رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: ماہر معیشت داں کی آٹھ سالہ کارکردگی


معاشی بُحرانوں کے ایک ماہر کی حیثیت سے، برنانکی نے کساد بازاری اور معیشت کی تنزلی کو روکنے کے لئے فیڈرل ریزرو میں دستیاب ہر حربے کا استعمال کیا، جن میں سے بیشتر کارگر ثابت ہوئے

امریکہ کے ’فیڈرل رِیزرو‘ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ، بین برننکی کی آٹھ سالہ کارکردگی پر معروف تجزیہ کار ڈانا مِلی بینڈ کا کہنا ہے کہ کسی اور شخص کے مقابلے میں اُن کو اس بات کا زیادہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے امریکہ کو ایک اور عظیم کساد بازاری میں جانے سے بچا لیا۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ میں ایک مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ جس وقت اُنہوں نے اِس عُہدے کی ذمّہ داری سنبھالی تو ملک میں مکانوں کی قیمتیں گر رہی تھیں۔ اس اعتبار سے، اُن کا آنا اچھا ثابت ہوا اور معاشی بُحرانوں کے ایک ماہر کی حیثیت سے اُنہوں نے اس کو روکنے کے لئے فیڈرل ریزرو میں دستیاب ہر حربے کا استعمال کیا، جن میں سے بیشتر کارگر ثابت ہوئے۔

لیکنم مِلی بینڈ کہتے ہیں کہ ایوان نمایندگان پر ری پبلکن قبضے کے بعد بجٹ میں کٹوتیوں کا سلسلہ قبل از وقت کیا گیا۔ نتیجتہً، معیشت میں کفائت برتنی پڑی۔ اس کی وجہ سے معیشت زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے نہ بڑھ سکی۔ان نامساعد حالات میں برننکی نے معیشت کو بچانے کے لئے ہر ممکن قدم اُٹھایا۔

ملی بینڈ نے برننکی کی آخری تقریر کی یہ بات خاص طور پر نوٹ کی ہے کہ اگر پچھلے چند برسوں کے دوران، کانگریس کی طرف سے وُہ قدم نہ اُٹھائے گئے ہوتے، جن کی وجہ سے شرح نمو میں روکاوٹیں پیدا ہُوئیں، اور جیسا کہ برننکی نے کہا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا، تو معیشت اس سے کہیں بہتر ہوتی اور روزگار کے مزید ایسے لاکھوں فاضل مواقع پیدا کئے جا سکتے تھے۔

’کرسمس‘ کے موقع پر، امریکہ میں خیرات کے کاموں میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور جیسا کہ ’بالٹی مور سن‘ اخبار کے ایک کالم میں معروف ماہر معاشیات اور سابق وفاقی وزیر محنت، رابرٹ رائش کہتے ہیں، خیرات کی مد میں جو رقم دی جاتی ہے وُہ انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتی ہے، اور اس استتثنیٰ کا سب سے زیادہ فایدہ ملک کے دولتمند اُٹھاتے ہیں۔ کانگریس کے بجٹ دفتر کے اعداد وشمار کے مطابق، پچھلے سال اس استثنیٰ کی مجموعی رقم 39 ارب ڈالر تھی جس میں سے 33 ارب ڈالر کا فائیدہ امریکہ کے 20 فیصد امیرترین افراد کو پہنچا اور اس میں سے سب سے زیادہ فایدہ ملک کے سب سے زیادہ متّمول ایک فیصد نے اُٹھایا۔

پروفیسر رائش کہتے ہیں کہ ان نہایت ہی متمول لوگوں کی فیاضی کو بعض اوقات اس ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ وہ قوم کی فلاح و بہبود کے لئے اُسی تناسب سے خرچ کر تے ہیں جیسا کہ وُہ کئی عشرے پہلے کیا کرتے تھے، جب وہ انکم ٹیکس کی مد میں اپنی آمدنی کا اس سے کہیں زیادہ حصّہ ادا کیا کرتے تھے۔ پروفیسر رایش کو اس سے انکار نہیں کہ ’بل اینڈ ملینڈا گیٹس فونڈیشن‘ کی طرح کی نہایت امیر خاندانوں کی قائم کردہ فونڈیشنز انسانیت کا بُہت بھلا کرتی ہیں، لیکن اپنی آمدنی میں سے خیرات کی مد میں امریکی دولتمند جو رقوم دیتے ہیں اُس کا بیشتر حصّہ، اُن ثقافتی اداروں، آپرا ہاؤزِز، میُوزیموں، سِمفنیز اور تھیئٹروں کو جاتا ہے جہاں وہ فرصت کے اوقات دوسرے متمول لوگوں کی صُحبت میں گُزارتے ہیں۔

اس کے علاوہ، اس میں سے کُچھ پیسہ ہارورڈ۔ ییل، پرنسٹن اور ایسے ہی دوسرے آئی وی لیگ تعلیمی اداروں کو جاتا ہے۔

پروفیسر رائش کا سوال ہے کہ اس خیرات کا کتنا تناسُب غریبوں اور مسکینوں تک پہنچتا ہے۔ سنہ 2005 میں انڈیانہ یونیورسٹی کے ایک تجزئے کے مطابق، اس ساری خیرات کا محض ایک تہائی حقیقت میں ایسا ہے جو واقعتہً غریبوں کو جاتا ہے۔ اور مضمون نگار کی رائے میں تاریخ کے اس موڑ پراس بات کو درست نہیں مانا جاسکتا، جب امریکیوں کی تنگ دستی بڑھتی جا رہی ہے، جب حکومت کے پاس ضروری قدم اُٹھانے کے لئے پیسہ نہیں ہے، اور جب امریکہ کے نہایت ہی صاحب ثروت لوگوں کی دولت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

امریکہ میں پھانسی دینے کی سزا میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے۔ ’بوسٹن ہیرلڈ‘اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق، رواں سال کے دوراں 39 افراد کو پھانسی کی سزا دی گئی، اور 19 برسوں میں یہ دوسرا سال ہے جب پھانسی پانے والوں کی تعداد 40 سے کم تھی۔ یہ اعداد و شمار پھانسی کی سزا کے معلوماتی مرکز کے ہیں۔ یہ ادارہ کوئی منافع نہیں کماتا، اور پھانسی کی سزا کی مخالفت کرتا ہے۔ اور اس کا کہنا ہے کہ رواں سال پھانسی کی سزاؤں کی تعداد 1970 ءکی اُس دہائی کے بعد سب سے کم ہے جب پھانسی کی سزا نئے سرے سے نافذ کی گئی تھی۔

اس سال 39 پھانسی کی سزائیں نو ریاستوں میں دی گئیں۔ میری لینڈ ریاست میں پھانسی کی سزا بند کر دی گئی ہے، اس سے پہلے 17 دوسری امریکی ریاستیں یہی قدم اُٹھا چکی ہیں۔
XS
SM
MD
LG