رسائی کے لنکس

ہیری ریڈ نے کہا ہے کہ یہ قدم ضروری تھا۔ کیونکہ، سابقہ انتظامیوں کے دوران ’فلبسٹر‘ کا استعمال یا تو سرے سے ہوا ہی نہیں، یا اگر ہوا بھی، تو بہت کم۔ لیکن، جب سے صدر اوبامہ بر سر اقتدار آئے ہیں، درجنوں ’فلبسٹر‘ ہوئے ہیں

ایک پارلیمانی طریق کار ہے، جِس کےتحت بحث کوکسی خاص مقصدسےطول دیا جاتا ہے اور قانون ساز ادرارے کے ایک یا ایک سے زیادہ رُکن کو کسی مخصوص معاملے پر رائے شماری میں تاخیر کرانے یا اُسے سرے سے نہ ہونے دینے کی غرض سےلمبی لمبی تقریریں کرائی جاتی ہیں۔ یہ طریقہٴ کار امریکی سینیٹ میں 150سال سے زیادہ عرصے سے رائج ہے۔ لیکن، جمعرات کو اس میں ترمیم کی گئی ہے۔

اِس کا خیرمقدم کرتے ہوئے، ’نیو یارک ٹائمز‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ سینیٹ میں 48 کے مقابلے میں 52 ووٹوں کی مدد سے واشنگٹن میں توازن اقتدار میں زبردست تبدیلی لائی گئی ہے، جس سے اس کے سب سے زیادہ اشتعال انگیز قاعدے میں ردّوبدل کردیا گیا ہے، اور موثّر طور پر عاملہ اور عدلیہ کی اسامیوں کے لئے نامزد افراد کے تقرّر پر فِلِبسٹر کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اور اگر کوئی سینیٹر، فلبسٹر کرنے کی کوشش کرے، تو ایوان کے ارکان کی سادہ اکثریت سے اس فلبسٹر کو روکا جا سکتا ہے۔

اس سے پہلے، 100 میں سے 60 کی اکثریت سے ایسا کرنا ممکن تھا، اور پانچ سال تک سینیٹ کے ریپبلکن ارکان مختلف سرکاری اسامیوں کے لئے صدر اوبامہ کے نامزد کردہ ہر طرح سے موزوں درجنوں امیدواروں کے تقرر میں اڑچن ڈالتے رہے ہیں۔

اور اخبار کے بقول، اُنہوں نے پورے پورے وفاقی اداروں کو اُن کے سربراہوں سے محروم کر کے انہیں ناکارہ بنانے کی کوشش کی۔ چنانچہ، اخبار کہتا ہے کہ جب ایوان کی اکثریت نے صدر کے نامزد افراد کی راہ میں روڑے اٹکانےکی اُن کی طاقت چھیننے کا منطقی قدم اٹھایا تو اُنہیں سخت غصّہ آیا اور انتقام لینے کی دھمکی دی۔

ڈیموکریٹک ارکان نے سادہ اکثریت کے بل بوتے پر یہ ترمیم کی ہے، جو ری پبلکن ارکان کے نزدیک قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن، اخبار کہتا ہے کہ یہ ترمیم اختیار کا مناسب استعمال تھا، جس کی بدولت سینیٹ فعال قانون ساز ادارہ بن گئی ہے۔

اس کے برعکس، قدامت پسند اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ سینیٹ میں اس نئی تبدیلی کے بارے میں لکھتا ہے کہ ایوان کے ڈیموکریٹوں نے یہ قدم اُٹھا کرمختلف اسامیوں کے لئے صدر کے نامزد امید واروں کے لئے فلبسٹر کا طریقہ ختم کرکے ری پبلکن اقلیّت کو ایوان میں اثرو نفوذ کے اہم ہتھیار سے محروم کردیا ہے، جس سے فیڈرل ججوں کی اسامیوں اور عاملہ کی اسامیوں کی اب سادہ اکثریت سے پُر کیا جا سکے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ قواعد بدلنے سے مسٹر اوبامہ کے امید واروں کے تقرر کے لئے تو راستہ ہموار ہوجائے گا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ نہ بھولنا چاہئیے کہ فِلِبسٹر ڈیموکریٹوں یا ری پبلکنوں کے لئے نہیں۔ بلکہ، اس کا تعلُّق اکثریت اور اقلّیت کے ساتھ ہے۔ اور اس کی وجہ سے جماعتی طرفداری کا ایک اور پِٹارا کُھل جائے گا، جس کے بعد ری پبلکنوں کو یقیناً یہ تحریص ہوگی کہ جب اُنہیں اس ایوان میں اکثریت حاصل ہوجائے، تو وُہ فلبسٹر کو یکسر ختم ہی کردیں۔

فلبسٹر پر ’بالٹی مور سن‘ اخبار کی یہ رائے ہے کہ ڈیموکریٹوں کو یہ قدم ججوں کی اسامی کے لئے اپنے نامزد امیدواروں کے لئے یہ قدم اُٹھانا پڑا ہےاور اخبار کا خیال ہے کہ یہ ملک کے لئے فائدے کی بات ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ، اخبار کہتا ہے کہ ڈیموکریٹ اکثریت کے لیڈر، ہیری ریڈ نے یہ ترمیم پیش کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ سینیٹ میں جب ری پبلکن ارکان کی اکثریت ہوگی، تو ججوں کے تقرر میں ڈیموکریٹوں کا اثرو نفوذ کم ہوگا۔

لیکن، جیسا کہ ریڈ نے کہا، یہ قدم ضروری تھا، کیونکہ سابقہ انتظامیوں کے دوران فلبسٹر کا استعمال یا تو سرے سے ہوا ہی نہیں، یا اگر ہوا بھی، تو بہت کم۔ لیکن، جب سے صدر اوبامہ بر سر اقتدار آئے ہیں، درجنوں فلبسٹر ہوئے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ صدر کے نامزد امید واروں کی موزونیت پر رائے شماری کرانے میں جب ری پبلکنوں نے روڑے اٹکائے، تو اس کے بعد ہی ڈیموکریٹوں کے لئے قواعد بدلنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔
XS
SM
MD
LG