رسائی کے لنکس

’واشنگٹن پوسٹ‘ کا کہنا ہے کہ تشدّد ایک قابل مذمّت فعل ہے۔ لیکن، یہ بھی ظاہر ہے کہ مصر کی فوجی حکومت اسے اخوان المسلمین کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ یہ اسلام پسند تنظیم کئی عشروں تک گمنامی میں رہنے کے بعد ایک دھڑلّے سے سیاست میں اُبھری ہے

مصر میں پہلی مرتبہ آزاد انتخابات میں منتخب ہونے والے صدر محمد مرصی کی حکومت کا تختہ اُلٹے جانے کے بعد، اخوان المسلمین کے خلاف فوجی حکومت نے جو سنگین قدم اُٹھائے ہیں، ’انٹرنیشنل نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق، اُنہیں اور کڑا کر دیا گیا ہے اور ملک کے نئے لیڈروں نے اس بات کا واضح اشارہ دیا ہے کہ اُنہوں نے اخوان کی ہر قسم کی سرگرمیوں کے خلاف ایک طویل جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔

فوجی حکومت نے اس تنظیم کو بیرونی ملکوں سے آنے والی امداد سے اور ملک سے باہر پناہ لینے سے بھی محروم کرنے کے لئے قدم اُٹھائے ہیں اور عرب حکومتوں سے درخواست کی ہے کہ وُہ انسداد دہشت گردی کے معاہدوں کا احترام کرتے ہوئے، اس تنظیم سے کسی قسم کا واسطہ نہ رکھیں۔

اِن فیصلوں کا نزلہ جن اداروں پر پڑا ہے، اُن میں سنہ 1970 کی دہائی میں قائم کی گئی ’اسلامی میڈیکل ایسوسی ایشن‘ شامل ہے۔ اس کے ملک بھر میں کئی اسپتال ہیں، جہاں سالانہ بیس لاکھ تنگدست بیماروں کا علاج ہوتا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اخوان کے خلاف جو 80 سال سے ملک میں سرگرمِ عمل ہے حکومت کو وُہ مہم چلانے میں دُشواریاں پیش آ رہی ہیں، جس میں اخوان کو بنیادی طور پر ایک ایسی غیر ملکی تنظیم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس کے عزائم دہشت گردانہ ہیں۔ لیکن، جیسا کہ اخبار کہتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس تحریک کے ارکان کی مصر کی اقتصادی اور معاشرتی زندگی میں گہری جڑیں ہیں اور سنہ 2011 کی عوامی تحریک کے بعد، جمہوری انتخابات میں وُہ سب سے زیادہ کامیاب قوّت کی حیثیت سے اُبھری تھی۔

اخبار کہتا ہے کہ اس تنظیم پر دہشت گردی کا الزام لگنے کے بعدپولیس نے شرقیہ صوبے میں اخوان کے 16 حامیوں کو دہشت گرد تنظیم کی رکنیت کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ اس جرم کی سزا پانچ سال قید ہے۔ لیکن، ان کو پھانسی کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ ملک کے متعدّد شہروں میں گرفتاریاں کی گئی ہیں، جبکہ اخوان نے مظاہرے جاری رکھے ہیں۔

مصر کی صورت حال پر ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے ایڈیٹوریل بوررڈ نے ایک خصوصی ادارئے میں کہا ہے کہ دنیائے عرب میں جمہوریت کی تحریک تین سال قبل شروع ہوئی تھی۔ اِس کے بعد، آمرانہ حکومتوں کے خلاف بغاوت کی ایسی روک کا آغاز ہوا تھا، جس سے یہ اُمّید پیدا ہو گئی تھی کہ جمہوریت سے محروُم اس خطّے میں نمائندہ حکومتوں کا قیام ممکن ہوجائے گا۔

لیکن جیسا کہ اخبار کہتا ہے، پچھلے ہفتے کے واقعات سے ظاہر ہے کہ مصر نے جمہوریت کی راہ سے مُنہ موڑ لیا ہے، اور یہ ایک ایسا سانحہ ہے، جس کے امریکہ کے لئے سنگین مضمرات ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ سب سے نقصان دہ بات بُدھ کو ہوئی، جب مصر کی عبوری حکومت نے یہ اعلان کہ وُہ اخوان المسلمین کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رہی ہے، یہ قدم منصُورہ شہر میں ایک بم دہماکے کے بعد اُٹھایا گیا، جس میں 15 افراد ہلاک اور 100 زخمی ہوئے تھے۔ اور حکام نے بغیر کسی ثبوت کے اس کے لئے اخوان المسلمین کو ذمّہ دار ٹھہرایا، جس نے اس دہماکے کی مذمّت کی تھی اور ایک جہادی تنظیم، انصار بیت المقدِس نے اس کی ذمہ داری قبو ل کی تھی۔

اخبار کہتا ہے کہ تشدّد ایک قابل مذمّت فعل ہے۔ لیکن، یہ بھی ظاہر ہے کہ مصر کی فوجی حکومت اسے اخوان المسلمین کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔یہ اسلام پسند تنظیم کئی عشروں تک گمنامی میں رہنے کے بعد ایک دھڑلّے سے سیاست میں اُبھری ہے، اور جون سنہ 2012 میں اس کے سابق لیڈر محمد مرصی، ملک میں جمہوری عمل کے ذریعے منتخب ہونے والے پہلے صدر بن گئے۔ لیکن، اس عہدے پر ناقص کارکردگی کے بعد، مسٹر مرصی کو جولائی میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد سے احتجاجی مظاہروں کے دوران اخوان کے بیسیوں ارکان کو ہلاک کیا گیا ہے۔ پارٹی کے بیشتر لیڈروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اور اب اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے سنگین نتائج نکلیں گے، اور اخوان سے وابستہ سینکڑوں خیراتی ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں بند ہو جائیں گی۔ یہ پیچھے کی طرف جانے والا اتنا بڑا قدم ہے کہ اس سے وسیع سماجی تحریک کے ساتھ عداوت میں اضافہ ہوگا۔

اخبار کہتا ہے کہ مصری کابینہ کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص، جو اخوان میں شمولیت اختیار کرےگا، یا اس میں اپنی رکنیت برقرار رکھے گا، یا اس کی سرگرمیوں میں شرکت کرے گا، اس کو سزا دی جائے گی۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کہتا ہے کہ مصر ِامریکہ کا ایک قریبی اتّحادی او ر اس خطے میں استحکام کا ایک کلیدی ستون رہا ہے۔ لیکن، وقت آگیا ہے جب امریکہ کو زیادہ سختی کے ساتھ احتجاج بھی کرنا چاہئے اور کاروائی بھی۔ کمزوری کا مظاہرہ کرنے سے ظلم میں اور اضافہ ہو جائے گا۔

اخبار ’بوسٹن گلوب‘ میں 72 سالہ امریکی وارن وائن سٹائن کی تصویر چھپی ہے اور اوبامہ انتظامیہ کے نام یہ اپیل بھی کہ اُسے القاعدہ کی قید سے نجات دلائی جائے۔ اس کے ساتھ 13 منٹ کا ایک وڈیو بھی ہے جس میں وہ کہتے ہیںِ کہ میں نو سال قبل پاکستان آیا تھا، تاکہ اپنے ملک کے کام آؤں۔ اس وقت کوئی اور امریکی یہاں آنے کے لئے تیار نہ تھا۔ لیکن، اب جب مجھے اپنی حکومت کی ضرورت ہے۔ مجھے بھلا دیا گیا ہے۔ یہ وڈیو پاکستان میں رپورٹروں کو بھیجا گیا تھا جس میں وائن سٹائن نے امریکی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی رہائی کے لئے القاعدہ سے مذاکرات کرے۔ القاعدہ نے کہا ہے کہ وائن سٹائن کو اس شرط پر چھوڑا جا سکتا ہے، اگر افغانستان، پاکستان اور یمن پر ڈرون حملے بند کئے جائیں اور دنیا بھر میں القاعدہ اور طالبان کے قیدیوں کو رہا کیا جا ئے۔

اخبار کے بقول، وہائٹ ہاؤس نے وائن سٹائین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ القاعدہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔
XS
SM
MD
LG