رسائی کے لنکس

اخبار ’بوسٹن گلوب‘ کہتا ہے کہ، ’بُہت عرصے تک شیرون کا عقیدہ تھا کہ سفّاکی کا جواب سفّاکی سے دینا چاہئے۔ اور گیہوں کے ساتھ گُھن بھی پستا ہے۔۔۔‘

پچھلے ہفتے، اسرائیل کے ایک سابق وزیر اعظم ایریل شیرون کا 85 برس کی عمر میں آٹھ سال تک بے ہوش رہنے کے بعد، انتقال ہو گیا۔ اخبار ’بوسٹن گلوب‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ شیرون بعض لوگوں کے لئے ایک جنگی ہیرو تھے، اور باقی لوگوں کے لئے ایک جنگی مُجرم۔

اخبار کے مطابق، بُہت عرصے تک شیرون کا عقیدہ تھا کہ سفّاکی کا جواب سفّاکی سے دینا چاہئے۔ اور گیہوں کے ساتھ گُھن بھی پستا ہے، تو یہ عداوت کے ماحول میں رہتے ہوئے اسرائیل کی بقاٴ کے لئے ضروری ہے۔ چنانچہ، ء1953 ء میں، جنرل شیرون نے اُردن پر جس مذمُوم حملے کی قیادت کی تھی اُس میں مکانوں کے مکان بموں سے اُڑا دئے گئے، اور دیہاتیوں کو ہلاک کیا گیا۔

اسرئیل کے وزیر دفاع کی حیثیت سے اُنہیں لبنان کے پناہ گزین کیمپوں، عورتوں اور بچوں کے قتل عام کا ذمّہ دار ٹھہرایا گیا، جس پر اُنہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ لیکن، سنہ2001 میں، اُنہوں نے وزیر اعظم منتخب ہونے پر، لوگوں کو ورطہٴ حیرت میں ڈال دیا۔ اور اس حیثیت سے انہوں نے راستہ بدلنے کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے اور ڈرامائی طور پر امن اور مصالحت پر زور دیتے ہوئے، اتحادیوں کے ساتھ رشتے مستحکم کئے۔ پہلے، انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر یہودی بستیاں تعمیر کرنے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

لیکن، اب اُنہوں نے اسرائیلی سپاہیوں اور آباد کاروں کو غزہ اور مغربی کنارے میں قبضہ کی ہوئی زمین کو خالی کرنے کا حُکم دے دیا، جس سے شیروں کے سابقہ حلیفوں کو وحشت ہوئی۔ لیکن، ملک کی سیکیورٹی کے ساتھ ان کی وابستگی کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا تھا۔ اور اُن کا نیا موقّف اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ فوجی طاقت سے جو کُچھ حاصل کیا جا سکتا ہے، اُس کی بھی انتہا ہوتی ہے۔ لیکن، سنہ 2006 میں اُن کو جو دورہ پڑا، اُس کے بعد، شیروں کے ہاتھوں پائدار امن کا کوئی راستہ نکلنے کی اُمید ختم ہو گئی۔

اِس کے باوجود، اخبار کہتا ہے کہ انہوں نے اپنے طریقے بدل کر اور یہ حقیقت تسلیم کرکے مستقبل کے لیڈروں کے لئے مثال قائم کردی ہے کہ دو مملکتوں کے حل ہی کی بدولت اسرائیل کی سلامتی ممکن ہے۔

مصر میں ایک نئے آئین پر ریفرنڈم ہو رہا ہے، جس کے لئے ’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ فوج اور پولیس کی نفری ہزاروں کی تعداد میں متعیّن کی گئی ہے، تاکہ مخالفین اور جنگجؤوں کی طرف سے اس میں خلل ڈالنے کی کوشش کو ناکام بنایا جائے۔

ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے، قاہرہ کے ایک علاقے میں ایک دہماکہ ہوا، جس سے ایک عدالت کی عمارت کو نقصان پہنچا اور جانی نقصان بھی ہوا۔ اور، جس کا الزام اخوان المسلمین پر لگایا گیا ہے۔

عینی شاہدوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ووٹروں کو ترغیب دی جا رہی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں جنرل سِسی کے حق میں ووٹ ڈالیں۔ ووٹنگ کا آغاز تیونس کے ان واقعات کی تیسری سالگرہ پر ہو رہا ہے، جنہیں دُنیائے عرب میں آنے والی تبدیلی کی ابتدا کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اور جس میں صدر حُسنی مبارک کا تختہ اُلٹا گیا تھا۔ اسلام پسندوں کا اقتدار پر قبضہ ہوگیا تھا اور پھر پچھلے سال جولائی میں فوج نے اخوان المسلمین پار ٹی کے لیڈر، صدر مُرصی کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ اب جس نئے آئین یا چارٹر پر ووٹنگ ہو رہی ہے، وُہ ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق، سابقہ آئین سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ یہ آئین ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل مصری پارلیمنٹ نے، جس میں اسلام پسندوں کی اکثریت تھی، ایک کے مقابلے میں دو کے تناسب سے منظور کیا تھا۔

اُس وقت، ملک کے ووٹروں کی ایک تہائی نے اس میں شرکت کی تھی۔ اور اسے رواں ریفرنڈم کے لئے ایک مثال کہلایا جا سکتا ہے۔

نئے آئین میں مذہبی آزادی اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کی بڑے واضح الفاظ میں ضمانت دی گئی ہے، جب کہ سابقہ آئین کے برعکس، جس میں کہا گیا تھا کہ اسلامی قانون مصری عدالتی نظام کا اساس ہوگا، نئے مسوّدے میں اس کے بعض حصوں میں قطع و بُرید کی گئی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ فوج، پولیس اور عدلیہ کے اختیارات میں اضافہ کر دیا گیا ہے، اور یہ وُہ تین ادارے ہیں جنہوں نے مل کر صدر مُرصی کو اقتدار کی گدی سے اُتارا ہے۔

اور، اب کُچھ ذکر افغانستان میں وسیع پیمانے کی بد عنوانی کا۔ جو ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے بقول، دنیا کا سب زیادہ بدعنوان ملک ہے۔ شمالی کوریا اور صومالیہ بھی اسی شدّت کی بد عنوانی کا شکار ہیں۔

’ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل‘ ادارے کے بقول، افغانستان وُہ ملک ہے جہاں سرکاری کارندوں نے کروڑوں ڈالر خُرد بُرد کئے ہیں۔ اس کا بیشتر حصّہ، غیر ملکی امداد میں سے چُرایا گیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ وُہ ملک ہے جہاں زندگی کے ہر شعبے میں کرپشن کا دور دورہ ہے۔ اگرچہ، امداد دینے والے مغربی ملکوں نے انسداد ِرشوت ستانی کے پروگراموں اور بہت سے اداروں کو فنڈز مہیا کئے ہیں۔ بہت سے افغان ادارے نہ صرف رشوت خوری کو برداشت کرتے ہیں، بلکہ اُس کی کھُلے بندوں حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ مغربی امداد کی بدولت، افغان حکومت نے ملک کی تاریخ میں سب سے بڑی پولیس فورس قائم کی ہے، جس میں بڑے بڑے شہروں کی ٹریفک پولیس شامل ہے۔ پچھلے موسم خزاں پر ایک خودمختار افغان ادارے کی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ اُنسٹھ فیصد پولیس والے چیک پوسٹوں اور چُنگی سے رشوت کا مال کھاتے ہیں۔اور جن لیڈروں اور اداروں سے رشوت کے خلاف کاروائی کرنے کی توقع کی جاتی ہے، اخبار کے بقول، وُہ خود اس سے اپنی پتی حاصل کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG