رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: مصر فیصلہ کُن دوراہے پر


حسنی مبارک کا تختہ اُلٹے جانے کے تقریباً تین برس بعد، اخبار ’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون‘ کہتا ہے کہ عوامی احتجاج کے حق کو موثّر طور پر ختم کرنے کا جو نیا قانون مرتّب کیا گیا ہے، اُس سے لگتا ہے کہ حالات کسی اور سمت جا رہے ہیں

’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون‘ کہتا ہے کی صدر حسنی مبارک کا تختہ اُلٹے جانے کے تقریباً تین سال بعد مصر ایک چوراہے پر کھڑا ہے، اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وُہ جمہوریت کی طرف پیش قدمی کرے گا یا پھر واپس آمریت کی دلدل میں پھنس جائے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ نئے آئین پر اگلے دوماہ میں رائے شماری ہونے والی ہے، جب کہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات موسم گرما میں ہونگے، اور فوج کی پُشت پناہی سے قائم عبوری حکومت کا دعویٰ ہے کہ اُس نے ایک روڈمیپ تیار کرلیا ہے تاکہ سنہ 2011 کے انقلاب کے نصب العین سے جو انحراف کیا گیا تھا، اُس میں تصحیح کی جائے۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ عوامی احتجاج کے حق کو موثّر طور پر ختم کرنے کا جو نیا قانون مرتّب کیا گیا ہے، اس سے لگتا ہے کہ حالات کسی اور سمت جا رہے ہیں۔

عبوری صدر کے طرف سے جاری ہونے والے اس قانون کے تحت یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ دس سے زیادہ افراد جلسہ کرنا چاہیں تو حکومت کو اس کی پیشگی اطلاع دی جانی چاہئے، رات کو اور عبادت گاہوں کے قریب مظاہروں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کو درخواستیں مسترد کرنے کا مکمّل اختیار دیا گیا ہے۔ مصریوں کو اعتبار نہیں کہ یہ وزارت درخواستوں پر بلا تعصُّب غور کرے گی، اور اس قانون کی پیچیدگیوں کی بدولت درخواستیں منظور کرنے میں مہینوں گزارے جا سکتے ہیں۔

مصر میں سنہ 2012 کے بعد ریفرنڈم کے ذریعے آئین مرتّب کرنے کی یہ دوسری کوشش ہے۔ چنانچہ، احتجاجوں کو روکنے کے لئے، اس قانون کا نفاذ کوئی اتفاقی امر نہیں ہے۔

اخبار کے بقول، اس کا مقصد سول سوسائٹی اور نوجوانوں کی تنظیموں کی طرف سے آئین سازی میں متوقع اختلاف رائے کا گلا گھونٹنا ہے۔

جس طرح مسلّح افواج کی سپریم کونسل کی قیادت کے تحت اور معزول صدر محمد مرصی کے تحت ہوا کرتا تھا، اُسی طرح فوجی پشت پناہی سے قائم موجودہ حکومت کے فیصلے بھی بند کمرے میں ہوتے ہیں، اور باوجودیکہ عوام کو مشورے دینے کی دعوت دی جاتی ہے، حکومت اُنہیں مکمل طور پر نظرانداز کرتی آئی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ پچھلے ہفتے وسطی قاہرہ میں 200 مظاہرین شُوریٰ کونسل کے سامنے احتجاج کرنے کے لئے جمع ہوئے، تو پولیس نےان کا استقبال آنسُو گیس اور فائر ٹرکوں سے اُن پر پانی پھینک کر کیا، اور درجنوں افراد کو گرفتار کیا، جن میں سے بہت سے ابھی تک زیر حراست ہیں۔ ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔ اسکندریہ میں خواتین مظاہرین کو احتجاج کرنے کی پاداش میں گیارہ گیارہ سال قید کی سزا سُنائی گئی ہے۔

اُدھر ’نیو یارک ٹائمز‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ ہے جس کے مطابق فرقہ وارانہ اور قبائیلی تشدّد نے مشرق وسطیٰ کے پورے خطّے میں جہادی تنظیموں کو پھلنے پھولنے کے نئے مواقع فراہم کئے ہیں، اور انٹلی جنس اور انسداد دہشت گردی سے وابستہ امریکی عہدہ داروں نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ القاعدہ سے وابستہ عسکریت پسند شام میں اڈّہ قائم کر سکتے ہیں، جہاں سے وہ اسرائیل اور یورپ کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ یہ خطرہ مغرب میں مالی اور لیبیا سے لے کر مشرق میں یمن تک پھیلا ہوا ہے۔

اور جیسا کہ القاعدہ کے لیڈر ایمن الزواہری نے اس سال اپنے پیغامات میں اس کا اشارہ دیا ہے، وُہ اس قسم کے حملے کے لئے شام کی سرزمین کو موزوں سمجھتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں اور امریکی عہدہ داروں کے حوالے سے اخبار کہتا ہے کہ اس افراتفری کی وجہ سے اوبامہ انتظامیہ پر زیادہ سرگرم کردار ادا کرنے کے لئے دباؤ پڑ سکتا ہے، تا کہ بشار الاسد کی حکومت سے بر سر پیکار تنظیموں کی طرف سے ایسے خطروں کا سدّباب کیا جائے، اور اس کےلئے، بقول تجزیہ کاروں کے، اسد کی بے دردانہ لیکن سیکیولر حکومت کے ساتھ مفاہمت کی کوئی صورت نکالنی پڑے گی۔ کہنہ مشق سفارت کار، راین کراکر کا کہنا ہے کہ ہمیں انسداد دہشت گردی اور دوسرے مشترکہ تشویشناک امور پر اسد حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اس سال یمن میں اگر ایک طرف امریکی ڈرون حملوں میں مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف، القاعدہ سے وابستہ مقامی تنظیم نے قطر اور یمن کی حکومتوں سے یورپی یرغمالوں کی رہائی کے عوض دو کروڑ ڈالر کا تاوان حاصل کیا ہے۔ اور امریکی اور یمنی عہدہ داروں کے مطابق، اس رقم کی بدولت یہ تنظیم سالہا سال تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہے، اور امریکی عہدہ داروں کے مطابق، یمن کی یہ تنظیم ، لبنان میں جہادی تنظیموں، صحرائے سینا کے جنگجؤوں کے ساتھ برابر رابطے میں ہے۔ مصر کی فوجی حکومت کی اُنہیں دبانے کی کوششوں کے باوجود، وہ لوگ مزاحمت کر رہے ہیں اور ان کے پاس طاقتور نئے ہتھیار ہیں، اور اسی قسم کے دوسرے انتہا پسند گروہ بر اعظم افریقہ میں اپنی سرگرمیاں جار ی رکھے ہوئے ہیں۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کہتا ہے کہ نیپال کے نئے انتخابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ماؤسٹوں کی مقبولیت بُہت زیادہ گر گئی ہے، اور کامیاب پارٹیوں میں اس کا نمبر تیسرا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پارٹی کے باغیوں کو جو ایک وقت ہردلعزیز ہوا کرتے تھے، پہلے جیسی حیثیت حاصل نہیں رہی۔ مرکز کی طرف جّھکاؤ رکھنے والی نیپالی کانگریس کو کل 24 لاکھ ووٹ اور کہ کمیونسٹ پارٹی نیپال کو 22 لاکھ ووٹ ملے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ماؤسٹ پارٹی کو صرف 14 لاکھ ووٹ ملے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ اب امید پیدا ہو گئی ہے کہ دو بڑی پارٹیوں کے درمیان بڑے بڑے متنازعہ امور پر سمجھوتہ ہو جائے گا اور ایک قومی آئین مرتّب کرلیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG