں، دنیا کے سامنے جو نقشہ پیش کیا ہے وہ سوئت دور کے لیبر کیمپوں کے بارے میں الیگزانڈر سولزے نِت سِن کی معرکتہ الآرا کتاب ’گُولاگ آرکی پیلّاگو‘ کے مشابِہ لگتے ہیں، شمالی کوریا کے یہ کیمپ بھی انہیں کیمپوں کی طرز پر بنائے گئے ہیں۔

مسٹر کربی کہتے ہیں کہ ان کیمپوں میں سیاسی مظالم بیسویں صدی میں ہٹلر کے اجتماعی کیمپوں اور سٹالن جیلوں کے نظام میں ہونے والے مظالم کا مقابلہ کرتے ہیں، اور یہ سب کُچھ 1940 ء یا 1950 ء میں نہیں ہورہا، بلکہ ہمارے دور میں ہو رہا ہے۔ اور ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے مسٹر کربی کی اس رپورٹ سے اتفاق کیا ہے کہ دنیا پر اِن مظلوموں کو بچانے کی ذمّہ داری آتی ہے۔ لیکن، اس کے سدّباب کے لئے، جو کُچھ ہو رہا ہے وہ ناکافی ہے۔ اور اخبار کہتا ہے کہ شمالی کوریا کے لیڈروں کا احتساب ہونا چاہئے۔ شمالی کوریا کے ان مظالم اور ہلاکتوں کو بہت زیادہ عرصے سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ اور جیسا کہ کربی رپورٹ میں کہا گیا ہے، شائد وُہ وقت آگیا ہے کہ جب ہم شمالی کوریا کے بارے میں سوچیں، تو اس مسئلے کو سر فہرست رکھا جائے۔

امریکی ریاست اری زونا کے قانون ساز ادارے نے مذہب سے متعلّقایک متنازعہ بل کی منظوری دی ہے جس کی رو سے افراد کو یہ حق حاصل ہوجائے گا کہ وہ کسی مقدّمے میں اپنے دفاع میں مذہبی عقائد کا سہارا لے سکتے ہیں۔

اخبار ’اری زونا ری پبلک‘ کہتا ہے کہ اس کی رُو سے، ایک آجر کسی دوسرے مذہبی عقیدے کے فرد کو ملازمت دینے سے انکار کر سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG