رسائی کے لنکس

’مصر میں جو آئین اپنایا جانے والا ہے، اُس کی وجہ سے پچھلے سال کے فوجی انقلاب کے لئے، عملی طور پر جواز فراہم کیا جا رہا ہے، اور اس کی مدد سے، اُسی آمرانہ طرز حکومت کو تقویت پہنچائی جا رہی ہے، جس کو ہٹانےکے لئے سنہ 2011 کا آئین مرتب ہوا تھا‘: نیو یارک ٹائمز

اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ ایک آئین حکومت چلانے کے اُن اصولوں کا ایک مجموعہ ہوتا ہے، جن کی بنیاد پر شہری متحد ہوتے ہیں اور ایک جمہوری ریاست کی پُرامن طریقے سے تعمیر کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے، تیونس اس مقصد کے حصول کے لئے ایک تعمیری راستے پر گامزن ہے۔

لیکن، اخبار کو اس بات پر افسوس ہے کہ مصر میں جو آئین اپنایا جانے والا ہے، اُس کی وجہ سے پچھلے سال کے فوجی انقلاب کے لئے، عملی طور پر جواز فراہم کیا جا رہا ہے، اور اس کی مدد سے، اُسی آمرانہ طرز حکومت کو تقویت پہنچائی جا رہی ہے، جس کو ہٹانےکے لئے سنہ 2011 کا آئین مرتب ہوا تھا۔

مصر کے آئین سے فوج کو اقتدار کے ساتھ ساتھ کسی جواب دہی سے استثنیٰ بھی دیا جا رہا ہے۔ اور ایسا لگ رہا ہے کہ ملک کے وزیر دفاع اور سب سے اعلیٰ فوجی افسر عدالفتح السِسی کے لئے صدر کے عہدے کے لئے انتخاب لڑنے کے لئے راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، تیونس کی دستور ساز اسمبلی جو آئین منظور کرنے والی ہے، اُس کا دنیائے عرب کے سب سے لبرل آئینوں میں شمار ہوگا۔

سنہ2011 میں صدر زین العابدین کی آمرانہ حکومت کا تختہ اُلٹے جانے کے بعد، تیونس میں ایک جمہوریت نواز نتیجے ہی کی توقّع تھی۔ اس ملک کی آبادی مصر کی آبادی کے آٹھویں حصّے کے برابر ہے۔ اور اس کے یورپ کے ساتھ قریبی تعلّقات ہیں، اس ملک نے سابقہ حکمرانوں سے سیاسی انتقام لینے سے احتراز کیا ہےاور اُس کی فوج پر سول حکام کا کنٹرول قائم رہا ہے۔

اس سے پہلے، وہ بھی سیاسی قتل و غارت اور اقتصادی بُحران کے تاریک دور سے گُذر چکا ہے۔ لیکن، پچھلے ماہ حکومت اور اُس کی سیکیولر حزب اختلاف کے درمیان ایک سمجھوتے کے بعد، نگران وزیر اعظم مقرر ہوا۔ آئین میں یہ شق شامل کی گئی کہ تیونس ایک اسلامی ملک ہوگا۔ لیکن، اسلامی قانون کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ زیادہ لبرل جمہوری پارٹیوں نے آئین میں یہ ضمانتیں شامل کرائیں کہ تیونس سول مملکت بنا رہے گا، اور اس میں وہ تمام آزادیاں اور حقوق میسر ہونگے، جو ایک جمہوری ملک کی پہچان ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس، ’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ مصر کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ باوجودیکہ ہزاروں ووٹروں نے ریفرنڈم میں شرکت کی۔ لیکن، اس عمل کو کسی اعتبار سے آزادانہ یا منصفانہ نہیں مانا جا سکتا۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ ہے کہ تعلیم نسواں کے بارے میں افغان طالبان میں یکسر تبدیلی آئی ہے۔

اخبار نے یاد دلایا ہے کہ جب 1990 ء کی دہائی میں، وُہ برسر اقتدار تھے، انہوں نے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ اُس وقت، ملّا وکیل احمد متوکّل طالبان کے وزیر خارجہ ہوتے تھے۔ لیکن، اخبار کہتا ہے کہ انہیں متوکّل صاحب کی بیٹی اب کابل کے ایک سکول میں پڑھتی ہے۔ اس سکول کا قیام بھی متوکّل کا مرہون ِمنت ہے، جس میں ڈھائی سو لڑکیاں اور لڑکے داخل ہیں۔ اس سکول کے بانیوں میں ملّا عبدالسّلام ضعیف بھی ہیں۔ جو پاکستان میں طالبان کے سفیر ہو کرتے تھے۔ سنہ 2001 ءمیں طالبان کا تختہ اُلٹے جانے کے بعد متوکل کئی سال جیل میں رہے، اب وہ اور ضعیف دونوں حکومت کی نگرانی میں کابل میں رہتے ہیں۔ اور دونوںملّا عمر کی قیادت کو اب بھی مانتے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ پچھلے چند سال کے دوران طالبان نے اپنے بارے میں، عام تاثر کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اور اپنے بیانوں میں طالبان نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ بھی تعلیم نسواں کے حامی ہیں، بشرطیکہ یہ تعلیم، بقول ان کے، اسلامی ماحول میں دی جائے۔ اور مسٹر متوکل اور ان کے سابق طالبان ساتھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کابل میں ان کا یہ سکول یہی ماحول فراہم کرتا ہے۔ اور یہ ان سکولوں کا ایک نمونہ ہے جو باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں ہونگے۔

مسٹر متوکل نے اخبار کو بتایا کہ اس افغان سکول کے قیام کا مقصد جدید سکولوں اور مدرسوں کے فرق کو ختم کرنا ہے۔ اس میں، لڑکیاں اور لڑکے الگ الگ عمارتوں میں زیر تعلیم ہیں اور مذہبی تعلیم نصاب کا ایک اہم حصّہ ہے۔ لیکن، اس میں انگریزی بھی پڑھائی جاتی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اس سکول کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اسے افغان حکومت اور طالبان ایک ماڈل سکول کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور افغانستان کی وزارت تعلیم اس کو کابل کے بہترین سکولوں میں شمار کرتی ہے۔
XS
SM
MD
LG