رسائی کے لنکس

بجٹ پر جو مناقشہ چل رہا تھا اس کو ختم کر نے والے اس سمجھوتے کے حق میں دونوں پارٹیوں کے ارکان شامل تھے

امریکی ایوانِ نمائیدگاں میں دونوں پارٹیوں کی حمائت سے ایک بجٹ کی منظوری دی گئی ہے، جس کے طفیل جنوری میں حکومت کے بند ہونے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

اب یہ بل منظوری کے لئے سینیٹ میں جائے گا، جہاں ’شکاگو ٹریبیون‘ کی اس رپورٹ کے مطابق، اس کے اگلے ہفتے تک منظور ہو جانے کی توقع ہے، باوجودیکہ قدامت پسند سیاسی تنظیموں کو شکائت ہے کہ انہوں نے حکومت کے اخراجات میں تخفیف کرنے کا جو نصب العین مقرر کیا تھا، اس کی اس سےنفی ہوتی ہے۔ بجٹ پر جو مناقشہ چل رہا تھا اس کو ختم کر نے والے اس سمجھوتے کے حق میں دونوں پارٹیوں کے ارکان شامل تھے۔

اور جیسا کہ ’وال سٹریٹ جرنل‘ اخبار کہتا ہے، حالیہ برسوں میں قانون سازوں کے مابین جو محاذ آرائی جاری تھی اور جس کی وجہ سے معیشت ڈانواڈول ہو رہی تھی، ایوان نمایندگاں کے اس اقدام سے حالات بدل گئے ہیں۔ اگلے ماہ حکومت کے بند ہونے کا امکان ختم ہوگیا ہے اور اگلے دو سال کے دوران حکومت کے اخراجات میں تخفیف میں نرمی برتی جائے گی۔ اس بل کے حق میں 169 ریپبلکن اور 163 ڈیموکریٹک ارکان نے ووٹ دئے جب کہ مخالفت کرنے والوں میں62 ریپبلکن اور 32ڈیموکریٹ تھے۔

ایوان کے ری پبلکن سپیکر جان بینر نے کہا کہ اس بل سے ہمیں وُہ سب کُچھ تو نہ ملا، جو ہم چاہتے تھے، لیکن ہمارا فرض یہ بنتا ہے کہ امریکی عوام کی خواہش کے مطابق، مشترک باتیں تلاش کی جائیں۔ ایوان میں ڈیموکریٹ ارکان کی لیڈر نینسی پیلوسی نے کہا کہ باوجودیکہ اس سمجھوتے سے بے روزگاروں کی مراعات کو توسیع نہ دی جاسکی۔ وُہ اس کی حمائت کرتی ہیں، اور انہُوں نے اس کی حمائت کی تلقین کرتے ہوئے، ایوان سے امی گریشن کے قانون اور مزدوری کی کم سے کم شرح میں اضافہ کرنے کے امور پر غور کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایوان نمائندگان میں بجٹ کی اس منظوری پر ’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ دونوں ری پبلکنوں اور ڈیموکریٹوں کو اُمّید ہے کہ یہ منظوری حکومتی اخراجات پر اُن کے درمیان ہونے والی محاذ آرائیوں کے لئے جنگ بندی کا حُکم رکھتی ہے، جن کی وجہ سے کانگریس کا کاروبار تقریباً تین سال تک مفلوج رہا، اور دونوں پارٹیوں کے لیڈروں نے اُن سخت گیر قدامت پسندوں کو نظرانداز کردیا جو کسی طور بھی مصالحت کے لئے تیار نہیں تھے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ بجٹ پر یہ سمجھوتہ ری پبلکن رکن کانگریس، پال رائن اور ڈیموکریٹ سینیٹر پیٹی مرّے کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اور اس کا مقصد مختلف مدوں میں اخراجات میں اُس کٹوتی کی چوٹ کا درد کم کرنا ہے جو ’سی کویس ٹریشن‘ کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ بجٹ پر یہ دنگہ اب دو فریقوں کے مابین ایک ایسے ہنگامے کی شکل اختیار کرگیا ہے، جس میں ایک طرف تو کانگرس کے لیڈر ہیں اور دوسری طرف وُہ دھڑے اور وُہ قانون دان ہیں جن کا ٹی پارٹی کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ اس میں ایوان کی ری پبلکن قیادت جماعت کی ٹی پارٹی شاخ سے اُلجھ گئی ہے، ایک امکانی ری پبلکن صدارتی امّیدوار وسکانسِن کے پال رائن بمقابلہ فلوریڈا کے سینیٹر مارکو رُوبیو اور کینٹکی کے رینڈ پال، جو اس سمجھوتے کے خلاف ہیں۔

’کرسچن سائینس مانٹر‘ کی رپورٹ ہے کہ امریکی فوج نے پہلی مرتبہ ٹرک پر لدے ہوئے ایک لیزر ہتھیار کی مدد سے کامیابی کے ساتھ باہر سے آنے والے 90 مارٹروں اور متعدد ڈرون طیاروں کے حملے کو پسپا کر دیا ہے، اور فوج کےخلائی اور مزائیلی دفاعی نظام کے دفاعی عہدہ داروں نے اس تجربے کو ایک ایسی لیزر بیم کے ارتقا سے تعبیر کیا ہے جسے وقت آنے پر امریکی خلائی حدود کو لڑاکا جیٹ طیاروں اور کروز مزائیلوں کے حملوں کے خلاف تحفُّط فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ فوج نے پچھلا ایک مہینہ نیو میکسکو کے ایک آزمائشی صحرا میں دس کلو واٹ طاقت والے ایک لیزر ہتھیار کا تجربہ کرنے میں گزارا۔

اخبار کہتا ہے کہ ایک ایسے وقت، جب محکمہٴدفاع کے اخراجات میں کٹوتی کی جارہی ہے لیزر کے ہتھیاروں کا استعمال سستا پڑے گا، اور فوج عہدہ داروں کا اندازہ ہے کہ ایک حملے پر آنے والی لاگت ڈیزل کے ایک پیالے کی لاگت کے برابر ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اس کی اہمیت خاص طور پر افغانستان جیسے ملکوں میں محسوس ہوگی جہاں پاکستان کے راستے امریکی جنگی اڈّوں کے لئے جنگی اور رسد کا سامان منگوانا نہ صرف مہنگا بلکہ خطرناک بھی ہوتا ہے۔

چنانچہ، وقت آئے گا جب فوج اس قسم کے لیزر ہتھیاروں کا استعمال کرے گی۔ البتہ، افغانستان کی جنگ ختم ہونے سے پہلے، اس قسم کے ہتھیار استعمال کے لئے تیار ہونے کے امکانات کم ہیں۔ یہ بتانا مشکل ہے کہ میدان جنگ کے لئے یہ ہتھیار کب تیار ہونگے۔ البتہ، اُن کی آزمائش سنہ 2022 تک جاری رہے گی۔
XS
SM
MD
LG